Fareed ul Allah Kids Stories Readable Novels Unicode Books

عقل مند شیر از فرید اللہ

Written by Peerzada M Mohin


ایک دن لومڑی نے اپنے شوہر لومڑ سے کہا۔جنگل کا بادشاہ شیر ہے ہر کوئی اپنے شکار میں سے شیر کا حصہ نکالتا ہے۔بسا اوقات شیر پورے کا پورا شکار ہضم کر جاتا ہے،آخر بادشاہ جو ٹھہرا۔۔۔۔؟

پھر ایک درد ناک ہاہوکرنے کے بعد لومڑی بولی۔

کیا ایسا نہیں ہوسکتا کے تم پورے جنگل کے بادشاہ کہلانے لگو۔۔۔؟

لومڑی کی اس بات پر لومڑ نے گھبرا کر ادھر اُدھر دیکھا پھر لومڑی سے بولا۔کیسے دیدے پھاڑپھاڑ کر تم نے بات کی ہے۔ کیا اس بات کو شیر برداشت کرے گا کہ میں کہ میں جنگل کا بادشاہ کہلانے لگو۔۔۔۔

یہی تو میں چاہتی ہوں کہ تم جنگل کے بادشاہ بن جاو اور میں تمہاری رانی پھر میں دیکھوں گی شیر کیسے دوسروں کے شکار ہضم کرتا ہے تم میرے بات کا برا نا مناو تو ایک کام کرو۔۔۔۔؟

وہ کیا۔۔۔۔۔؟لومڑ نے کہا

اس جنگل میں صرف ایک شیر ہے اور ایک شیرنی باقی رہے اُن کے بچے تو اُن سے نپٹنا کوئی بڑی بات نہیں ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ کسی طرح سے ایک آدمی کا آمنا سامنا شیر سے کروادو۔۔۔۔

اس سے کیا ہوگا؟۔لومڑنے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔

اس پر لومڑی نے زمین پر پنجہ مارتے ہوئے کہا۔

ہائے میری قسمت خدانے جس طرح سے مجھے لائق فائق بنایا ہے

اگر تجھے بھی ایسا بنایا ہوتا تو آج مجھے یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔۔۔

کوئی بات بھی کرو گی یا یونہی مجھے کوستی رہو گی۔۔۔۔؟

لومڑی نے بات کرنے سے پہلے ادھر اُدھر دیکھااور بولی۔موٹی عقل کے میرے شوہرغور سے سن!! تو کسی طرح سے آدمی کو گھیر گھار کر سیر کی غار کے سامنے لے آ۔

جب شیرآدمی کو دیکھےگا تو وہ فورا اس پر حملہ کرکےاُسے چیر پھاڑ دے گا۔۔۔

پھر کیا ہوگا۔۔۔۔؟لومڑ نے بات کا ٹتے ہوئے پوچھا۔

لومڑی ٹپاک سے بولی۔ہوگا تیرا سر پوری بات سنتا نہیں اور فضول درمیان میں بولتا جاتا ہے۔ جب آدمی شیر کے ہاتھوں مارا جائے تو دوسرے آدمی اس کی تلاش کے لیے جنگل میں آئیں گے جب انہیں پتہ چلے گا کہ شیر نے اُن کے آمی کو مار ڈالا ہے تو وہ انتقام لینے کی غرض سے شیر اور شیرنی کے دشمن بن جائیں گے۔پھر اس وقت تک دم نہیں لیں گے جب تک انہیں جان سے نہیں مار ڈالیں گے،کیونکہ میں آدمی کے انتقام کو اچھی طرح جانتی ہوں،جب شیر اور شیرنی مر جائیں گے تو پھر تم آسانی سے اس جنگل کے بادشاہ بن جانا میں تمہاری رانی۔۔۔

نہ بابا۔۔۔ لومڑنے اپنے کانوں کو کھجاتے ہوئے کہا۔میں آدمی کے سامنے ہرگز نہیں جاوں گا۔

وہ بڑا لڑاکا ہے مجھے دیکھتے ہی لٹھااٹھا کر میرے پیچھے اُٹھ دوڑتا ہےمیں اُس کے ہرگز نہیں جاوں گا۔۔۔نہ بابا نہ۔۔۔

لومڑنے اپنے کانوں کو کھجاتے ہوئے کہا۔میں آدمی کے سامنے ہر گز نہیں جاوں گا۔وہ بڑا لڑاکا ہے مجھے دیکھتے ہی لٹھ اٹھا کر میرے پیچھے اُٹھ دوڑتا ہےمیں اُس کے سامنے ہرگز نہیں جاوں گا۔۔۔نہ بابا نہ۔۔۔

کیا نہ بابا نہ کی گردان رٹ رہے ہو۔یہی تو چاہتی ہوں کہ تجھے دیکھتے ہی آدمی تیرے پیچھے دوڑنے لگے اور تو دوڑکر شیر کے غار کے سامنے آکر کھڑا ہوجائے ۔پھر شیر خود ہی آدمی کو دیکھ کر اس سے نپٹ لے گا۔

اگر آدمی کا لٹھ میری دُبلی پتلی اور کمزور سی گردن پر پڑ گیا تو پھر کیا ہوگا۔۔۔

لومڑ کی اس بات پر لومڑی کو سخت غصہ آیا وہ اسے بری طرح جھڑکتے ہوئے بولی۔

جاو دفع ہو یہاں سے اس سے تو بہتر تھا کہ میں کسی خرگوش سے بیاہ رچالیتی تیرے پلے نہ پڑتی۔تم جاو میں خود ہی یہ کام کرونگی۔

اس پر لومڑ تھوتھنی لٹکائے لومڑی کے پاس سے ہٹ کر اپنے غار میں چلا گیا جب وہ چلا گیا تو لومڑ ی سوچنے لگی کہ لومڑ سچ ہی کہتا ہے اگر آدمی کا لٹھ کمر پر پڑ گیا تو پھر بادشاہت کے سارے خواب ادھورے ہی رہ جائیں گے۔اس لئےکوئی ایسی ترکیب سوچنی چاہیے کہ جس سے آدمی شیر کے غار کے سامنے پہنچ جائے۔۔۔

پھر اچانک اس کے ذہین مین ایک بات آئی اور وہ شیر کے غار کی جانب چل پڑی۔ لومڑی شیرنی کے پاس پہنچ کر بولی۔

مہارانی!میں ایک بڑے ضروری کام سے تیرےپاس آئی ہوں۔۔۔

کہو خیر تو ہے بی خالہ۔۔۔۔شیرنی نے اُس سے پوچھا۔

لومڑی نے جواب میں کہا۔کیا بتاوں مہارانی مجھے تو اب کے سال شادیاں لے ڈوبی ہیں آئے دن کسی نہ کسی لومڑ یا لومڑی کی شادی ہوتی رہتی ہے اور مجھے جانا پڑتا ہے اب کل ایک ایسی شادی آن پڑی ہے جس نے مجھے پریشان کردیا ہے وہ لومڑ جس کے بیٹے کی شادی ہے بڑا امیر ہے کئی کئی دنوں تک اُس کے ہاں سے گوشت ختم نہیں ہوتا۔۔۔

شیرنی بولی تو پھر تمہیں کوئی گوشت کا ٹکڑا چاہیے وہاں دینے کے لیے۔۔۔

نہیں مہارانی مجھےگوشت وست نہیں چاہیے وہاں تو کوئی نقد زندہ خرگوش دینا ہوگا۔اسی کو وہ پسند کرتے ہیں میرے میاں نے خرگوش کا بندوبست کرلیا ہے مگر ایک چیز کا بندوبست نہیں ہوسکا۔۔۔شیرنی کے پوچھنے پر لومڑی بولی سونے کے کنگن کا۔۔۔ مہارانی جی اگر تم مجھے اپنا کنگن دے دو تو میری عزت رہ جائے گی میں اسے پہن کر جاوں تو وہ لوگ میری بہت عزت کریں گے۔

تو اس میں پریشان ہونے کی کونسی بات ہے بھلا بی خالہ!وہ میں تمہارے سامنے انکار کرسکتی ہوں۔تم ہماری پرانی خادمہ ہو اور ہمیشہ تم نے ہماری خدمت کرنے میں فخر محسوس کیا ہے۔یہ کہتے ہوئے شیرنی نے غار کے اندر سے ایک سونے کا کنگن لاکر لومڑی کے حوالے کردیا۔لومڑی نے اسے گلے میں لٹکا یا اور شیرنی کو سلام کرکے غار سے باہر نکل گئی۔۔۔

یونہی وہ غار سے باہر نکلی دوسری طرف سے شیر آگیا اور اس نے آتے ہی شیرنی سے پوچھا۔بی لومڑی آج کوئی شکار لائی ہے یا نہیں۔۔۔ شیرنی نے جواب دیا وہ شکار تو نہیں لائی البتہ سونے کا کنگن لینے آئی تھی اور وہ لے کر چلی گئی ہے۔ سونے کا کنگن وہ کس لئے لے گئی ہے۔کہتی تھی کہ کسی امیر لومڑ کی شادی ہے وہاں جانا ہے۔اس لئے کنگن لینے آئی ہوںشادی سے واپسی پر لوٹا دے گی۔اس پر شیر نے کچھ برا مناتے ہوئے کہا۔وہ تو میں بھی سمجھتا ہوں کہ لوٹا دے گی مگر مجھے تو کوئی اور ہی بات دکھائی دیتی ہے۔ایسا نہ ہو اس نے کوئی چال چلنے کی خاطر ہم سے کنگن لیا ہو یہ بڑی مکار قوم ہے تمہیں اس سے بچ کر رہنا چاہیے۔۔۔ شیرنی نے شیر کو تسلی دیتے ہوئے جواب دیا۔

اجی چھوڑیں آپ اس بات کو بھلا وہ بچاری ہم سے کیا مکاری کرے گی۔ہر وقت تو ہماری خدمت میں حاضر رہتی ہےاور جو اسے کہا جائے وہی کرتی ہے اس کے علاوہ دوسرے جانوروں سے ہمارے حصے کا گوشت بھی لے کر آتی ہے وہ ہم سے کیا دھوکہ اور مکاری کرے گی۔

میں نے تو اُسے کنگن دے کر اور بھی اپنا میطع کرلیا ہے۔۔۔

تمہاری عقل پر پردہ پڑا ہے۔میں کیا کروں۔۔۔؟شیر نے یہ کہا اور غار کے اندر جاکر لیٹ گیا۔

لومڑی کنگن پہنے جب لومڑ کے سامنے پہنچی تو لومڑ نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔یہ کہاں سے چرا لائی ہو؟

لومڑی نے لومڑ کو جھٹکتے ہوئے کہا۔کیا تم مجھے چور سمجھتے ہو یہ تو میں محض آدمی کو پھنسانے کے لئے شیرنی سے لائی ہوں۔۔۔

آدمی کو پھانسے کے لئے؟لومڑ حیران ہوکر بولا ۔ہوں موٹی عقل کے میرے شوہر میں اسے پہن کر آدمی سے دور کھڑی ہو جاوں گی۔وہ اسے دیکھ کر میرے پیچھے دوڑے گا میں اسے لئے شیر کے غار کے سامنے کھڑا کرونگی خود غار میں جا کر چھپ جاوں گی پھر اسکے بعد جو ہوگا وہ تم جانتے ہی ہو۔۔۔

کیا اسکے بغیر تم آدمی کو نہیں لا سکتی تھی؟۔۔۔۔

لومڑ نے پوچھا تو لومڑی نےاُسے پنجہ مارتے ہوئے کہا۔۔۔۔

تو تم بدھو کے بدھو ہی رہوگے۔تم دیکھتے رہو میں کیا کرتی ہوں۔اور پھر وہ جنگل کی جانب چل پڑی۔

لومڑی سونے کا کنگن اپنے گردن میں لٹکائے جنگل کی سرحد کے قریب قریب گھوم رہی تھی اور ساتھ ساتھ کسی آدمی کو پانے کے لئے جنگل سے باہر دیکھتی جاتی تھی۔ابھی اُسے کوئی آدمی نظر نہیں آیا تھا کہ ایک طوطا جو بڑی دیر سے لومڑی کی بے چینی کو دیکھ رہا تھا۔درخت پر سے بولا کہوبی لومڑی خیر تو ہے آج تو بڑی سج دھج سے گھوم رہی ہو۔۔۔

لومڑی نے درخت کےاوپر دیکھا تو ایک طوطے کو ٹہنی پر بیٹھے پایا۔وہ اس کی بات سن کر بولی۔

طوطے میاں!ایسی ویسی تو کوئی بات نہیں یونہی ذرا گھومنے کو جی چاہا تو اس طرف آنکلی۔تم سناو تمہارا کیا حال ہے بال بچے تو ٹھیک ہیں؟ لومڑی کی اس بات پر طوطے نے ٹھنڈی سانس بھرتےہوئے جواب دیا بچوں کا کیا پوچھتی ہو لومڑی خدا نے دو بچے دئے تھے دونوں ہی ایک آدم زاد گھونسلے سے نکال لے گیا طوطی بچاری کا برا حال ہے۔جب سے بچے گئے ہیں نہ دانا چگا ہے نہ پا نی پیا ہے۔بس رورو کر برا حال کررہی ہے اپنا۔ لومڑی کو اپنے مطلب کی بات مل چکی تھی اور وہ اپنے آپ میں خوش بھی تھی پھر بھی اس نے طوطے کا دل رکھنے کی خاطر کہا۔تم یہانسے گھونسلہ چھوڑ کر کہیں اور کیوں نہیں چلے جاتے۔۔۔

بی لومڑی کہاں جائیں۔تمہیں تو پتہ ہے آج کل گھونسلے کہاں بنتے ہیں۔جنگل کے اندر چلے جائیں تو ہمارے لئے مصبیتیں ہیں ایک سے بڑھ کر ایک درندہ اور جانور ہے۔اس پر پرندوں کی وہ بھر مار کہ کسی درخت پر تل دھر نے کو جگہ نہیں ملتی ہم بھلا ایسے میں گھونسلہ بنا سکتے ہیں نفسا نفسی کا عالم ہے۔۔۔

سچ کہتے ہو۔اب ہمیں دیکھو دن رات شیر کی خدمت کرتے ہیں طاقتور جو ٹھہرا۔کہیں جا کر دو لقمے گوشت ملتا ہے اچھا بھئ اب میں تو چلی۔اللہ تمہارے حال پر رحم کرے۔لومڑی یہ کہہ آگئے بڑھ گئی تھوڑی دور گئی ہوگئی کہ اُسے دور کھڑا آدم زاد دکھائی دیا۔ اس نے بھی لومڑی کو دیکھ لیا تھا۔آدمی نے جب غور سے لومڑی کے گلے میں سونے کا کنگن لٹکتے ہوئے دیکھا تو بڑا حیران ہوا۔پھر اس نے لٹھ اُٹھایا اور لومڑی کے گلے سے سونے کا کنگن حاصل کرنے کے لئے اس کے پیچھے اُٹھ دوڑا۔لومڑی نے اپنے پیچھے آتے ہوئے دیکھا تو وہ اپنی سوچ کے مطابق شیر کے غار کی جانب چلنے لگی وہاں شیرنی موجود تھی۔بولی خیرتو ہے اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو۔۔۔

کچھ نہ پوچھو مہارانی میں شادی کے گھر سے واپس آرہی تھی کہ میرے گلے میں سونے کا کنگن دیکھ کر ایک آدمی میرے پیچھے اُٹھ دوڑا۔۔۔

آدمی۔۔۔۔۔؟کہاں ہے وہ؟شیرنی غصے کے ساتھ بولی۔غالبا وہ غار کہ باہر کھڑا میرا ا نتظار کر رہا ہوگا کہ یونہی میں باہر نکلو وہ مجھ سے سونے کا کنگن چھین کر لے جائے۔

دیکھتی ہوں اس موذی کو۔۔۔۔یہ کہہ کر شیرنی نے جھاڑی کے پیچھے کھڑے آدمی کو چیر پھاڑ ڈالا۔

دوسرے دن دس بارہ شکاری جنگل میں اپنے ساتھی کی تلاش کرتے پھرتے تھے لومڑی نے انہیں دیکھا تو دوڑ کر اپنے لومڑ کے پاس پہنچی اور اس سے بولی۔

اب تمہارے بادشاہ بننے کا وقت آگیا ہے بہت سے شکاری اپنے ہاتھوں میں ہر قسم کا اسلحہ لئے شیر کے غار کی جانب بڑھ رہے ہیں۔وہاں پہنچ کر وہ شیر اور شیرنی کو ہلاک کر دیں گے اُن کے بچوں کو اغوا کرکےلے جائیں گے۔پھر اس جنگل میں تمہارا ہی راج ہوگا اور میں تمہاری رانی بن کر مٹک مٹک کر جنگل میں گھومتی پھروں گی۔۔۔ لومڑی نے ابھی بات ختم کی ہی تھی کہ شیر جو اس کے پیچھے کھڑا اس کی ساری باتیں سن رہا تھا آگے بڑھا اور لومڑی کے منہ پر ایک زوردار تھپڑ مارتے ہوئے بولا۔

بے وقوف وہ بادشاہ کس کام کا جسے اپنی رعایا کے اچھے اور برے لوگوں کا پتہ نہ ہو میں نے تو اسی وقت تیری سازش کو پالیا تھا جب تو شیرنی سے کنگن لے کر گئی تھی۔مگر ہم تیری سازش کا شکار نہیں ہوئے۔میں اپنا غار اسی دن چھوڑ دیا تھا۔جس دن شیرنی سے آدمی مارا گیا تھا کیوں کہ میں یہ بات خوب اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ انسان کا مقابلہ کوئی جانور نہیں کرسکتا۔کیونکہ وہ انسان اشرف المخلوقات ہے۔اور میں تجھے اس مکاری کی سزا دینے آیا ہوں۔۔۔

یہ کہنے کے بعد شیر نے آگے بڑھ کر لومڑی کے چہرےپر دو زور دار تھپڑ مارے لومڑ نے آگے بڑھ کر شیر کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔

میرے آقااسے معاف کردیں۔یہ بےوقوف ہے اسے اپنے کئے کی سزا مل گئی ہے آپ نے اسے معاف کردیا تو خدا آپ پر راضی ہوگا۔اس پر شیر نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور یہ کہتے ہوئے چلا گیا۔

میں نے اسے معاف کیا۔


Download Free in PDF

ختم شد

—— آپکو یہ ناول کیسا لگا؟ کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz

Leave a Reply

%d bloggers like this: