ماہ محبت از کرن رفیق

0
یہ صبح نجانے کتنے لوگوں کی زندگی بدلنے والی تھی ۔۔۔ ایک طرف خان ہائوس کے مکین تھے جو ابھی ابھی جوان اولاد کو موت سے نڈھال تھے تو دوسری طرف خوش بخت کے گھر کے مکین تھے۔۔۔ جو آج جرگے کے فیصلے کے منتظر تھے۔۔۔
صبح کے نو بجے جرگے کی کاروائی شروع ہوئی تھی۔۔۔
دونوں طرف سے دلائل دئیے گئے۔۔ لیکن دلاور خان کی طرف سے دلائل کے مضبوطی خوش بخت کی برطرف سے دئیے گئے تمام دلائل کو مات دے گئی تھی۔۔ تو گویا ایک اور فیصلے کا اختتام ونی پر ہوا تھا۔۔۔ خوش بخت کو ایک گھنٹہ دیا گیا تھا اپنی بیٹی کو جرگے میں لانے کا جبکہ دلاور خان نے اپنے ایک ملازم کو اکثم کو بلانے کا حکم دیا تھا۔۔۔
بخت خدا کا واسطہ ہے کوئی اور راستہ نکالو۔۔۔ میری معصوم سی بچی ہے وہ۔۔ اسے تو دنیا کا پتہ ہی نہیں ہے ۔۔۔ جانتے ہو نا پانچویں کے بعد میں نے اسے سکول جانے سے روک دیا تھا۔۔۔ اس کی معصومیت کو اتنے سالوں سے بچا رہی ہوں میں بخت وہ لوگ تباہ کر دیں گے میری بچی کو۔۔۔ ہم یہاں سے بھاگ جاتے ہیں۔۔۔

 

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: