عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی

0
موسم، طوفانِ باد و باراں کے اشاروں پر رقص کر رہا تھا۔
سپیڈ کم ہوئی اور کار رک گئی۔ اس نے ہا رن دبایا۔ تیسری آواز پر گیٹ کھل گیا۔
بادل ایک بار پھر بڑے زور سے گرجی۔ بارش میں اور شدت آ گئی۔ کار آگے کو سرکی مگر اس سے پہلے کہ کار گیٹ سے اندر داخل ہو تی، بجلی زور سے چمکی۔ فانوس سے روشن ہو گئی۔
وہ چونک اٹھا۔
اس کی تیز نظریں گیٹ کے باہر بائیں ہاتھ بنے چھوٹے سے سائبان تلے چھائے اندھیرے میں جم گئیں۔
“کیا بات اے صاب! ” پٹھان چوکیدار نے بارش میں بھیگتے ہوئے پوچھا۔
“خان۔۔۔ “لیکن اس سے پہلے کہ وہ فقرہ پورا کرتا، برق پھر کوندی۔ وہ تیزی سے کار کا دروازہ کھول کر باہر کو لپکا۔ اس دوران خان بھی گیٹ سے باہر نکل آیا۔
بارش اور تیز ہوا کی پرواہ کئے بغیر دو تین لمبے لمبے ڈگ بھر کر وہ اس اندھیرے کونے میں پہنچ گیا، جہاں دو بار برق نے اجالا کیا تھا۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: