وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر از عمران لیاقت

0
پچھلے پچیس منٹ کے مختصر دورانیے میں اس نے بِلا مبالغہ چھٹی بار پاس پڑا موبائل اٹھا کر وقت دیکھا تھا. اس کی بے چینی حد سے سِوا تھی اور وہ بڑی شدت سے پاکستان سے آنے والی متوقع فون کال کا منتظر تھا. آخری بار جب اس کی اپنے چھوٹے بھائی علی سے بات ہوئی تھی تو اس نے اسے ” بھائی جان آ
پ فکر نہ کریں. ہم سب ہیں نہ یہاں ” کہہ کر دلاسہ دیا تھا. صرف یہی نہیں اس کے سب گھر والے باری باری اور وقتاً فوقتاً اسے کل رات سے تسلیاں دے رہے تھے. اس کی پریشانی بھی اپنی جگہ بجا تھی . ایک تو وہ گھر سے ہزاروں میل دور دیارِغیر میں بیٹھا تھا جس کی وجہ سے ‘ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ‘ والا معاملہ بنا ہوا تھا. دوسرے اخبارات اور میڈیا میں آئے روز کتنی ہی دل دہلا دینے والی خبریں سننا معمول بن چکا تھا. مہنگے ترین نجی ہسپتالوں میں بھی ڈاکٹروں کی ”مبینہ غفلت” اور معاون عملے کی نا تجربہ کاری کے کتنے ہی قصے کوئی سنی سنائی بات نہیں تھی.

 

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: