پریشے از نازیہ شازیہ

0
“ارے پریشے اتنی تیزی سے کہاں بھاگی جا رہی ہے؟؟”
علیزہ جھنجھلاتے ہوئی بولی
“ارے یار آپا آتی ہوں ابھی ذرا عائشہ کے گھر سے ہو آؤں”
یہ کہتے ہی پریشے گھر سے باہر نکل گئی
“بھیا یہ نہیں سدھرنے والی”علیزہ اپنے پیر پٹختی ہوئی باورچی کھانے میں چلی گئی ،مگر عائشہ کے گھر جانے کی بجاۓ اس نے اپنا رخ بازار کی طرف کر لیا
بازار میں لوگوں کی چہل پہل اور گہما گہمی عروج پر تھی کیوں کے عید الاضحی کو صرف پندرہ دن رہ گئے تھے
پریشے beauty shop میں داخل ہو گئی جہاں عورتوں کا رش لگا ہوا تھا
“ارے بھیا یہ fairness کریم کتنے کی ہے ؟؟”،پریشے مسکراتے ہوئے بولی
“ویسے تو 400 کی ہے پر تجھے 200 کی دوں گا”کامی نے جواب دیا
“کامی اب کیا تو مجھ سے بھی پیسے لے گا ؟؟” پریشے کا لہجہ ذرا غصیلہ تھا
“ارے میری پری تو ناراض کیوں ہوتی ہے ،چل تو بھی کیا یاد کرے گی تجھے یہ کریم مفت دی” کامی پریشے کو منانے کی کوشش کر رہا تھا

 

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: