فرار از روی رنجن گوسوامی عامر صدیقی

0

سریش کے گھر میں داخل ہوتے ہی ماں کی بڑبڑاہٹ شروع ہو گئی تھی، ’’دنیا جہان کے لڑکے دھندے سے لگ گئے۔ ان نواب زادے کو کام کرنے کا من ہی نہیں ہے۔ بیٹھے بیٹھے کھانے کی عادت جو پڑ گئی ہے۔ نہ بہن کے بیاہ کی فکر، نہ گھر بار کا دھیان۔ ارے میں تو کہتی ہوں پلّے داری کر لے۔ چار پیسے کما کر تو لائے۔ ‘‘

سریش کو بی اے پاس کئے دو سال ہو گئے تھے۔ نوکری کے لیے بہت ہاتھ پاؤں مارے لیکن کوئی نوکری نہیں ملی۔ آج کے دور میں جب ایم بی اے اور انجینئرز پریشان ہیں، تو بی اے پاس کو کون پوچھتا۔

اسے ماں کی کھری کھوٹی سننے کی عادت پڑ چکی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ ماں کی بڑبڑاہٹ کے پیچھے ان کے ہائی بلڈ پریشر، گھریلو پریشانیوں اور شوہر کے اغماض کا ہاتھ تھا۔ لیکن اس دن وہ کچھ اکھڑا ہوا تھا۔ رات کو ماں نے آنگن میں کھانا لگا دیا۔ اس نے ابھی پہلا نوالہ ہی توڑا ہی تھا کہ ماں نے سوال داغ دیا، ’’کوئی کام ملا؟‘‘

سریش کے دانت کٹکٹائے، مٹھیاں کس گئیں اور غصے اور مایوسی سے ایک چیخ نکل گئی۔ گھر کے سب لوگ چونک کر ادھر آ گئے۔ وہ پلیٹ ایک طرف سرکا کر اٹھ گیا۔

ماں بڑبڑائی، ’’گھر کا کھانا اب اچھا نہیں لگتا۔ باہر کھا کے آیا ہو گا۔ ارے کچھ کما کر لائے، گھر میں کچھ دے تو میں بھی تر مال کھلاؤں۔۔۔۔۔۔ مزید تمام اقساط کے لنکس نیچے موجود ہیں آپ ان کو پڑھ سکتے ہیں

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: