علامہ دہشت ناک از ابن صفی

0

گیارہ افراد ایک قطار میں دوڑے جا رہے تھے۔ اس طرح کہ ایک کے پیچھے ایک تھا۔ اور یہ لمبی سی قطار کہیں سے بھی ٹیڑھی دکھائی نہیں دیتی تھی۔ اس قطار میں عورتیں بھی تھیں اور مرد بھی۔
سورج ابھی طلوع نہیں ہوا تھا۔ اوائلِ جنوری کی یخ بستہ ہوا ہڈیوں میں گھستی محسوس ہو رہی تھی۔
سب سے آگے ایک قد آور جسیم آدمی تھا۔ عمر چالیس اور پچاس کے درمیان رہی ہو گی اور چہرہ ڈاڑھی مونچھوں سے بے نیاز۔ البتہ سر پر گھنے اور لمبے لمبے بال لہرا رہے تھے۔ آنکھوں میں بے پناہ توانائی ظاہر ہوتی تھی۔ سڑک سے وہ بائیں جانب والے میدان میں اُتر گئے اور پھر انہوں نے دائرے کی شکل میں دوڑنا شروع کر دیا تھا۔ ۔ ۔ دائرے میں بھی تنظیم اس حد تک بر قرار رہی تھی کہ وہ کہیں سے بھی غیر متوازن نہیں معلوم ہوتا تھا۔

 

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: