ع عشق جنہاں نوں لگ جاندا از سہیرا اویس

0
“جنت۔۔!! میری جان۔۔!!
کیا ہوا تمہیں۔۔۔؟؟؟ کیوں اس طرح رو رہی ہو۔۔!!
کچھ بتاؤ تو۔۔
اور یہ تم نے اپنا حلیہ کیوں بگاڑا ہے۔۔؟؟
یہ اپنے ہاتھ دکھاؤ مجھے ۔۔!!
تمہیں چوڑیاں نہیں پہننی تھی تو اتار دیتیں۔۔!!
انہیں توڑ کر اپنا ہاتھ زخمی کیوں۔۔ کیا بولو۔۔؟؟”
زوبیہ کے لہجے سے اپنی پیاری دوست کے لیے فکرمندی صاف ظاہر تھی۔
زوبیہ کب سے اسے چپ کرانے کی کوشش کر رہی تھی۔
پر جنت فرزان پر تو اس کی کسی بات کا اثر ہی نہیں ہو رہا تھا۔
وہ بڑے انہماک سے اپنا رونے کا شغل پورا کر رہی تھی۔
اب تو اس نے اپنی لپ اسٹک بھی رگڑ کر خراب کر لی تھی۔۔
اور ساتھ میں اپنے خوبصورت سے جوڑے میں بند بالوں کو اپنے ایک ہاتھ سے بے دردی سے کھول کر اپنے کندھوں پر گرنے کے لیے چھوڑ دیا ۔

 

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: