زندان از نیہا ملک

0
پلیز آہل پلیززززز……
وہ اپنی نیلی آنکھوں میں معصومیت سموئے اسکی منت کرنے لگی۔
پری مجھے تنگ مت کرو اور میں تم سے ناراض ہوں تم شاید یہ بات بھول گئ ہو۔
آہل نے ہاتھ میں پکڑی کتاب کو میز پر پٹخا۔
یار دیکھو اس میں ناراض ہونے والی کوئ بات نہیں ہے۔تمھیں پتا ہے سیگریٹ صحت کے لیئے کتنی خراب ہے اگر میں نے تمھاری سیگریٹ پینے کی عادت کے مطالق خالہ جان کو آگاہ کر دیا تو اس میں خفا ہونے والی کون سی بات ہے۔
پریہان نے معصومیت سے اپنے آپ کو بری الزمہ کیا۔
ہاں اور تمھاری اس حرکت سے امی کے ہاتھوں جو میری شامت آئی اسکا کیا۔
آہل نے خفگی سے کہا۔
اچھا سوری اب پلیز میری مدد کردو۔
پریہان نے کان پکڑ کر کہا۔
بولو کیا مدد چاہیئے۔
آہل نے احسان کیا۔

 

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: