Fizza Batool سلسلہ وار ناولز

Muhabbat Aisa Dariya Hai Novel By Fizza Batool – Complete Novel

Muhabbat Aisa Dariya Hai Novel By Fizza Batool
Written by Peerzada M Mohin
محبت ایسا دریا ہے از فضہ بتول

–**–**–

یونیورسٹی کا پہلا دن اور وہ بھی اکیلے (کسی جانی پہچانی صورت یا دوست کے بغیر).. ابیہا کاظم کے ہاتھ پاؤں پھلانے کیلئیے محض یہ خیال ہی بہت کافی تھا گوکہ آپی نے اسکی کافی ہمت بندھائی تھی لیکن وہ ابیہا ہی کیا جو مجمع میں آکر جی بھر کے نہ گھبرائے. ابو اسے یونیورسٹی کے گیٹ پہ اتار کر چلے گئے تھے اور وہ لرزتے قدموں کے ساتھ اس گیٹ کو پار کر کے اندر بھی آچکی تھی. لیکن اب وہ مین ایڈمن بلاک کے ایک طرف سمٹی سمٹائی سی کھڑی بالکل کسی ایسے الو کیطرح چندھیائی ہوئی آنکھوں سے گردونواح کا جائزہ لے رہی تھی جسے اجالے میں لاکر بٹھا دیا ہو… سیاہ بڑی سی چادر میں لپٹی ہوئی وہ سانولی سلونی سی لڑکی کاندھے پہ سیاہ عام سا بیگ ڈالے بار بار چادر کا کونا پیشانی تک کھینچتے ہوئے پریشان سی صرف یہ سوچ رہی تھی کہ اسکا ڈیپارٹمنٹ کس طرف ہے. کچھ ہمت کرکے اس نے قدم آگے بڑھائے. کچھ دیر ادھر سے ادھر چکرانے کے بعد وہ پھر ایک جگہ رک گئی. اسے سمجھ نہ آرہی تھی کہ وہ کیا کرے. بےفکرے نوجوان لڑکے لڑکیاں ادھر سے ادھر چکراتے پھر رہے تھے لیکن کسی نے بھی رک کر اس پریشان سی لڑکی کی طرف توجہ نہ دی تھی.. قریب تھا کہ وہ مارے گھبراہٹ کے رو پڑتھی ایک نرم اور مہربان سی آواز اسکے قریب ہی ابھری تھی.
“مے آئی ہیلپ یو¿”
ابیہا نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا. ایک الٹرا ماڈرن اور اسٹائلش سی بہت خوبصورت لڑکی اسکے سامنے کھڑی اس سے پوچھ رہی تھی. اسکے چہرے پہ نرم سی مسکراہٹ تھی.
“جی..” مری مری سی آواز ابیہا کے حلق سے نکلی.
“نیو کمر ہو¿” لڑکی نے پوچھا. ابیہا نے اثبات میں سر ہلایا.
“کس ڈیپارٹمنٹ کی ہو¿’
” جیوگرافی” ابیہا نے سر جھکاکر ایسے جواب دیا جیسے اپنے کسی جرم کا اعتراف کررہی ہو.
“آئی سی.. تو یہاں کیوں کھڑی ہو¿” لڑکی نے سر کو خفیف سی جنبش دے کرپوچھا.
“ڈڈ..ڈیپارٹمنٹ نہیں مل رہا.” ابیہا ہکلائی. لڑکی نے ایک نظر اسکے فق چہرے کیطرف دیکھا اور ایک نگاہ اسکے عقب میں بنے ڈیپارٹمنٹ پہ ڈالی جہاں واضح طور پر جیوگرافی ڈیپارٹمنٹ لکھا ہوا نظر آرہا تھا.
“یہ تمہارے پیچھے ہی تو ہے جیوگرافی ڈیپارٹمنٹ.” اس نے ہاتھ سے اشارہ کرکے کہا. ابیہا نے بے اختیار مڑ کر دیکھا اور بے طرح جھینپ گئی.
“بائے داوے میں روحینہ ہوں.کیمسٹری میں ماسٹرز کر رہی ہوں. سیکنڈ لاسٹ سمسٹر ہے میرا.” لڑکی نے اپنا نازک سا سپید ہاتھ اسکی جانب بڑھا کر اپنا تعارف کروایا تھا. ابیہا نے کچھ جھجھکتے ہوئے اس سے ہاتھ ملایا
“تمہارا نام کیا ہے¿” روحینہ نے پوچھا.
“ابیہا.” وہ جواباً مدھم لہجے میں بولی. خوبصورت اور با اعتماد روحینہ کے سامنے اسے اپنا آپ بہت بودا سا لگنے لگا تھا.

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Last Episode 10

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz

Leave a Reply

%d bloggers like this: