Urdu Novels

دعائے کمیل اردو ترجمہ از مریم نور

dua e kamil
Written by Peerzada M Mohin

اے اللہ! میں تجھ سے التجا کرتا ہوں تجھے تیری اس رحمت کا واسطہ جو ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے، تیری اس قوت کا واسطہ جس سے تجھے ہر چیز پر قاہری حاصل ہے جس کے سامنے ہر چیز سر جھکائے ہوئے ہے اور جس کے آگے ہر چیز حقیر و محکوم ہے۔
تیری اس حاکمانہ عظمت کا واسطہ جس سے تو ہر شے پر غالب ہے، تیری اس عزت کا واسطہ جس کے مقابل کوئی چیز ٹھہر نہیں سکتی، تیری اس عظمت کا واسطہ جس کے جلوؤں سے ہر چیز بھری ہے، تیری اس سلطنت کا واسطہ جسے ہر چیز پر بالادستی حاصل ہے، تیرے اس جلوہ? ذات کا واسطہ جو ہر شے کے فنا کے بعد بھی باقی رہے گا، تیرے ان اسمائے حُسنٰی کا واسطہ جو ہر شئے کے جزو جزو میں کارفرما ہیں، تیرے اُس علم کا واسطہ جو ہر چیز پر محیط ہے، تیرے جلوہ? ذات کے اُس نور کا واسطہ جس سے ہر چیز روشن ہے،
اے نورحقیقی!ایپاک و پاکیزہ! ایسب پہلوں سے پہلے! اے سب آخروں سے آخر
اے اللہ! میرے وہ سب گناہ معاف کر دے جو برائیوں سے محفوظ رکھنے والی پناہ گاہوں کو مسمار کر دیتے ہیں،
اے اللہ! میرے وہ سب گناہ معاف کر دیجو عذاب نازل ہونے کی وجہ بنتے ہیں، اے اللہ! میرے وہ سب گناہ معاف کر دے جو نعمتوں کو بدل کر انھیں آفت بنا دیتے ہیں،
اے اللہ! میرے وہ سب گناہ معاف کر دے جو دعائیں قبول نہیں ہونے دیتے، اے اللہ! میرے وہ سب گناہ معاف کر دے جن کی وجہ سے رحمت کی امید ختم ہو جاتی ہے،
اے اللہ! میرے وہ سب گناہ معاف کر دے جو مصیبتیں نازل کراتے ہیں،
اے اللہ! میرے وہ سب گناہ معاف کر دے جو میں نے جان بُوجھ کر کئے اور ان ساری خطاؤں سے در گزر کر جو میں نے بھولے سے کیں۔

اے اللہ! تجھے یاد کر کے تیرے قریب آنا چاہتا ہوں اور اس ذریعے سے میں تیرے حضور میں شفاعت کا امیدوار ہوں اور تیرے جودوکرم کا واسطہ دے کر تجھی سے التجا کرتا ہوں کہ مجھے اپنا قرب عطا کر، مجھے ادائے شکر کی توفیق دے اور اپنی یاد میریدل میں راسخ کر دے۔
اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس شخص کی مانند جو تیرے حضور گِڑگڑانے والا، عاجزی کرنے والا، خضوع وخشوع کرنیوالا اور گریہ و زاری کرنیوالا ہو، کہ تو میری بھُول چوک معاف کر، مجھ پر رحم فرما اور جو حصہ تو نے میرے لیے مقرر فرمایا ہے مجھے اس پر راضی، قانع اور مجھے ہر حال میں مطمئن رکھ۔
اے اللہ! میں تیرے حضور سوال کرتا ہوں اس شخص کی مانندجس پر شدت ہو فاقوں کی، جو مصائب و شدائد سے تنگ تیریحضور حاجات پیش کرتا ہوجو تیرے لطف و کرم کا زیادہ سے زیادہ خواہش مند ہو۔
اے اللہ! تیری سلطنت عظیم، تیرا رتبہ بہت ارفع و اعلیٰ، تیری تدبیرمخفی، تیرا حکم صاف ظاہر، تیرا قہر غالب، تیری قدرت جاری و ساری اور تیری حکومت سے فرار ناممکن ہے۔
اے اللہ! میرے گناہ بخشنے والا، میرے عیب کی پردوہ پوشی کرنے والا اور میرے کسی برے عمل کواچھے عمل سے بدلنے والا، تیرے سوا کوئی نہیں، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں، میں تیری پاکی کا ماننے والا اور میں تیری حمد وثنا کرتا ہوں، میں نے اپنے نفس پرظلم کیا اور اپنی نادانی کے باعث بڑی جرا?ت کی اور یہ سوچ کر مطمئن ہو گیا کہ مجھ پر تیری نگاہِ کرم بہت پہلے تھی اور مجھ پر تیرے احسانات قدیم ہیں۔
اے اللہ اور میرے مالک! تو نے میری کتنی ہی برائیوں کی پردہ پوشی کی، تو نے مجھ پر سے کتنی ہی سخت بلاؤں کو ٹال دیا، تو نے مجھے کتنی ہی لغزشوں کی رسوائی سے بچا لیا، تو نے مجھ سے بے شمار ناگوار آفات کو دور کیا اور کتنی ہی ایسی خوبیاں جن کا میں اہل بھی نہ تھا، لوگوں میں مشہور کر دیں۔
اے اللہ! میری آزمائش بہت عظیم ہے، میری بدحالی حد سے بڑھ گئی ہے، میرے اعمال نے مجھے عاجز کر دیا ہے، اپنے گناہوں کی وجہ سے میرے ہاتھ گردن سے بندھ گئے ہیں، میری امیدوں کی درازی نے مجھے نفع سے محروم کر رکھا ہے، دنیا نے اپنی جھوٹی چمک دمک سے مجھے دھوکہ دیا ہے اور میرے نفس نے اپنے گناہوں اور ٹال مٹول کے باعث فریب دیا ہے۔
اے میرے آقا! تجھے تیری عزت کا واسطہ، تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ میری بداعمالیاں اور غلط کاریاں میری دعا کے قبول ہونے میں رکاوٹ نہ بنیں، میرے جن بھیدوں سے تو واقف ہے تو ان کی وجہ سے مجھے رسوا نہ کرنا اور خلوتوں میں انجام دیئے گئے ان اعمال پر سزا دینے میں جلدی نہ کرنا جو میرے بُرے افعال، گستاخی، میری دائمی کوتاہی، جہالت، میری کثرت خواہشِ نفس اور غفلت ہیں۔
اے اللہ! اپنی عزت کے طفیل مجھ پر ہر حال میں مہربان رہ اور میرے تمام معاملات میں اپنا لطف و کرم فرما۔
اے میرے معبود و رب! تیرے سوا کون ہے جس سے سوال کروں، اپنی مصیبت کو دفع کرنے کا اور اپنے کاموں میں نظرِ کرم کرنے کا۔
اے میرے معبود و مولا! تو نے میرے لئے جو حکم صادر فرمایا اس پر عمل کرنے میں ہوائے نفس کے تابع رہا اور میرے دشمن نے مجھے جو سنہری خواب دکھائے، میں ان سے اپنا بچاؤ نہ کر سکابالآخر اس نے مجھے میری خواہشات کا سہارا لے کر دھوکا دیا اور اس میں میری تقدیر نے بھی اس کی مدد کی، اس طرح میں نے تیری مقرر کردہ بعض حدود سے تجاوز اور تیرے بعض احکامات کی نافرمانی کی۔
تمام حالات میں تیری تعریف مجھ پر واجب ہے، میرے لئے تو نے جو فیصلہ کیا اور جو حکم اور آزمائش میرے لئے لازمی ہو گئی اس پر مجھے کسی احتجاج کا حق حاصل نہیں۔
اے میرے معبو د! تیری بارگاہ میں حاضر ہوں اپنی کوتاہی اور اپنے نفس پر ظلم کرنے کے بعد عذرخواہ، پشیمان، دلِ شکستہ، کیے پر نادم، بخشش کا طلب گار، تیری طرف متوجہ، اقرار کرتا ہوں، مجھے تسلیم ہے، معترف ہوں کہ جوکچھ مجھ سے سرزد ہو چکا اس کے بعد اب میرے بچ نکلنے کے لئے نہ کوئی راہِ فرار ہے اور نہ کوئی پناہ گاہ پاتا ہوں جس کا اپنی اس پریشانی میں رخ کر سکوں سوائے اس کے کہ تو ہی میری عذر خواہی قبول فرمالے اور مجھے اپنے وسیع دامنِ رحمت میں جگہ دے دے۔
اے میرے معبود! میری معافی کی درخواست قبول کرلے، میری تکلیف کی سختی پر رحم فرما اور میرے ہاتھ پاؤں کی اس سخت جکڑ سے مجھے رہائی بخش۔
اے میرے پروردگار! رحم فرما میرے جسم کی ناتوانی پر، میری جلد کی فرسودگی پر اور میری ہڈیوں کی ناطاقتی پر۔
اے وہ ذات جس نے میری خلقت اور قابل ذکر ہونے کی ابتداء کی، میری پرورش کا سامان کیا، میرے حق میں بہتری کی اور میرے لئے غذا کے اسباب فراہم کرنے کی ابتدا کی۔ پس اب بھی مجھے بخش دے، اپنے اس کرم کے واسطے سے جو بے استحقاق مجھ پر فرمایا تھا اور مجھ پر اپنے قدیم احسان کے واسطے سے۔
اے میرے معبود! میرے آقا! میرے پروردگار! کیا تو مجھے اپنی آتشِ جہنم کا عذاب دے گا؟ جبکہ میں تیری توحید کا اقرار کر چکا ہوں، میرا دل تیری معرفت سے سرشار ہو گیا ہے، میری زبان پر تیرا ذکر جاری ہے، میرا ضمیر تیری محبت کا حلقہ بگوش بن چکا ہے اور تجھے اپنا پروردگار مان کے سچے دل سے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں اور تیری ربوبیت کے حضور گڑ گڑا کر تجھ سے دعا مانگتا ہوں۔ نہیں، ایسا ممکن نہیں کیونکہ تیرا کرم اس سے کہیں بڑھ کر ہے کہ تو اس شخص کو بے سہارا چھوڑ دے جسے تو نے خود پالا ہو یا تو اسے اپنے سے دور کر دے جسے تو نے اپنا قرب بخشا ہو یا اسے اپنے ہاں سے نکال دے جسے تو نے خود پناہ دی ہو یا اسے بلاؤں کے حوالے کر دے جس کا تو نے خود ذمہ لیا ہو اور جس پر رحم فرمایا ہو، یہ بات میں کیسے مان لوں۔
اے میرے مالک! میرے معبود! میرے مولا! کہ تو آتش ِ جہنم کو مسلط کر دے گا ان چہروں پر جو تیری عظمت کے باعث تیرے حضور میں سجدہ ریز ہو چکے ہوں، ان زبانوں پر جو صدقِ دل سے تیری توحید کا اقرار کر کے شکرگزاری کے ساتھ تیری مدح کر چکی ہوں۔ ان دلوں پر جو واقعی تیرے معبود ہونے کا حق شناسانہ اعتراف کر چکے ہوں، ان ضمیروں پر جو تیرے علم سے اس قدر بہرہ ور ہوئے کہ تیرے ہی خوف سے جن میں خشوع پیدا ہو چکا ہے یا ان اعضا پر جو اطاعت کے جذبے کے ساتھ خوش خوش بڑھتے رہے کہ یہ مقام ان کے ہیں اور گناہوں کا اقرار کر کے مغفرت طلب کرتے ہیں۔
اے رب کریم! نہ تو تیری نسبت ایسا گمان ہی کیا جا سکتا ہے اور نہ تیرے فضل کے بارے میں تیری طرف سے ہمیں ایسی کوئی خبر دی گئی ہے۔
اے پالنے والے! تو میری کمزوری سے واقف ہے، مجھ میں اس دنیا کی معمولی آزمائشوں، چھوٹی چھوٹی تکلیفوں اور ان سختیوں کی برداشت نہیں جو اہلِ دنیا پر گزرتی ہے حالانکہ یہ آزمائش، تکلیف اور سختی بہت ہی تھوڑی دیر کے لئے ہوتی ہے، ان کا ہونا سہل ہے اور ان کی مدت بھی تھوڑی ہے پھر بھلا میں آخرت کی سختیوں کو کیسے جھیل سکوں گا اور اس کی زبردست مصیبت کیونکہ برداشت ہو سکے گی جب کہ وہاں کی مصیبت بے حد طولانی ہو گی اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہو گا (اور جو لوگ اس میں ایک مرتبہ پھنس جائیں گے) ان کے عذاب میں کبھی کمی نہیں ہو گی کیونکہ اس کا سبب تیرا غضب، تیرا انتقام اور تیرا عتاب ہے اور جسے آسمان برداشت کر سکتا ہے نہ زمین۔
اے میرے آقا! پھر ایسی صورت میں میرا کیا حال ہو گا جب کہ میں ایک بندہ ہوں کمزور، ذلیل، حقیر، مسکین و عاجز۔
اے میرے معبود! میرے پروردگار! میرے مالک و میرے مولا! میں تجھ سے کس کس بات پر نالہ و فریاد اور کس کس پر آہ و بکاکروں؟ درناک عذاب اور اس کی سختی پر یا سزا کے بڑھتے ہوئے سلسلے اور اس کی طویل مدت پر۔ پس اگر تو نے مجھے اپنے دشمنوں کے ساتھ عذاب میں جھونک دیا اور مجھے ان لوگوں کے ساتھ اکٹھا کر دیا جو تیری سزاؤں کے سزاوار ہیں اور مجھے اپنے محبوب بندوں اور اولیاء سے جدا کر دیا (اگر ایسا فرض بھی کر لیا جائے) تو
اے میرے معبود! میریمالک! اے میرے مولا و میرے پروردگار! میں تیرے عذاب پر اگر صبر بھی کر لوں تو تیری رحمت سے جدائی پر کیونکر صبر کر سکوں گا اور اسی طرح اگر میں تیری آتشِ جہنم کی تپش برداشت بھی کر لوں تو تیری نظرِ کرم سے اپنی محرومی کیسے برداشت کر سکوں گا جب کہ مجھے تجھ سے عفو و درگزر کی امید ہے۔
*پس تیری عزت کی قسم اے میرے آقا و مولا! میں سچی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہاں اگر تو نے میری گویائی سلامت رکھی تو میں اہلِ جہنم کے درمیان تجھے اسی طرح پکاروں گا جیسے کرم کے امیدوار پکارا کرتے ہیں
۔ میں تیرے حضور میں اسی طرح آہ و بکا کروں گا جیسے فریادی آہ زاری کرتے ہیں اور تیری(رحمت کے فراق) میں اسی طرح روؤں گا جیسے بچھڑنے والے آنسو بہایا کرتے ہیں، میں تجھے وہاں (مسلسل) پکاروں گا کہ تو کہاں ہے۔*
اے مومنوں کے مالک! اے حق شناسوں کی امیدگاہ و منزلِ مقصود! اے استغاثہ کرنے والوں کے فریاد رس و دستگیر! اے صادقوں کے دلوں کے محبوب! اور اے تمام جہانوں کے معبود! کیا تو ملے گا! تیری ذات پاک ہے۔
اے میرے معبود! میں تیری حمد کرتا ہوں (میں حیران ہوں کہ یہ کیونکر ہو گا) کہ تو (اسی آگ) میں سے ایک بندہ مسلم کی آواز سنے جو اپنی نافرمانی کی پاداش میں اس میں قید کر دیا گیا ہو، اپنی معصیت کی سزا میں اسی عذاب میں گرفتار ہو اور جرم و خطا کے بدلے میں جہنم کے طبقات میں محبوس ہو مگر وہ تیری رحمت کے امیدوار کی طرح تیرے حضور میں فریاد کرتا ہو، تیری توحید کو ماننے والوں کی سی زبان سے تجھے پکارتا ہو اور تیری ربوبیت کے واسطے سے تیری جناب سے سہارا چاہتا ہو۔
اے میرے مالک! پھر وہ اس عذاب میں کیسے رہ سکے گا جب کہ اسے تیرے گزشتہ حلم و کرم اور مہربانی کی آس بندھی ہو گی یا آتشِ جہنم اسے کیسے اذیت پہنچائے گی جب کہ اسے تیرے فضل اور تیری رحمت کا آسرا ہو گا یا اس کو جہنم کا شعلہ کیسے جلائے گا جب کہ تو خود اس کی آواز سن رہا ہو گا اور اس کے مقام کو دیکھ رہا ہو گا یا جہنم کی تکلیفیں اس کی کیونکر گرفت کر سکیں گی جب کہ تو اس بندے کی ناتوانی سے خوب آگاہ ہے یا پھر وہ جہنم کے طبقات میں کیونکر تڑپتا رہے گا جب کہ تو اس کے ایمان کی سچائی سے آگاہ ہے یا عذاب کے مؤکل اس کو کیونکر جھڑک سکیں گے جب کہ وہ تجھے پکار رہا ہوگا کہ اے پروردگار! یا ایسا کیونکر ممکن ہے کہ وہ تیرے فضل و کرم کی آس لگائے ہو اور تو اسے جہنم ہی میں پڑا رہنے دے۔ نہیں، تیری نسبت ایسا گمان نہیں کیا جا سکتا، نہ ہی تیرے فضل و کرم کا یہ شیوہ ہے اور نہ یہ سلوک اس لطف و کرم و احسان سے میل کھاتا ہے جو تو اپنے موحدوں اور مومنوں سے روا رکھتا ہے۔ اس لیے میں میں کامل یقین سے کہتا ہوں کہ اگر تو نے اپنے منکروں کو عذاب میں مبتلا کرنے کا فیصلہ نہ کر لیا ہوتا اور انہیں ہمیشہ جہنم میں رکھنے کا حکم نہ دے دیا ہوتا تو تو ضرور آتش جہنم کو ایسا سرد کر دیتا کہ وہ جائے سلامتی بن جاتی اور پھر کسی بھی شخص کا ٹھکانہ جہنم نہ ہوتا لیکن خود تو نے اپنے اسمائے حسنیٰ کے تقدس کی قسم کھائی ہے کہ تو تمام کافروں سے، جو جنوں اور انسانوں میں سے ہیں، جہنم کو بھر دے گا اور اپنے دشمنوں کو ہمیشہ کے لیے اس میں رکھے گا۔ تو نے، کہ تیری حمد و ثناء عظمت و جلالت والی ہے، اپنے بندوں پر پہل اور احسان کرتے ہوئے اپنی کتاب میں پہلے فرما دیا ہے کہ’’کیا وہ لوگ جو مومن ہیں، اسی حیثیت کے ہیں جیسے فاسق! نہیں! یہ مساوی حیثیت نہیں رکھتے‘‘۔
اے میرے معبود! اے میرے مالک! میں واسطہ دیکر سوال کرتا ہوں تیری اس قدرت کا جس سے تو نے موجودات کی تقدیر بنائی، تیرے ان حتمی فیصلوں کا جنہیں تو نے اٹل و ناقابل تغیر حیثیت سے نافذ کیا ہے اور تو اُن پر غالب ہے جن پر یہ حکم لاگو ہیں کہ تو بخش دے اور معاف کر دے اسی رات اور اسی لمحے، ہر وہ جرم جس کا میں مرتکب ہوا ہوں اور ہر وہ گناہ جو میں نے کیا ہے اور ہر وہ برائی جو میں نے چھپائی ہے اور ہر وہ نادانی جو مجھ سے سرزد ہوئی ہے، چاہے چھپی ہوئی یا کھلم کھلا، مخفی رکھی ہو یا ظاہر کی ہو، میری ہر ایسی بدعملی کو معاف کردے جس کے لکھنے کا حکم تونے کراماً کاتبین کو دیا، جنہیں تو نے میرے ہر عمل کو ثبت کرنے پر مامور کیا ہے اور انہیں میرے اعضاء کے ساتھ میرے اعمال کا گواہ مقرر کیا ہے پھر ان سے بڑھ کر تو خود میرے اعمال کا نگران ہے اور ان باتوں سے بھی با خبر ہے جو ان کی نظر سے مخفی رہ گئی ہیں اور جنہیں تو نے اپنی
ہیں اور جنہیں تو نے اپنی رحمت سے چھپایا ہے اور جن پر تو نے اپنے کرم سے پردہ ڈال دیا ہے۔
(اے اللہ!) مجھے زیادہ سے زیادہ حصہ دے ہر اس بھلائی میں سے جو نے نازل فرمائی ہے، ہر اس احسان میں سے جسے تو نے سرفراز فرمایا ہے، ہر اس نیکی میں سے جسے تو نے عام کیا ہے، ہر اس رزق سے جس میں تو نے وسعت دی ہے، ہر اس گناہ سے جسے تو نے معاف کر دیا ہے اور ہر اس غلطی سے جسے تو نے چھپا دیا ہے۔
اے میرے پروردگار! اے میرے پروردگار! اے میرے پروردگار! اے میرے معبود! اے میرے آقا! اے میرے مولا! اے میری غلامی کے مالک! اے وہ ذات جس کی گرفت میں میری جان ہے، اے میری بدحالی اور بیچارگی کے جاننے والے، اے میرے فقر و فاقہ سے آگاہی رکھنے والے۔
اے میرے پروردگار! اے میرے پروردگار! اے میرے پروردگار! میں تجھے واسطہ دیتا ہوں تیرے حق کا، تیری پاکیزگی کا، تیری عظیم ترین صفات کا اور تیرے مبارک ناموں کا، میری التجا ہے کہ میرے دن رات کے اوقات کو اپنی یاد سے معمور کر دے کہ ہر لمحہ تیری فرماں برداری میں بسر ہو اور میرے اعمال کو قبول فرما اس طرح کہ میرے تمام اعمال و اذکار ایک ورد کی حیثیت اختیار کر لیں اور مجھے تیری اطاعت و عبادت میں ایک دائمی و سرمدی کیف حاصل ہو جائے۔
اے میرے آقا! اے وہ ذات جو میرا آسرا و بھروسا ہے اور جس کی سرکار میں میں اپنی ہر الجھن پیش کرتا ہے۔
اے میرے پروردگار! اے میرے پروردگار! اے میرے پروردگار!
میرے اعضاء میں اپنی اطاعت کے لئے قوت دے، میرے قوائے عمل کو فرائض کی انجام دہی کے لئے پختہ کر دے اور مجھے توفیق دے کہ میں تجھ سے قرار واقعی ڈرتا رہوں اور ہمیشہ تیری اطاعت میں سرگرم رہوں یہاں تک کہ میں بڑی آسانی سے تجھ تک رسائی حاصل کر سکوں اس میدان میں جہاں ہر کوئی تجھ تک پہنچنے میں سبقت لے جانے کے لئے کوشاں ہے اور نہایت سرعت سے تجھ تک پہنچ سکوں ان مقابلہ کرنے والوں میں سے پہلے کرتے ہوئے اور تیرے شیداؤں میں شامل ہو کر تیرے قرب کا شوق پیدا کروں، تیرے مخلِص بندوں کی طرح تجھ سے قرب حاصل کرلوں اور اہل یقین کی طرح اپنے اندر خوف پیدا کروں اور تیری بارگاہ میں جب مومنین جمع ہوں تو میں ان کے ساتھ رہوں۔
اے اللہ! جوشخص مجھ سے کوئی بدی کرنے کا ارادہ کرے تو اسے اپنی زد میں لے لے اور جو مجھے فریب دے تو اسے اپنے انتقام کی گرفت میں جکڑ لے، مجھے اپنے ان بہترین بندوں میں قرار دے جو تیرے ہاں مقبول و کامیاب ترین ہیں، جنہیں تیری جناب میں سب سے زیادہ قُرب حاصل ہے اور جو تیرا قرب حاصل کرنے والوں کے درمیان بندگانِ خاص کا درجہ رکھتے ہیں کیونکہ یہ رتبہ تیرے فضل کے بغیر ممکن نہیں۔ اپنی شانِ کریمی سے مجھ پر رحم فرما اور اپنی شان کے مطابق مہربانی فرما، اپنی رحمت سے میری حفاظت کر، میری زبان کو اپنے ذکر میں گویا کر، میرے دل کو اپنی محبت کی چاشنی عطا کر، میر ی دعائیں قبول کر کے مجھ پر احسان فرما، میری خطائیں معاف کر دے اور میری لغزشیں بخش دے چونکہ تو نے اپنے بندوں پر اپنی عبادت واجب کی ہے، انہیں دعا مانگنے کا حکم دیاہے اور ان کی دعائیں قبول کرنے کی ضمانت فراہم کی ہے،
اس لئے اے میرے پروردگار! اور اے میرے رب! میں نے تیرے ہی آگے ہاتھ پھیلایا ہے پس اپنی عزت کے صدقے میں میری دعا قبول فرما اور مجھے میری منزل تک پہنچا، مجھے تیرے فضل و کرم سے جو امید ہے اسے منقطع نہ ہونے دے اور جنوں اور انسانوں میں سے جو بھی میرے دشمن ہوں مجھے ان کے شر سے بچا۔
اے اپنے بندوں سے جلد راضی ہو جانے والے! اپنے اس بندے کو بخش دے جس کے پاس دعا کے سوا کچھ نہیں، یقیناً تو جو چاہتا ہے کرتا ہے، تو اپنی مرضی کا مالک ہے
اے وہ ذات جس کا نام ہی دوا ہے اور اے وہ ذات جس کا ذکر ہر بیماری کی شفاء ہے اور جس کی اطاعت سب سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ اس پر رحم کر جس کی واحد پونجی تیرا آسرا ہے اور جس کا سامانِ دفاع گریہ و زاری ہے۔
اے نعمتیں عطا کرنے والے منعم حقیقی، اے دکھ درد کے دفع کرنے والے، اے ان وحشت زدہ بندوں کے لئے روشنی جو تاریکیوں میں گھرئے ہوئے ہیں۔ اے صاحب علم جسے کوئی اور علم نہیں دے سکتا محمد و آل ِ محمد علیہم السلام پر رحمتیں نازل فرما اور میرے ساتھ وہ سلوک کر جو تیرے شایان شان ہو وہ سلوک نہ کر جس کا میں سزاوار ہوں۔ اللہ اپنے رسولؐ پر ان بابرکت آئمہ ؑ پر درود بھیجتا ہے جو آلِ رسول ہیں اور کثرت سے سلام بھیجتا ہے۔آمین یا رب العالمین

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz

Leave a Reply

%d bloggers like this: