جستجو تھی خاص کی از یسرا شاہ

0
” میرے سر پر سوار کھڑی کیا کر رہی ہو؟؟ جاؤ جاکر ناشتہ بناؤ زندگی عذاب کردی ہے۔۔ “ میں غصّے سے بڑبڑاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ جبکے میری بیوی رابیل ” جی “ کہ کر کچن میں ناشتہ بنانے چلی گئی۔ رابیل میری بچپن کی منگیتر تھی جس سے میں جوانی تک چڑتا تھا اور امید ہے بڑھاپے تک یہی حال رہے گا۔ میں خود پر افسوس کرتا غصّے سے بڑابڑاتا نہانے چلا گیا۔۔
رابیل میرے سب سے چھوٹے چچا کی اکلوتی بیٹی ہے وہ چچا جنہوں نے خاندان میں شادی کرنے کے بجاے اپنی کلاس فیلو سے شادی کی اور آج تک میں اپنے سگے چچا کو دنیا کا سب سے بڑا گدھا سمجھتا ہوں جنہوں نے اپنی خوبصورت پھوپی زاد کو ٹھکرا کر ایک سانولی لڑکی سے شادی کی جس کی بدولت رابیل جیسا عذاب میرے سر پر سوار ہوا۔ کیا ہوتا اگر پھوپی زاد سے شادی کرلیتے کم سے کم ایسی سانولی اولاد تو نا ہوتی آج تک میں اپنی غلطی ماننے کے بجائے انھیں ہی قصوار سمجھتا ہوں حالانکہ امی نے مجھ سے پوچھ کر یہ رشتہ جوڑا تھا لیکن اس وقت میں نویں کلاس کا طالب علم تھا پتا نہیں بیٹھے بیٹھائے بڑوں کو کیا سوجھتا جو ایسی فضول سوچیں لاکر بچوں کی جوانی تباہ کر دیتے اور میں وہی گدھا پاگل جس نے بنا سوچے سمجھے ماں باپ کی نظر میں اپنا نمبر بڑھانے کے لیے ” ہاں “ کر دی لیکن امی ابو کے چہرے سے ہی لگ رہا تھا منع کرتا تب بھی انہوں نے رشتہ یہیں کرنا تھا آخر حکم میری دادی کا جو تھا۔۔

 

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: