Riaz Aqib Kohler سلسلہ وار ناولز

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Complete Novel

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر

–**–**–

رشتا طے ہونا اتنی بڑی خوش خبری تھی کہ وہ ساری رات سو نہیں سکا تھا ۔خوابوں کی ان دیکھی شہزادی اس کی زندگی میں بہار بن کر آنے والی تھی ۔یہ رشتا اس کی ماں کی کوششوں کا نتیجا تھا۔اور پھر اگلے دن وہ اس زبانی کلامی رشتے کو منگنی کی زنجیرپہنانے پہنچ گئے ۔جانے کتنی دیر تک وہ منہ پر صابن رگڑتا رہا، لیکن پوری ٹکیا گھلانے کے بعد بھی چہرے کی کالک کو دور نہ کر سکا جو رب نے اس کے نصیب میں لکھ دی تھی۔من جتنا بھی صاف ہو خلق نے تو ظاہر دیکھنا ہوتا ہے ،جو وہ کسی کو دیکھانے کے قابل نہیں تھا۔اگر وہ ایتھوپیا کا باشندہ ہوتا تو رشتوں کی لائن لگ جاتی مگریہ پاکستان تھا اورسفید رنگت اس قوم کی کمزوری ہے ۔

اس کی ماں کی مسلسل بھاگ دوڑ اور منت سماجت کے بعد کہیں ہاں ہوئی تھی۔ مزدور گھرانا تھا،لیکن یہ بات اس کے لےے کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔اسے تو بس شریک حیات چاہےے تھی۔گو خواب تو وہ بھی ان لڑکیوں کے دیکھتا تھا جن کے ملنے کا وعدہ ہر مومن سے کیا گیا ہے ، مگر ان کی موت کے بعد۔ اس میں بڑی رکاوٹ تو زندگی ہے، جبکہ ہر کوئی مرنے سے پہلے اس قسم کی لڑکی کا خواہاں ہوتا ہے ۔ جو حور کا نعم البدل ہو ۔

بہ ہر حال وہ لڑکپن کے سپنے تھے۔اب وہ بھرپور جوان تھا …. جوان بدن کے تقاضے انسان کو کسی قابل نہیں چھوڑتے ، جواں مرد کو عورت چاہےے ہوتی ہے چاہے وہ کیسی شکل کی بھی ہو۔

رکشے سے اتر کر وہ ماں کی رہنمائی میں چل پڑا ۔وہاں گلیوں کی حالت بھی ان کے محلے سے مختلف نہیں تھی ۔وہی گندگی ابلتے گٹر ،نالیوں میں بہتا بدبودار پانی ،ٹین اور لکڑی کے ٹوٹے پھوٹے دروازے ،کچھ گھروں کے دروازے نہیں تھے ، دروازوں کا کام انھوں نے ٹاٹ کے ٹکڑوں سے لیا ہوا تھا۔ اسے لگا وہ گھوم پھر کر اپنے محلے ہی میں لوٹ آےا ہے ۔

ایک کوارٹر نما مکان کے دروازے پر اس کی ماںنے دستک دی ۔دروازہ کھولنے والا ایک کم عمر لڑکا تھا ۔ ایک کھانستے بزرگ نے ان کا استقبال کیا اور وہ صحن میں بچھی چارپائیوں پر بیٹھ گئے ۔

رسمی تعارف کے بعد جب بزرگ نے ”دولھا“ یعنی اسے اچھی طرح دیکھ لیا اور اس کے باوجوداس کے ارادے میں تزلزل نظرنہ آیا تو اس کا دل بلیوں اچھلنے لگا ۔

وہ اس کاہونے والا سسر تھا۔ تھوڑی دیر بعد ساس صاحبہ تشریف لائیںاور پھراس کے خوابوں کی شہزادی بھی چاے کے برتن ٹرے میں رکھے وہاں پہنچ گئی ،عام شکل و صورت کی ایک ایسی لڑکی جو رستے میں مل جائے تو کوئی دوسری نظر ڈالنا پسند نہ کرے ۔ مگر اب وہ اس کی ہونے والی تھی ۔ بلا شرکت غیرے اس کی ملکیت۔جیسی بھی تھی اسے اچھی لگی ۔ منگنی کی انگوٹھی پہنا کر وہ واپس آگئے ۔

٭……..٭

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz

Leave a Reply

%d bloggers like this: