Kids Stories Mazhar Kaleem MA Readable Novels Umro Ayyar Unicode Books

عمرو عیار اور خواب پری از مظہر کلیم ایم اے

Written by Peerzada M Mohin

 

عمرو اپنے مکان کے دروازے پر پہنچ کر گھوڑے سے اترا اور گھوڑا اپنے ملازم کو دے کر وہ تھکے قدموں سے مکان میں داخل ہوا۔ اس وقت وہ ایک طویل سفر طے کرکے واپس آرہا تھا۔ سردار امیر حمزہ نے اسے ایک خاص پیغام دے کر فراسان کے بادشاہ کے پاس بھیجا تھا اور وہ فراسان پہنچ کر کئی دنوں تک فراسان کے بادشاہ کا مہمان بنا رہا۔ پھر فراسان کے بادشاہ نے اسے اپنے خاص کمرے میں طلب کیا اور عمرو نے اسے سردار امیر حمزہ کا لکھا ہوا پیغام دیا لیکن فراسان کا یہ بادشاہ حد درجہ کنجوس تھا۔ اس قدر کنجوس کہ اس نے نہ ہی خواجہ عمرو کو پیغام پہنچانے پر کوئی انعام دیا بلکہ اسے بیٹھنے تک کے لئے نہ کہا اور جب تک بادشاہ پیغام پڑھتا رہا عمرو کھڑا رہا ۔ پھر بادشاہ پیغام لے کر کرسی سے اٹھا اور دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ عمرو کو یہ معلوم تھا کہ فراسان کا یہ بادشاہ ظالم اور سفاک بادشاہ ہے اس لئے وہ اس کی اجازت کے بغیر بیٹھنا نہ چاہتا تھا کیونکہ کسی بھی وقت وہ واپس آسکتا تھا اور ہوسکتا ہے کہ وہ بغیر اجازت عمرو کے بیٹھ جانے پر ناراض ہو کر کوئی سزا دے دے۔اس لئے عمرو کھڑا رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد بادشاہ واپس آیا اور اس نے ایک لکھا ہوا پیغام عمرو کو دیا اور ساتھ ہی یہ حکم بھی دے دیا کہ فوری طور پر واپس جائے اور راستے میں رکے بغیر وہ یہ پیغام جلد از جلد سردار امیر حمزہ کو پہنچا دے۔

اس لئے عمرو پیغام لے کر مسلسل سفر کرتاہوا اب صبح منہ اندھیرے اپنے مکان پر پہنچا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ کچھ آرام کرنے کے بعد نہا دھو کر اور لباس بدل کر سردار امیر حمزہ کے پاس جائے گا اور بادشاہ فراسان کا پیغام دے گا لیکن جیسے ہی وہ آرام کے لئے اپنے کمرے میں داخل ہوا وہ بری طرح چونک پڑا کیونکہ اس کے کمرے میں اس کے خاص بستر پر ایک نوجوان جس نے اپنے جسم پر انتہائی قیمتی اور شاہانہ انداز کا لباس پہنا ہوا تھا گہری نیند سویا ہوا تھا۔ یہ نوجوان سر سے گنجا تھا البتہ اس کے سر کے دونوں اطراف میں لمبے لمبے گھنگریالے بال تھے۔ چہرے سے وہ حد درجہ احمق اور بے وقوف نظر آرہا تھا۔

یہ کون ہے اور یہاں میرے کمرے میں اور میرے بستر پر کیسے سوگیا۔ اس نے یہ جرات کیسے کی۔ عمرو نے غصے سے بڑبڑاتے ہوئے کہا اور اس کے ساتھ ہی اس نے آگے بڑھ کر اس نوجوان کو بری طرح جھنجھوڑ دیا۔

ہٹ جاؤ۔ دفع ہو جاؤ۔ ابھی میں نہیں جاگ سکتا ابھی میری نیند پوری نہیں ہوئی ۔ دفع ہو جاؤ۔ نوجوان نے نیند ہی میں کہا اور اس کے ساتھ ہی اس نے کروٹ بدل لی۔

تم ہو کون چڑی مار۔ گنجے کبوتر۔ اٹھو ۔ تمہاری یہ جرات کہ تم خواجہ عمرو کے بستر پر سوؤ۔ عمرو نے غصے سے چیختے ہوئے کہا اور اس بار اس نے اس بری طرح نوجوان کو جھنجھوڑا کہ وہ بے اختیار ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور خوف کے مارے بری طرح چیخنے لگا۔

اترو نیچے۔۔۔ اترو۔۔۔ تم ہو کون ۔۔۔ تمہیں جرات کیسے ہوئی کہ تم میرے بستر پر سوؤ۔۔۔ اترو۔۔۔ عمرو نے بری طرح چیختے ہوئے کہا۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے نوجوان کو بازو سے پکڑ کر نیچے اتارنے کے لئے کھینچنا شروع کردیا تو نوجوان نے اس طرح حلق پھاڑ کر چیخنا شروع کردیا کہ جیسے اس پر قیامت ٹوٹ پڑی ہو۔لیکن عمرو کے زور لگانے سے بہرحال وہ بستر سے نیچے اتر آیا تھا۔

ارے ارے کیوں میرے کان کھارہے ہو۔۔۔ کیا کوے کا مغز کھا لیا ہے جو مسلسل کائیں کائیں کرتے چلے جارہے ہو ۔۔۔ کون ہو تم۔۔۔ عمرو نے اس کے اس طرح چیخنے پر بوکھلاتے ہوئے لہجے میں کہا۔

پہلے تم بتاؤ کہ تم کون ہو۔۔۔ چڑی مار لگتے ہو۔ نوجوان نے بازو چھڑوا کر یکلخت منہ بناتے ہوئے کہااور ساتھ ہی وہ ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔

میرا نام خواجہ عمرو عیار ہے۔ عیار زماں ۔ برق تپاں۔ موت جادوگراں۔ عمرو نے بڑے فخریہ انداز میں اور اپنے چڑیا جیسے سینے کو پھلانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔

خواجہ عمرو۔۔۔ اوہ ۔۔۔ اوہ۔۔۔ تو تم خواجہ عمرو ۔۔۔ نوجوان نے حیرت بھرے لہجے میں کہا اور ساتھ ہی اس نے کھی کھی کرکے ہنسنا شروع کردیا وہ واقعی انتہائی طنزیہ انداز میں ہنس رہا تھا ۔ عمرو کو اس کے اس طرح ہنسنے پر بری طرح غصہ آگیا۔

کیوں اس طرح ہنس رہے ہو ۔۔۔ کون ہو تم۔ خواجہ عمرو نے غصے سے چیختے ہوئے کہا۔

بیچاری چاند ستارہ۔۔۔ اوہ ۔۔۔ واقعی بیچاری کی قسمت خراب ہے ۔ نوجوان نے یکلخت ہنسنا چھوڑ کر افسوس بھرے لہجے میں کہا۔

ارے تم ہو کون ۔۔۔ پہلے تم اپنے متعلق تو بتاؤ۔ عمرو نے اس کے انداز پر اور زیادہ چڑتے ہوئے کہا۔

میرا نام تام جھام ہے اور میں چاند ستارہ کا بھائی ہوں ۔ نوجوان نے منہ بناتے ہوئے کہا تو عمرو حیرت کے مارے چونک پڑا۔

چاند ستارہ کا بھائی ۔۔۔ یعنی میری بیوی کا بھائی ۔۔۔ ناممکن۔۔۔ میری بیوی کا بھائی اس قدر بدصورت کیسے ہوسکتا ہے۔ خواجہ عمرو عیار نے کہا۔

جس طرح اس کا شوہر ہوسکتا ہے ۔ بدصورت بھی اور مچھر جیسا بھی ۔ ہائے بیچاری چاند ستارہ ۔۔۔ بیچاری شادی شدہ بیوہ۔ تام جھام نے اونچی آواز میں اب باقاعدہ بین کرتے ہوئے کہا۔

شادی شدہ بیوہ۔۔۔ یہ کیا بکواس ہے کیا تم پاگل ہو نکل جاؤ یہاں سے ابھی اور اسی وقت ورنہ ۔۔۔ خواجہ عمرو نے غصے کی شدت سے کانپتے ہوئے کہا۔

کون ہے جو ایسا کہہ رہا ہے۔۔۔ کس میں یہ جرات ہے کہ میرے بھائی کو اس طرح ڈانٹ سکے۔۔۔ اچانک کمرے کے باہر سے چاند ستارہ کی دھاڑتی ہوئی آواز سنائی دی اور عمرو کے چہرے پر اس آواز کے سنتے ہی خوف کے تاثرات ابھر آئے ، وہ تیزی سے ایک کونے میں دبک گیا ۔ اسی لمحے ہاتھی سے بھی زیادہ موٹی چاند ستارہ دھم دھم کرتی اور اونچی آواز میں پھنکارتی ہوئی اندر داخل ہوئی تو تام جھام بے اختیار اٹھا اور جاکر چاند ستارہ کے گلے لگ گیا اور اس نے بری طرح رونا شروع کردیا۔

ارے ۔ ارے ۔ میرے تام جھام ۔ میرے چھوٹے اور منے بھائی ۔ کیوں رو رہے ہو۔ کیا ہوا۔ کس نے مارا ہے تمہیں ۔ بتاؤ میں ابھی اس کی ہڈی پسلی ایک کردیتی ہوں۔ چاند ستارہ نے اپنا گرز نما بازو اٹھا کر تام جھام کے گنجے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔

باجی ۔۔۔ باجی۔۔۔ آپ کی قسمت اتنی خراب ہے۔ باجی مجھے معلوم نہ تھا ۔ کاش اللہ تعالیٰ نے آپ کی قسمت اچھی بنائی ہوتی۔ تام جھام نے روتے ہوئے کہا

ارے ارے کیا ہوا ۔ میری قسمت کو کیا ہوا ۔ ارے کچھ تو بولو بھی تو سہی ۔ کیا ہوا ۔ چاند ستارہ نے غصیلے لہجے میں کہا تو تام جھام تیزی سے پیچھے ہٹا اور پھر ایک کونے میں دبکے کھڑے عمرو عیار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا۔

باجی آپ کتنی صحت مند، کتنی خوبصورت، کتنی سگھڑ، کتنی سلیقہ مند ہیں جبکہ آپ کا شوہر شکل سے چڑی مار اور جسمانی لحاظ سے مچھر ہے۔ ہائے آپ کی تو قسمت ہی پھوٹ گئی۔ تام جھام نے کہا اور اس کے ساتھ ہی ایک بار پھر چاند ستارہ کے گلے لگ کر او نچی اونچی آواز میں رونے لگا۔

ارے ارے چپ کرو۔ یہ تو واقعی قسمت کی بات ہے۔ اب میں کیا کرسکتی ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے جیسا بھی شوہر دے دیا لیکن تم پہلے چیخ کیوں رہے تھے اور رو کیوں رہے تھے ۔ مجھے ملازم نے آکر بتایا کہ تم رو رہے ہو تو میں دوڑتی ہوئی آئی ہوں ۔ چاند ستارہ نے اسے اپنے آپ سے علیحدہ کرتے ہوئے کہا

یہ آپ کے شوہر نے مجھے سوتے ہوئے گھسیٹ کر بستر سے نیچے اتار دیا اور پھر مجھے احمق، بے وقوف اور نجانے کیا کیا کہنا شروع کردیا۔ اس نے میری بے حد بے عزتی کی ہے حالانکہ میں خواب میں اڑتی ہوئی ایک پری کو دیکھ رہا تھا ۔ بڑی خوبصورت پری تھی اور اس کے پر بھی بڑے بڑے اور انتہائی خوبصورت تھے اور وہ اڑتی ہوئی میرے پاس آرہی تھی لیکن تمہارے شوہر نے مجھے جگا دیا۔ مجھے پری سے ملنے نہیں دیا۔تام جھام نے روتے ہوئے کہا تو چاند ستارہ کا چہرہ غصے کی شدت سے سرخ ہوگیا۔ اس کی ناک سے شوں شوں کی آوازیں نکلنے لگیں اور وہ بڑی غصیلی نظروں سے کونے میں دبکے کھڑے عمرو عیار کو اس طرح دیکھنے لگی جیسے وہ اسے ابھی کچا چبا جائے گی۔

تم نے میرے بھائی کی بے عزتی کی اسے بستر سے نیچے اتارا اس کے پاس آتی ہوئی پری کو بھگا دیا ۔ سنو اب تمہاری جان اس طرح بچ سکتی ہے کہ تم اس پری کو جہاں سے بھی ممکن ہو پکڑ کر میرے پاس لے آؤ ورنہ ۔۔۔ چاند ستارہ نے غصے سے پھنکارتے ہوئے کہا۔

ابھی لے آتا ہوں پری کو ۔ تم فکر نہ کرو۔ ایک چھوڑ کر ایک ہزار پریاں لے آتا ہوں ۔ آخر تمہارا بھائی ہے یہ ۔ لیکن پہلے کہاں تھا ۔ آج تک تو مجھے تم نے بتایا ہی نہیں کہ تمہارا کوئی بھائی بھی ہے۔ عمرو عیار نے کہا۔

یہ میرا حقیقی بھائی نہیں ہے ۔ دور کے رشتے کا بھائی ہے لیکن مجھے اپنی حقیقی بہن سمجھتا ہے ۔ اب میں نے اسے اپنا حقیقی بھائی بنا لیا ہے اب یہ یاں میرے پاس ہی رہے گا اور سنو۔ اب تم جہاں بھی جاؤ گے یہ تمہارے ساتھ جائے گا تاکہ تم جو انعامات حاصل کرکے مجھ سے چھپا لیتے ہو ان کا مجھے پتہ چلتا رہے۔ چاند ستارہ نے پھنکارتے ہوئے کہا۔

باجی وہ پری۔ وہ اڑتی ہوئی پری ۔ باجی مجھے وہ پری لا دو۔ ابھی اسی وقت۔ بس میں کچھ نہیں جانتا مجھے اڑتی ہوئی پری چاہیئے۔ تام جھام نے بچوں کی طرح روتے ہوئے کہا۔

لے آؤ پری ابھی اور اسی وقت بس میں کچھ نہیں جانتی۔ چاند ستارہ نے عمرو سے مخاطب ہو کر کہا۔

اب پری یہاں میری جیب میں تو نہیں پڑی ہوئی کہ نکال کر تمہارے اس احمق بھائی کو دے دوں اس کے لئے تو مجھے پرستان جانا پڑے گا۔ عمرو عیار نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

کیا کہا پرستان جاؤ گے ۔ ہونہہ ۔ تو تم اس چکر میں ہو کہ مجھے چھوڑ کر پرستان جاکر کسی پری سے شادی کرلو۔ چاند ستارہ نے یکلخت ہاتھ بڑھا کر عمرو کی گردن پکڑ کر اسے فضا میں اٹھاتے ہوئے کہا۔

ارے ارے میری گردن چھوڑو۔ ارے یہ ٹوٹ جائے گی ارے تم بیوہ ہوجاؤ گی۔ عمرو نے بھینچے بھینچے لہجے میں کہا۔

میری اڑتی ہوئی پری ۔ تام جھام نے پہلے کی طرح روتے ہوئے کہا

دیکھو اگر تم زندہ رہنا چاہتے ہو تو ابھی اور اسی وقت تام جھام کو اڑتی ہوئی پری لا دو ۔ ورنہ میں تمہاری ایک ایک ہڈی توڑ دوں گی۔ چاند ستارہ نے عمرو عیار کی گردن جھنجوڑتے ہوئے کہا۔

اچھا اچھا میری گردن تو چھوڑو ۔ ابھی لا دیتا ہوں اس کو پری۔ عمرو عیار نے کہا اور چاند ستارہ نے اس کی گردن چھوڑ دی۔ عمرو عیار دونوں ہاتھوں سے اپنی گردن مسلنے لگا اب وہ سوچ رہا تھا کہ اس احمق تام جھام سے جب تک عیاری نہ کی جائے گی یہ باز نہیں آئے گا۔ چنانچہ وہ گردن مسلتا رہا اور سوچتا رہا ۔ پھر اچانک اس کے ذہن میں ایک خیال آگیا۔

بستر پر لیٹ جاؤ میرے اچھے اور خوبصورت تام جھام ۔ لیٹ جاؤ پھر دیکھو کس طرح اڑتی ہوئی پری آتی ہے تمہارے پاس ۔ عمرو عیار نے کہا

اچھا ۔ اڑتی ہوئی پری آجائے گی ۔ اوہ پھر تو تم بہت اچھے ہو ۔ تام جھام نے خوش ہو کر کہا اور جلدی سے آگے بڑھ کر بستر پر لیٹ گیا۔

اب آنکھیں بند کرلو۔ عمرو عیار نے کہا تو تام جھام نے آنکھیں بند کرلیں۔

بولنا بالکل نہیں ورنہ پری اڑتی ہوئی آگے نکل جائے گی اور پھر واپس نہیں آئے گی سمجھے۔ عمرو عیار نے کہا۔

اچھا ۔ میں نہیں بولوں گا ۔ تام جھام نے جواب دیا تو عمرو عیار نے اپنی بغل میں موجود زنبیل میں ہاتھ ڈالا اور اس میں سے ایک چھوٹی سی بوتل نکالی اور اس کا ڈھکن ہٹا کر اس نے بوتل تام جھام کی ناک سے لگائی اور پھر اسے ایک طرف ہٹا کر اس کا ڈھکن لگایا اور واپس زنبیل میں ڈال لی۔ اسے معلوم تھا کہ اس بوتل میں جو خوشبو ہے وہ اس آدمی کو کچھ دیر کے لئے ایسا بنا دیتی ہے کہ اسے جو کچھ کہا جائے اسے وہی کچھ نظر آنے لگ جاتا ہے۔

دیکھو تام جھام تمہیں ایک کھلا میدان نظر آرہا ہوگا ۔ بولو ۔ نظر آرہا ہے ۔ عمرو عیار نے کہا۔

ہاں ۔ ہاں مجھے ایک کھلا میدان نظر آرہا ہے جس میں اونچے نیچے ٹیلے ہیں ۔ تام جھام نے جواب دیا ۔

اس میدان میں تمہیں میں بھی نظر آرہا ہوں گا اور میرے سر پر ایک خوبصورت اڑتی ہوئی پری بھی نظر آرہی ہوگی۔ عمرو عیار نے کہا۔

ہاں ۔ تم بھی نظر آرہے ہو اور تمہارے سر پر اڑتی ہوئی خوبصورت شہزادی پری ہے ۔ تم اس کی طرف دیکھ رہے ہو ۔ تام جھام نے کہا۔

اب یہ پری تمہارے پاس آرہی ہے بولو آرہی ہےناں ۔ عمرو عیار نے کہا

ہاں ۔ ہاں ۔ وہ میرے پاس آرہی ہے ۔ ارے ہاں ۔ وہ واقعی میرے پاس آرہی ہے ۔ آؤ ۔ آؤ۔ خوبصورت خواب پری ۔ آؤ ۔ ارے ۔ یہ کیا وہ پری تو غائب ہوگئی ۔ تام جھام نے اچانک چیختے ہوئے کہا اور اس کے ساتھ ہی وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔

اب میں کیا کروں میں نے تمہیں کہہ دیا تھا کہ تم بولو گے تو پری آگے چلی جائے گی اور تم نے بولنا شروع کردیا اس لئے پری اڑتی ہوئی آگے چلی گئی اور غائب ہوگئی ۔ کیوں چاند ستارہ تام جھام بولا تھا ناں ۔ عمرو عیار نے فورا ہی چاند ستارہ سے مخاطب ہو کر کہا۔

ہاں تام جھام ۔ یہ غلطی تمہاری ہے ۔ تم بولے کیوں تھے ۔ اب پری نہیں آسکتی ۔ خواجہ عمرو تو پری لے آیا تھا لیکن تمہارے بولنے کی وجہ سے وہ چلی گئی ۔ آؤ اب میرے ساتھ اور خواجہ عمرو کو آرام کرنے دو۔ ویسے اچھا ہوا کہ پری چلی گئی ورنہ ہو سکتا تھا کہ وہ میرے خوبصورت شوہر کو دیکھ کر اسے پسند کرلیتی ۔ آؤ میرے ساتھ ۔ چاند ستارہ نے کہا اور تام جھام کو بازو سے پکڑ کر گھسیٹتی ہوئی باہر لے گئی اور عمرو عیار نے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کرنا شروع کردیا کہ اس کی عیاری کی وجہ سے اس احمق تام جھام اور چاند ستارہ سے اس کی جان چھوٹ گئی۔

Download Free in PDF

ختم شد

—— آپکو یہ ناول کیسا لگا؟ کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz

Leave a Reply

%d bloggers like this: