Danish Ahmad Shahzad Kids Stories Major Pramod Readable Novels Unicode Books

میجر پرمود اور لائیٹ شو ( میجر پرمود ) از دانش احمد شہزاد

Written by Peerzada M Mohin

دھماکے کی آواز سے فضا گونج اُٹھی اور شہر کی مشہور شاہراہ پر برق رفتاری سے چلتیگاڑیوں کے ٹائر یک دم بریک لگنے کے باعث سڑک پر کالے رنگ کی لکیریں بناتے چلے گئے ۔ کئی گاڑیاں آپس میں ٹکراتے ٹکراتے بچیں مگر دھماکے کے قریب کئی گاڑیاں اچانک نئے ماڈل کی پراڈو کے دھماکے کی وجہ سے ایکسیڈنٹ کا شکار ہوگئیں۔ جس پراڈو گاڑی کا دھماکہ ہوا تھا وہ آگ اور شعلوں میں بدل چکی تھی نہ جانے کون سوار تھے جو ساتھ ہی کوئلہ ہوچکے تھے۔کچھ ہی دیر بعد پولیس سائرن کی آوازیں گونجنے لگیں اور نہ چاہتے ہوئے وہ لوگ جو جلتی گاڑی کے اردگرد جمع ہورہے تھےاب بکھرنے لگے۔

میجرپرمود ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھا گرین ٹی پینے میں مصروف تھا آجکل چونکہ کسی قسم کا کیس نہ تھا اس لئے وہ اپنی بوریت مٹانے اس پرسکون ریسٹورنٹ میں آگیاتھا۔ ابھی گرین ٹی ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ پرمود کہ سیل فون پر گھنٹی بجنےلگی ۔ جیسے ہی پرمود نے کال اٹنڈ کرکے موبائل کان کو لگایا تو دوسری طرف سے کرنل ڈی نے پرمود کو کچھ دیر قبل ہونے والے دھماکے کی خبر دی اور مجرموںکو کیفر کردار تک پہنچانے کا حکم صادر کردیا کیونکہ کرنل ڈی جانتا تھا کہ فوری ایکشن اور نتیجہ سیکرٹ سروس میں میجر پرمود کے علاوہ کوئی نہیں دے سکتا۔نیز یہ بھی بتا دیا کہ اس دھماکہ میں ملک کے ایک مشہور بزنس مین کو ٹارگٹ کیا گیا تھا۔گو کہ وہ اس حادثے میں ریسیکیو کی گاڑیوں کے پہنچنے سے پہلے ہی گاڑی کے ساتھ جل کر خاکستر ہوچکے تھے۔

اسلئے پرمود نے بل کپ کے نیچے رکھا اور ریسٹورنٹ سے نکلنے لگا کہ اچانک ایک غیر ملکی بوکھلائے ہوئے انداز میں اس سے ٹکرا گیا جس برق رفتاری سے وہ ٹکرایا تھا اسی تیزی سے وہ سوری کئے بنا آگے بڑھ گیا۔

اس سے قبل پرمود آگے بڑھتا اسے زمین پر ایک ویزیٹنگ کارڈ سائز کا ایک کاغذ کاٹکڑا ملا جس پر ہلکے آگ کے شعلے میں لائٹ کلب لکھا ہوا تھا۔پرمود نے اس کاغذ کو اٹھایا اور اس ریسٹورنٹ سے لگ بھگ پچاس منٹ کی ڈرائیو پر لائٹ کلب کی طرف چل پڑا چونکہ وہ اس کلب کو پہلے سے جانتا تھا اس لئے اسے وہاں پہنچنے میں کوئی پریشانی نہ ہوئی۔

یہلائٹ کلب عموما غیر ملکیوں کے لئے عیاشی اور سرعام شراب نوشی کا اڈا سمجھاجاتا تھا اور اب چونکہ شام ہورہی تھی اس لئے کلب کی رونق بحال ہورہی تھی ۔

پرمودنے کلب میں داخل ہوتے ہی فائرنگ شروع کردی اور اسلحہ سے لیس غنڈوں کو گولیوں سے بھوننا شروع کردیاچونکہ پرمود نے کلب میں داخل ہوتے ہی اچانک فائر کھول دیا تھا اس لئے کسی کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا اور کلب میں افراتفری پیدا ہوگئی۔جبکہ پرمود کاؤنٹر سے ہوتا ہوا منیجر کے دفتر میں داخلہوگیا۔

اسسے قبل کہ پرمود اپنا کام کرتا اچانک ایک بھاری پیپر ویٹ اس کے سر کے اوپرسے گزرتا چلا گیا پل بھر کی دیر پرمود کے لئے جان لیوا ثابت ہوسکتی تھی اگر وہ اچانک نیچے نہ ہوتا تو اب تک وہ کسی اور دنیا میں پہنچ چکا ہوتا۔مگرپرمود نے اٹھتے ہی فائرنگ کردی اور منیجر کو سنبھلنے ہی نہ دیا جبکہ منیجرکے بازوؤں اور ٹانگوں سے گولیاں آرپار ہوچکی تھیں۔

آفندی کو لائٹ مین نے کیوں ہلاک کیا۔۔۔؟ پرمود نے اندھیرے میں تیر چلاتے ہوئے سخت لہجے میں کہا۔

تم کون ہوتے ہو مجھ سے اس لہجے میں پوچھنے والے۔ منیجر نے درد کراہتے ہوئے کہا۔بازوؤں اور ٹانگوں میں گولیاں لگنے کی وجہ سے اب وہ ایک طرح سے بے بس سا ہوگیا تھالیکن اکڑ ابھی بھی وہی تھی۔اور پھر پرمود نے ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر جڑ دیا جس سے تڑاخ سے ایک زوردار تھپڑ کی آواز آئی جس سے دو دانت پھلجڑی کی طرح باہر آگئے۔مگر اس کے لہجے سے اس حد تک پرمود ضرور کنفرمہوگیا تھا کہ یہ کلب اس حادثہ میں ضرور کسی نہ کسی حد تک ملوث ہے۔

اسی اثنا میں دفتر کا دروازہ کھلا اور ایک ہٹا کٹا آدمی اندر داخل ہوگیا جس کےہاتھ میں ایک مشین گن تھی اور اس کے چہرے سے عیاں تھا کہ وہ کسی بھی حد تکجاسکتا ہے اور بنا کسی چوں چرا کے ہلکی سی حرکت پر گولی داغ دے گا۔

خبردار۔اپنا اسلحہ پھینک دو اور ہاتھ اٹھا دو ورنہ میں تمہیں اٹھا دوں گا۔ آنے والے آدمی سے انتہائی سخت لہجے میں پرمود کو کہا۔ اور پرمود اپنا ریوالور گرا کر ہاتھ اٹھا ہی رہا تھا کہ ایک گولی منیجر کے سینے کو چیرتی ہوئی گزر گئی جبکہ دوسری گولی دفتر میں موجود پہلے سے آدمی کے اس ہاتھ پر لگی جس میںمشین گن تھی اور پھر یہی لمحہ پرمود کے لئے سود مند ثابت ہوا جیسے ہی اس نے دوسرے دروازے کی طرف دیکھا پرمود نے چھلانگ لگا کر اسے دبوچ لیا اور وہ ایک ہی مکہ میں ڈھیر ہوگیا۔

جلدی چلو اور اسے بھی عقبی دروازے سے ساتھ لے چلو یہاں کوئی بھی کسی بھی لمحے آسکتا ہے ۔ آنے والے نقاب پوش نے پرمود سے تیز لہجے میں کہااور پرمود چونک کر رہ گیا مگر اس آدمی کو اٹھا کر چلنا نہیں بھولا تھا۔

تم یہاں تک کیسے پہنچی ۔۔۔؟ پرمود نے نقاب پوش سے پوچھا جو اس کی منگیتر تمثیلہ کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔

میں اپنی سہیلی کی طرف جارہی تھی کہ اچانک مجھ سے آگے والی گاڑی سے ایک شخص نےراکٹ لانچر کی مدد سے آفندی کی گاڑی کو نشانہ بنایا پھر جو ہوا اور آنکھوںدیکھا میں سمجھ گئی کہ اس گاڑی اور اس کے سواروں کا بچنا ناممکن ہے لہذا میں نے اس کا بڑی ہوشیاری سے تعاقب شروع کردیا اور اس کے پیچھے پیچھے رافٹ کلب پہنچی اور پھر تمہارے انداز میں ماردھاڑ کرتی اور گولیوں کی بوچھاڑ کرتی کلب کے مالک کے سر پر پہنچ گئی اس سے قبل کہ وہ کچھ سمجھتا میں نے اس کو فائرنگ سے بے بس کردیا اور ہلکے سے ٹارچر پر اس نے بتا دیا کہ اس کے آدمیوں کو لائٹ کلب سے ہائر کیا گیا تھا۔ پھر وقت ضائع کئے بغیر میں یہاں تک پہنچ گئی اور یہاں تم پہلے سے آفت ڈھائے ہوئے تھے۔ تمثیلہ نے چلتے ہوئے تفصیل بتاتے ہوئے کہا اور پرمود صرف سر ہلا کر رہ گیا۔

اسدوران وہ بے ہوش آدمی کو اٹھا کر عقبی دروازے پر موجود تمثیلہ کی گاڑی تک لے آئے اور پھر دونوں اسے شہر سے دور ایک ایسے ویرانے میں لے گئے جہاں کسی کے عمل دخل تو دور کسی کے گزرنے کا بھی امکان نہیں ہوتا۔

پرمود نے بے ہوش پڑے آدمی کو ہوش میں لانے کی کوشش کی اور کچھ ہی دیر میں وہ ہوش میں آگیا ۔

ہوش میں آگئے ہو تو بتاؤ آفندی کو کیوں مارا گیا۔ بتا دو گے تو شائد بچ جاؤ ورنہ زندہ بچنے کے چانسسز ختم سمجھو۔پرمود نے غصیلے لہجے میں کہا۔

تمنے جو کرنا ہے کر لو۔۔۔ مجھے کچھ بھی معلوم نہیں۔ اس آدمی نے جو شکل سے ہیہٹ دھرم اور ضدی لگ رہا تھا نے پرمود کو جواب دیتے ہوئے کہا اور ادھر ادھردیکھنے لگا جیسے بھاگنے کا پلان بنا رہا ہو۔

پرمودنے اس کی دائیں پسلی پر گولی چلا دی اس کی ایک چیخ بلند ہوئی مگر دوسرے ہیلمحے اس کے جسم نے ایک جھٹکا لیا اور وہ بے سدھ ہوگیا۔

یہلو جی ۔۔۔ یہ تو ہارٹ کا مریض لگتا ہے تبھی اس سے ہلکی سی گولی برداشت نہیں ہوئی ۔ تمثیلہ نے منہ بناتے ہوئے افسوس بھرے لہجے میں کہا۔ ابھی تمثیلہ کا فقرہ مکمل ہی نہیں ہوا تھا کہ فون کی گھنٹی بجنے لگی ، پرمود نے چونک کر مرے ہوئے آدمی کی جیب سے موبائل نکال کر کال اٹنڈ کرکے موبائل کان کو لگایا۔

ویلڈن جیکب ویلڈن۔۔۔ تم نے آفندی کو مار کر وہ کارنامہ سرانجام دیا ہے کہ تم سوچبھی نہیں سکتے اب ملک کی ساٹھ فیصد تجارت آفندی کی بجائے میرے ذریعہ سے ہوگی اور میں بہت جلد انہی پیسوں سے حکومت کا تختہ الٹ دوں گا اور بلگارنیہپر صرف میری حکومت ہوگی۔اچھا تم بس فوری طور پر میرے آنند کلب پہنچو میں تمہارا شدت سے انتظار کررہا ہوں اور سنو لائٹ مین کو بھی میں نے ختم کرادیاہے ۔ آج سے تم لائٹ کلب کے مالک ہو۔ دوسری طرف سے خوشی کی شدت سے مسلسل بولتے ہوئے کہا اور فون بھی خود ہی بند کردیا ۔ شائد وہ خوشی میں کچھ زیادہہی بول گیا ۔ادھر پرمود نے فوراََ اسپیشل فورس کو تیار رہنے کا کہا اور آنند کلب پہنچ کر زبردست چھاپہ مارا بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ میجر پرمود نےوہاں رات کے اندھیرے میں خون کی ہولی کھیلی اور آنند کلب کے مالک مائیکل آنند کو بنا کسی مقابلے کے گولیوں سے چھلنی کردیااس کے کلب سے لاکھوں ڈالر کا غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد کرلیاجسے ظاہر ہے ملک میں دہشت گردی کے لئے ہی استعمال کیا جانا تھا۔

Download Free in PDF

ختم شد

—— آپکو یہ ناول کیسا لگا؟ کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz

Leave a Reply

%d bloggers like this: