بھیانک آدمی از ابن صفی

0

روشی اسے بہت دیر سے دیکھ رہی تھی! وہ سر شام ہی ہوٹل میں داخل ہوا تھا اور اب سات بج رہے تھے۔ سمندر سے آنے والی ہوائیں کچھ بوجھل سی ہو گئی تھیں۔

جب وہ ہوٹل میں داخل ہوا تو روشی کی میز کے علاوہ اور ساری میزیں خالی پڑی تھیں۔ لیکن اب ہوٹل میں تل دھرنے کی جگہ بھی نہیں تھی۔

وہ ایک خوبصورت اور جامہ زیب نوجوان تھا۔ لیکن یہ کوئی ایسی خاص بات نہیں تھی جس کی بنا پر روشی اس کی طرف متوجہ ہو جاتی۔ اسی ہوٹل میں اس نے اب سے پہلے درجنوں خوبصورت آدمیوں کے ساتھ سینکڑوں راتیں گذاری تھیں اور اس کی وہ حس کبھی کی فنا ہو چکی تھی، جو صنف قوی کی طرف متوجہ کرنے پر اکساتی ہے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: