Danish Ahmad Shahzad Kids Stories Readable Novels Unicode Books

ایک دن کے جاسوس از دانش احمد شہزاد

Written by Peerzada M Mohin

کاشف ایک درخت کے سائے میں بیٹھا تنکوں سے کھیل رہا تھا کہ اس کی چھوٹی دو بہنیں آگئیں اور اس کو تنگ کرنے لگیں کہ چلو بھیا ہمارے ساتھ کھیلو جبکہ کاشف ان کو ٹالنے کی کوشش کررہا تھا لیکن کچھ دیر بعد وہ ان کے ساتھ کھیلنے پر تیار ہوگیا اور کچھ دیر کھیلنے کے بعد کاشف وہاں اپنی بہنوں کو گھر چلنے کا کہہ کر خود بازار کی طرف چل پڑا ابھی وہ کچھ دور ہی گیا تھا کہ اس کو امجد آتا ہوا دکھائی دیا ۔ امجد کاشف کا بہت پرانہ اور گہرا دوست تھا اور وہ دونوں کلاس فیلو بھی تھے اور وہ دونوں ذہین اور بہادر ہونے کی وجہ سے اپنی کلاس میں اچھے نمبروں سے پاس ہوتے تھے۔ اور وہ دونوں فارغ اوقات میں غریبوں اور بے سہاروں کی مدد کیا کرتے تھے اب بھی وہ دونوں اپنی سکول کی باتیں کرتے ہوئے جارہے تھے کہ ایک مکان میں سے ایک عورت کے رونے کی آواز سنائی دی اور وہ دونوں رُک گئے ۔ کاشف نے آگے بڑھ کر دروازے پر دستک دی۔

کون ؟ تھوڑی دیر بعد اندر سے عورت کی آواز آئی۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ اماں جی، میرا نام کاشف ہے اور ہم آپ سے کچھ پوچھنا چاہتے ہیں۔ کاشف نے کہا

اور پھر دروازہ کھل گیا

جی بیٹا پوچھو کیا پوچھنا ہے اور کہاں سے آئے ہو ۔ عورت نے ان دونوں کو اندر آنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔جبکہ کاشف اور امجد اندر داخل ہوگئے۔

ہم آپ سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ اس درد سے کیوں رو رہی ہیں اور ہم آپ کے کس کام آسکتے ہیں ؟ امجد نے عورت کے پیچھے چلتے ہوئے کہا ، اور وہ عورت ان کو ایک کمرے میں لے آئی اور بیٹھنے کا کہا۔

ہم بیٹھنے نہیں آئے اگر آپ مناسب سمجھیں تو ہمیں اپنی پریشانی بتائیں ہو سکتا ہے ہم آپ کے کسی کام آجائیں۔ کاشف نے کہا

تم دونوں میری پریشانی پوچھ کر کیا کرو گے؟ عورت نے کہا

آپ بے فکر ہو کر ہمیں اپنی پریشانی بتائیں ہم سے جو ہو سکا ہم ضرور کریں گے۔امجد نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔

تم کہتے ہو تو ٹھیک ہے میں اور میرا شوہر اپنے بچے کے ساتھ یہاں تین سال سے رہ رہے ہیں میرا شوہر ساتھ والی کالونی میں شہر کے امیر ترین سیٹھ جعفر کے گھر بطور ڈرائیور کام کرتا ہے۔ایک دن میرے شوہر سے ایکسیڈنٹ ہوگیا سیٹھ کی گاڑی کا کافی نقصان ہوا جبکہ میرے شوہر بچ گئے وہ بہت سخت قسم کا آدمی ہے اس نے کہا کہ اب تم ہی گاڑی کا نقصان پورا کرو گےہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ گاڑی کا نقصان پورا کرسکتے اور سیٹھ نے بھی ایک ماہ کی تنخواہ نہیں دی اور دو دن قبل اس کے گھر ڈاکہ پڑ گیا اور اس کی ساری ذمہ داری بھی اس نے ہم پر ڈال دی اور پولیس کو بیان میں کہا کہ اس واردات میں ہمارا ہاتھ ہے اور پولیس نے بھی ہماری ایک نہ سنی اور تب سے میرے شوہر حوالات میں بند ہیں اور آج جب میرے بچے سکول سے واپس گھر نہیں آئے تو میں پریشان ہوگئی میں نے ان کو ہر جگہ تلاش کیا لیکن کوئی پتہ نہیں لگا اسی لئے گھر آکر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی ہوں میری تو قسمت ہی پھوٹ گئی ہے۔ عورت نے تفصیل سے بتاتے ہوئے کہاجبکہ ساتھ ساتھ اس کے آنسو بھی نکل رہے تھے۔

اچھا آپ کے پاس بچوں کی تصاویر تو ہونگی وہ ہمیں لادیں اور حوصلہ کریں اللہ تعالیٰ ضرور ہماری مدد کرے گا۔ کاشف نے کہا اور وہ عورت اٹھ کر الماری کی طرف بڑھ گئی اور پھر جلد ہی پاسپورٹ سائز کی دو تصاویر لا کر ان کو دے دیں اور وہ دونوں اس کو تسلی دیکر باہر آگئے اب وہ سوچنے لگے تھے کہ اچانک امجد بول پڑا ، کاشف تمہارے ذہن کا بھی کوئی مقابلہ نہیں ہے ساری کہانی تو سن لی جو کام کی باتیں تھیں وہ تو پوچھیں نہیں، شوہر کا نام اور بچوں اور سکول کا نام۔

اوہ ہو ہاں یہ تو یاد ہی نہیں رہا مگر تمہاری عقل کیا گھاس چرنے گئی تھی تم بھی تو ساتھ ہی تھےتم ہی پوچھ لیتے۔ کاشف نے بھی ویسے ہی لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہا اور پھر دونوں ایک ساتھ اپنی اس بے وقوفی پر ہنس پڑے۔

اچھا چلو اب پوچھ لیتے ہیں ۔ امجد نے مڑتے ہوئے کہااور کاشف نے اثبات میں سر ہلا دیا اور دروازے پر دستک دی۔

کون۔ تھوڑی دیر بعد اندر سے آواز آئی

کاشف ہوں۔ آپ نے اپنے شوہر کا نام ، بچوں کا نام اور سکول کا تو بتایا ہی نہیں اگر بتا دیں تو آسانی ہوجائے گی۔امجد نے کہا۔

جی ۔ میرے شوہر کا نام رضوان ساگر جبکہ بیٹے کا نام جاوید ساگر اور بیٹی کا نام عائشہ رضوان ہے۔اور وہ یہاں قریب ہی سکول میں پڑھتے ہیں۔ عورت نے جواب میں نام وغیرہ بتاتے ہوئے کہا۔کاشف اور امجد نے شکریہ ادا کیا اور اس سکول کی طرف چل پڑے جس میں وہ دونوں بچے پڑھتے تھے۔اور جلد ہی وہ سکول کے قریب ایک سوپر سٹور کے کاؤنٹر پر موجود آدمی کے پاس گئے۔

بھائی آپ نے ان بچوں کو نہیں دیکھا۔ کاشف نے تصویریں دکھاتے ہوئے پوچھا،

نہیں بیٹا۔ اس آدمی نے جواب دیا

اور وہ دونوں سکول کے پاس پاپ کارن کی ریڑھی والے کے پاس گئے اور اس سے بھی ان بچوں کے متعلق پوچھا۔

جی یہ تو سکول سے چھٹی کے بعد ایک سفید رنگ کی کار میں بیٹھ کر گئے تھے۔ پاپ کارن والے نے تصویروں کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔

کیا آپ اس کار کا نمبر بتا سکتے ہیں۔ کاشف نے پوچھااور اس نے کہا کہ نمبر تو یاد نہیں مگر سفید رنگ کی نئے ماڈل کی کار تھی اور ہاں اس کی بیک سائڈ پر ایک بکری کے بچے کا گول سا سٹیکر لگا تھااور یہ حیرت کی بات تھی میرے لئے اس لئے وہ یاد رہ گیا۔

اب وہ دونوں اس کا شکریہ ادا کرکے گھر کی طرف چل پڑے تقریباََ بیس منٹ بعد وہ گھر پہنچے کاشف نے امجد کو کہا تھا کہ وہ کھانا کھا کر اس کی طرف ہی آجائے ۔

پھر جب امجد کو آنے میں دیر ہوگئی تو کاشف نے گھر میں موجود کھڑی موٹر سائیکل پکڑی اور امجد کی طرف چل پڑا۔ اور جلد ہی وہ شہر کے مختلف ہوٹلوں پر موجود سفید رنگ کی گاڑیوں کو غور سے دیکھنے لگے اور مختلف سڑکوں پر آوارہ گردی کرتے اچانک ایک چھوٹے سے ہوٹل کے سامنے ان کو وہ گاڑی مل گئی وہ ہوٹل کے سامنے کھڑی تھی۔

کاشف اور امجد نے موٹر سائیکل ایک طرف کھڑی کی اور ساتھ ہی وہ ادھر ادھر ایسے گھومنے لگے جیسے چہل قدمی کررہے ہوں۔

امجد اس طرح چہل قدمی کرنے سے کچھ نہیں ہوگا تم اس طرح کرو کہ اس کار کی ڈگی میں گھس جاؤ تمہارے پاس موبائل ہے اگر کوئی مسئلہ ہو تو فوری مجھے مس کال یا کال کرلینا۔نہیں تو پھر میں صرف تعاقب ہی کرتا رہ جاؤں گا اور امجد فوراََ اس کار کی جانب چل پڑا۔ شام کے وقت ہونے کی وجہ سے کا اس وقت قریباََ اندھیرے میں کھڑی تھی۔اس لئے اس کو اندر داخل ہونے میں کوئی پریشانی نہ ہوئی۔ادھر کاشف امجد کو کار کی ڈگی میں داخل ہوتے دیکھ رہا تھا اور پھر دعا کرنے لگا کہ جلد ہی کوئی آجائے یہ نہ ہو یہ کار ساری رات یہی کھڑی رہے اور ان کی ساری محنت اور وقت ضائع ہو جائے ابھی وہ یہی کچھ سوچ رہا تھا کہ دو آدمی کار کو سٹارٹ کرکے چل پڑےاور کاشف نے اب اس کا تعاقب شروع کردیا کچھ دیر بعد کار ایک کوٹھی میں داخل ہوگئی ۔

کاشف نے موٹرسائیکل سائیڈ پر کھڑی کی اور اس کو لاک کرکے کوٹھی کی سائیڈ والی گلی میں آگیا اس گلی میں آکر اس نے اردگرد کا جائزہ لیا اور تین چار جمپ لگا کر دیوار پر چڑھنے میں کامیاب ہوگیا۔ اور جلد ہی وہ اندر پہنچ گیا۔جیسے ہی اس نے کمرے کا دروازہ کھولا تو پیچھے سے ایک آدمی نے اس کو پکڑ لیا جبکہ کاشف ڈر گیا کہ اب کیا ہوگا لیکن آہستہ آہستہ اس نے خود کو سنبھال لیا۔ وہ اس کو ایک خالی کمرے میں لے گیا۔

اب ۔ بتاؤ کیا نام ہے تمہارا۔۔۔؟ اور تم یہاں تک کیسے پہنچے۔اس آدمی نے غصے سے کہا۔ اور کاشف نے ڈرتے ڈرتے اپنا نام بتا دیا۔

تم یہاں کیسے پہنچے۔۔۔؟ جلدی بتاؤ ورنہ جان نکال دوں گا۔اس آدمی نے مزید غصیلے لہجے میں کہا

پندرہ منٹ کے لئے اکیلا چھوڑ دو اس کمرے میں پھر بے شک جو مرضی پوچھ لینا۔ کاشف نے کچھ سوچ کر ڈرتے ڈرتے کہا۔اور وہ آدمی نہ جانے کیا سوچ کر ہنس پڑا۔

اچھا تم پندرہ کی بجائے آدھا گھنٹہ لے لو لیکن یہ سوچ لو تم زندہ آتو گئے ہو مگر جانہیں سکو گے۔آدمی نے کہا پھر اس کی جامہ تلاشی لی اور موبائل نکال کر لے گیا اور جاتے باہر سے دروازے کو بند کرگیا۔

کاشف نے کمرے کو غور سے دیکھا وہاں صرف ایک ڈسٹ بن اور ایک کرسی اور میز کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔لیکن جب اس نے بے دھیانی میں ڈسٹ بن دیکھا تو اس میں بھی کاغذ کے چند ٹکڑوں کے سوا کچھ نہ ملا ابھی وہ یہاں سے نکلنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ خیال آیا ڈسٹ بن کے کاغذ کے ٹکڑے تو دیکھے اس نے ان ٹکڑوں کو نکال کر جوڑنے کی کوشش کی مگر پھر اس کو اس آدمی کے الفاظ یاد آگئے کہ زندہ آ تو گئے ہو جا نہیں سکو گے بس پھر کیا تھا اس نے ان ٹکڑوں کو جیب میں ڈال اور ایک کھڑکی کھول کر دیکھا تو پتہ چلا کہ یہ کمرہ دوسری منزل پر واقع ہے اگر چھلانگ لگائی تو ممکن ہے ہڈیاں ٹوٹ جائیں لیکن اس کی خوش قسمتی تھی کہ کھڑکی کی سائیڈ پر کچھ فاصلے پر ایک درخت تھا اس تک پہنچنے کے لئے اسے کھڑکی سے چھلانگ لگانی تھی اور کچھ کنفرم نہیں تھا کہ وہ وہاں پہنچ جائے گا یا پھر۔۔۔

مگر اس نے خدا کا نام لے کر کھڑکی سے درخت کی طرف چھلانگ لگا دی جیسے ہی وہ ایک ٹہنی ٌپر پہنچا تو ٹہنی اس کا وزن نہ سہار سکی اور ٹوٹ گئی لیکن کاشف نے بروقت پھرتی دکھائی اور ایک اور ٹہنی کو پکڑ لیا جس کی وجہ سے وہ گرنے سے بچ گیا۔جبکہ دوسری ٹہنی بھی اس کے وزن سے لٹکی ہوئی تھی اور کسی بھی وقت وہ بھی درخت کا ساتھ چھوڑ سکتی تھی جلد ہی وہ درخت کی طرف بڑھ کر تنے کے ذریعے نیچے اترنے کی کوشش میں کامیاب ہوگیا۔اور پھر وہ اپنی موٹر سائیکل کی طرف جانے لگ تو امجد بھی آتا ہوا دکھائی دیا۔

چلو کاشف اب گھر چلتے ہیں باقی مسئلہ کل دیکھیں گے۔ امجد نے کہا

نہیں پہلے حوالات چلتے ہیں وہاں سے رضوان ساگر کو رہا کروا کر لاتے ہیں پھر گھر چلیں گے، کاشف نے کہا اور موٹر سائیکل پر سوار ہو کر پولیس اسٹیشن کی طرف چل پڑے۔

جلد ہی وہ پولیس اسٹیشن پہنچ گئے اور پھر وہ دونوں رات کی ڈیوٹی پر تعینات انسپکڑ سے ملے اور ان کو ساری تفصیل بتا کر رضوان ساگر کو رہا کرنے کا کہا مگر انسپکٹر بچوں کی کہاں سنتا مجبوراََ کاشف نے اپنے والد محترم کو فون کیا جو اسپیشل پولیس میں ایک اچھے عہدے پر فائض تھے اور ان کو ساری تفصیل بتائی اور رسیور انسپکٹر کی طرف بڑھا دیا۔جسے اس نے دوسری طرف سے احکامات سن کر رکھ دیا اور ایک سپاہی کو بلایا اور رضوان کو لانے کا کہااور پھر وہ ایک فارم پر دستخط کرکے رضوان کو ساتھ لے کر گھر کی طرف چل پڑے۔

سیٹھ جعفر اس وقت اپنے کمرے میں بیٹھا ایک فائل کھولے اس کا مطالعہ کررہا تھا کہ سائیڈ میز پر رکھا ہو افون جب اٹھا۔

ہیلو ۔ کون۔۔۔؟ جعفر نے رسیور کان سے لگاتے ہوئے کہا۔

بشیر بول رہا ہوں سیٹھ صاحب ۔۔۔ابھی ابھی کال آئی ہے کہ مال نہیں پہنچ رہا تو میں نے کہاکہ مال بہت جلد پہنچ جائے گا جس پر دوسری طرف سے کہا گیا کہ سیٹھ سے پوچھ کر بتاؤ۔ دوسری طرف سے آواز آئی۔

انہیں کہہ دو کہ مال تین چار روز میں پہنچ جائے گا ۔سیٹھ جعفر نے کہہ کر رسیور رکھ دیا۔

اور نمبر ڈائل کرکے موبائل کان سے لگا لیا۔

کمپنی مال مانگ رہی ہے جیسے بھی ہو مال تین دن میں ہر احال میں پہنچنا چاہیئے۔ سیٹھ جعفر نے سخت لہجے میں کہا۔

سیٹھ صاحب لیکن یکدم شہر سے انتے بچے غائب ہونے پر پولیس حرکت میں آجائے گی۔لیکن آپ فکر نہ کریں میں دوسرے شہر سے اس کا بندوبست کرتا ہوں ایک تو ابھی خود آگیا ہے جسے میں نے کمرے میں بند کردیا ہے۔ دوسری طرف سے کہا گیا۔اور سیٹھ نے اوکے کہہ کر کال بند کی اور فائل میز پر رکھ کر اٹھ کر بیڈروم میں چلا گیا۔

کاشف نے گھر آتے ہی اپنے کمرے میں سب سے پہلا کام یہ کیا کہ ان کاغذ کے ٹکڑوں کو جوڑ کر پڑھا تو وہ یہ جان کر حیران رہ گیا کہ اس میں بچوں کو اغوا کرکے بیرون ملک بھیجا جاتا ہے۔ اگلے دن چونکہ اس کو سکول سے چھٹی تھی اس لئے وہ امجد کی طرف چل دیا۔اور کچھ دیر بعد وہ ایک قریبی پاک میں بیٹھے سوچ رہے تھے کہ اب کیا کیا جائے۔

کیا کیا جائے اپنے والد صاحب کو بتاؤ ۔ امجد نے تجویز دی۔

لیکن ہم خود ہی کیوں نہ اس معاملے کو دیکھیں چھٹی بھی ہے اور جاسوسی بھی ہوجائے گی۔ کاشف نے کہا۔مگر امجد اس کی مزید بات سنے بغیر کاشف کے والد صاحب کو کال ملا چکا تھا دوسری طرف سے دونوں کو گھر آنے کا کہا گیا پوچھنے پر کاشف نے ساری تفصیل بتا دی اور اس کاغذ کو بھی والد صاحب کے ہاتھ میں دے دیا جس پر انہوں نے فوری ایکشن لیتے ہوئے فورس تیار کرائی اور جس جگہ کاشف کو بند کیا گیا تھا وہاں ریڈ کی گئی اور اس کوٹھی کے ایک کمرے سے پندرہ بیس بچے برآمد کئے گئے جب وہاں کی مکمل تلاشی لی گئی اور فون کی کالز ڈیٹا چیک کیا گیا تو سیٹھ جعفر سامنے آیا جسے فوری گرفتار کرلیا گیا ۔ اگلے دن عدالت میں ثبوت سمیت سیٹھ جعفر اور اس کے گروہ کو سزا سنا دی گئی جبکہ کاشف کے والد نے اعلیٰ افسران کو جب تفصیل بتائی تو وہ بھی کاشف اور امجد کو داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔اور انہوں نے دونوں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بروقت پولیس کی مدد کی اور کئی بے گناہ بچوں کو درندوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

Download Free in PDF

ختم شد

—— آپکو یہ ناول کیسا لگا؟ کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz

Leave a Reply

%d bloggers like this: