کسی اور کا ہوں فی الحال از سہیرا اویس

0
اس کے چہرے پر پڑنے والے۔۔ تقی کے۔۔زور دار تھپڑ نے۔۔جہاں اس کے ملائمت سے مزین چہرے پر اپنی سخت انگلیوں کے نشان گاڑھے تھے۔۔وہیں اس کو اندر تک دہلا دیا تھا۔۔
اسے تقی سے ایسے رسپانس کی قطعاً کوئی توقع نہیں تھی،
تھپڑ پڑنے کی تکلیف اور ہتک کے احساس سے اس کی آنکھوں سے آنسو ابل پڑے۔۔۔
اور ساتھ ہی اسے تقی کے غضب سے خوف آنے لگا۔۔
اس نے آج تک اسے اتنا غضب ناک نہیں دیکھا۔۔
اس نے پھاڑ کھانے والے لہجے میں نداحل کو مخاطب کیا۔۔
“شرم نہیں آئی تمہیں۔۔؟؟؟
ذرا شرم نہیں آئی۔۔مجھ سے یہ سب کہتے ہوئے؟؟
ارے کچھ تو لحاظ کر لیتیں۔۔ اپنی اور میری عمر کا۔۔
کچھ تو مان رکھ لیتیں۔۔میرے اور تمہارے رشتے کا۔۔
بہن کا درجہ دیتا آیا تھا میں تمہیں۔۔پر اب نہیں دوں گا۔۔
کیونکہ تم اس کے لائق ہی نہیں ہو۔۔!!

 

 

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: