Kids Stories Mazhar Kaleem MA Readable Novels Umro Ayyar Unicode Books

عمرو اور گنجا جادوگر از مظہر کلیم ایم اے

Written by Peerzada M Mohin

عمرو عیار اپنے گھر کے ایک کمرے میں بیٹھا زنبیل میں موجود دولت کا حساب اپنی انگلیوں پر کررہا تھاکہ دروازہ کھلا اور اک کا خادم اندر داخل ہوا۔

کیا بات ہے۔ کیوں آئے ہو۔ عمرو عیار نے حیران ہوکر پوچھا تو خادم نے ایک خط عمرو عیار کی طرف بڑھا دیا۔

یہ خط سردار امیر حمزہ نے میدان جنگ سے بھیجا ہے۔ خادم نے جلدی سے شاہی خط کھولا اور اسے پڑھنے لگا سردار امیر حمزہ نے اس خط میں اسے حکم دیا تھا کہ طلسم ہوشربا کی سرحد کے قریب شہنشاہ افراسیاب نے مسلمان فوجوں کو روکنے کے لئے ایک گنجے جادوگر کو فوج دے کر بھیجا ہے جس نے سرحد کے قریب پڑاؤ ڈالا ہوا ہے چونکہ سردار امیر حمزہ جادوگروں کی ایک بڑی فوج سے لڑنے میں مصروف ہے اور اسے خطرہ ہے کہ یہ گنجا جادوگر کہیں عقب سے ان پر حملہ نہ کردے اس لئے عمرو فورا جاکر اس گنجے جادوگر کا خاتمہ کردے۔ اسے کثیر انعام دیا جائے گا عمرو نے رقعہ پڑھ کر فورا لباس تبدیل کیا اور شاہی اصطبل سے گھوڑا لیا اور طلسم ہوشربا کی سرحد کی طرف روانہ ہوگیا۔ وہ چونکہ سینکڑوں بار طلسم ہوشربا آتا جاتا رہا تھا اس لئے اسے اس کے بارے میں اچھی طرح علم تھا کہ گنجا جادوگر کہاں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہوگا۔ عمرو منزلیں مارتا ہوا آگے بڑھتا چلا گیا اور جب وہ طلسم ہوشربا کی سرحد سے پہلے آنے والے جنگل کے پاس پہنچا تو وہ گھوڑے سے اترا اور اس نے گھوڑے کو آزاد کردیا تاکہ وہ وہاں آزادانہ گھوم پھر کر اپنا پیٹ بھر سکے اور جنگلی جانوروں سے اپنا تحفظ کرسکے اور خود وہ زنبیل سنبھالے جنگل میں داخل ہوگیا ۔ جنگل زیادہ بڑا نہ تھا اس لئے اسے یقین تھا کہ وہ شام ہونے سے پہلے پہلے اس جنگل کو عبور کرکے دوسری طرف واقع طلسم ہوشربا کی سرحد تک پہنچ جائے گالیکن ابھی اس نے آدھا جنگل ہی پار کیا ہوگا کہ اچانک جنگل کے درمیان بنے ہوئے ایک بڑے سے محل نما مکان کو دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گیا ۔ مکان بہت بڑا تھا اور باقاعدہ بڑے بڑے پتھروں سے بنایا گیا تھا جبکہ اس کا بڑا سا پھاٹک لکڑی کا بنا ہوا تھا۔ اس مکان کے اوپر سیاہ رنگ کا ایک جھنڈا لہرا رہا تھا جس پر انسانی کھوپڑی اور دو ہڈیوں کی تصویر بنی ہوئی تھی اس جھنڈے کو دیکھ کر عمرو سمجھ گیا کہ کہیں وہ جادوگر کا مکان ہے۔ اسے خیال آیا کہ کہیں وہ گنجا جادوگر اس مکان میں نہ رہتا ہو۔ چنانچہ وہ محتاط انداز میں آگے بڑھنے لگا مکان کے باہر کوئی آدمی نہ تھا ۔ ہر طرف ویرانی ہی ویرانی تھی ۔ عمرو اس بڑے سے پھاٹک کے سامنے پہنچ گیا۔ اس نے زور سے پھاٹک پر دستک دی ۔

کون ہے۔ اندر سے ایک چیختی ہوئی کرخت آواز سنائی دی۔

میرا نام حکیم الحکما ہے ۔ میں طلسم ہوشربا کے شہنشاہ افراسیاب کا شاہی حکیم ہوں۔ عمرو عیار نے اونچی آواز میں جواب دیا۔ تو دروازہ درمیان سے تھوڑا سا کھل گیا لیکن یہ دروازہ اتنا نہ کھلا تھا کہ عمرو عیار اندر داخل ہوسکتا۔ سامنے ایک کرسی پر ایک گنجا آدمی بیٹھا ہوا تھا ۔ اس کے ماتھے پر بھی کھوپڑی کا نشان تھا۔ اس کی باریک لیکن لمبی لمبی مونچھیں تھیں اس نے ایسا لباس پہنا ہوا تھا کہ جیسے وہ کسی برفانی علاقے میں رہتا ہو۔ اس کی نظریں دروازے کی درز سے سامنے کھڑے عمرو عیار پر جمی ہوئی تھیں ۔ عمرو عیار آگے بڑھا ہی تھا کہ اچانک وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اب سامنے نہ وہ مکان تھا اور نہ وہ دروازہ بلکہ وہاں عام سا جنگل تھا ۔ وہ یہ دیکھ کر بے حد حیران ہوا۔ اس نے جلدی سے زنبیل میں ہاتھ ڈالا اور تختی داؤدی نکال لی۔

تختی داؤدی مجھے بتاؤ کہ یہ سب کیا تھا۔ اور یہ مکان کہاں غائب ہوگیا۔ عمرو نے تختی داؤدی کو ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا تو تختی داؤدی پر فورا ایک تحریر ابھر آئی ۔

خواجہ عمرو عیار کو بتایا جاتا ہے کہ یہ مکان جادو کا تھا اور اس میں گنجا جادوگر رہ رہا تھا۔ اسے طلسم ہوشربا کے شہنشاہ افراسیاب نے نہ صرف تمہارے متعلق پوری تفصیل سے بتا دیا تھا بلکہ تمہاری تصویر بھی اسے دکھا دی تھی اور اسے حکم دیا تھا کہ وہ تم سے مقابلہ کرنے کی کوشش نہ کرے کیونکہ اس طرح تم اسے ہلاک کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے۔ اس لئے جب اس نے تمہیں دیکھا تو وہ تمہیں پہچان گیا اور اس نے تمہارا مقابلہ کرنے کی بجائے مکان سمیت یہاں سے فرار ہونے میں ہی عافیت سمجھی اور اب وہ اپنی فوج کے اندر بنے ہوئے شاہی خیمے میں موجود ہے اور خواجہ عمرو عیار کو بتایا جاتا ہے کہ گنجا جادوگر اس وقت ہلاک ہوسکتا ہے جب عمرو عیار اپنی تلوار پر ایک خونخوار شیر اور ایک خونخوار بھینسے اور ایک خونخوار چیتے کا خون نہ لگالے۔ ان تینوں درندوں کا خون لگنے کے بعد ہی اس تلوار سے گنجے جادوگر کو ہلاک کیا جاسکتا ہے اور وہ مقابلے پر مجبور بھی ہوسکتا ہے ویسے گنجا جادوگر جسمانی طور پر اور جادو کے لحاظ سے بھی بے حد طاقتور ہے۔ اس کی پیشانی پر کھوپڑی اور دو ہڈیوں کا نشان ہے ۔ گنجا جادوگر اس وقت ہلاک ہوسکتا ہے جب تمہاری تلوار کا پہلا وار اس کی پیشانی پر موجود اس نشان پر پڑے۔ ورنہ وہ ہلاک نہیں ہوسکتا اور اس کے جادو کے توڑ کے لئے تمہیں اپنی تلوار کے دستے کے ساتھ لومڑی کی دم باندھنی ہوگی پھر اس کا کوئی جادو تم پر اثر نہ کرسکے گا لیکن اگر تمہاری تلوار کا پہلا وار اس گنجے جادوگر کی پیشانی پر موجود نشان پر نہ لگ سکا تو پھر تم خود ہلاک ہوجاؤگے۔ اس لئے یہ سارا کام تم نے اپنی عقل اور عیاری سے کرنا ہے کہ تینوں درندوں کے خون سے بھری ہوئی تلوار کا پہلا وار اس گنجے جادوگر کی پیشانی پر لگے ہوئے نشان پر پڑے ۔

تب یہ جادوگر فورا ہلاک ہوجائے گا۔ عمرو عیار نے یہ تحریر پڑھی تو بے حد پریشان ہوا کیونکہ اتنے خوخوار درندوں سے وہ کیسے لڑسکتا تھا۔ وہ تو ہمیشہ اپنی عقل اور عیاری سے لڑتا تھا ورنہ جسمانی طور پر تو وہ بے حد کمزور سا آدمی تھا لیکن ظاہر ہے اب اسے ایسا کرنا پڑے گا۔ اس نے تختی داؤدی کو زنبیل میں ڈالا اور سوچنے لگا کہ اسے کیا کرنا چاہیئے ۔ اچانک اسے خیال آیا کہ اس جنگل کے اندر پانی کا ایک بڑا چشمہ اور اس کے ساتھ جوہڑ ہے۔جہاں سے تمام درندے پانی پیتے ہیں۔ اگر وہ وہاں پھندہ لگا دے تو یہ درندے پانی پینے آئیں گے اور پھندوں میں پھنس جائیں گے۔ پھر وہ انہیں آسانی سے ہلاک کردے گا۔

چنانچہ اس نے درختوں کی لچکدار لیکن انتہائی مضبوط شاخیں توڑیں اور پھر وہیں بیٹھ کر اس نے پانچ مضبوط پھندے بنائے جن میں چار بڑے اور ایک چھوٹا پھندہ تھا۔ پھر وہ ان پھندوں کو اٹھا کر چشمے کے پاس پہنچ گیا اسے معلوم تھا کہ بڑے جانور جوہڑ کے کھلے حصے کی طرف سے آکر پانی پیتے ہیں جبکہ چھوٹے جانور جوہڑ کے تنگ حصے کی طرف آتے ہیں۔

چنانچہ اس نے چھوٹا پھندہ تو تنگ حصے کی طرف لگا دیا۔ جبکہ بڑے پھندے اس نے جوہڑ کے کھلے حصے کی طرف علیحدہ علیحدہ لگا دیئے اور خود ایک درخت پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔

تھوڑی دیر بعد اس نے لومڑیوں کے ایک گروہ کو تنگ حصے کی طرف پانی پینے کے لئے آتے ہوئے دیکھا تو وہ بے حد خوش ہواکہ ان میں سے کوئی نہ کوئی لومڑی تو یقیناََ چھوٹے پھندے میں پھنس جائے گی اور وہی ہوا۔ ایک لومڑی اس پھندے میں پھنس کر چیخنے لگی تو باقی لومڑیاں بھاگ گئیں۔ عمرو عیار فوراََ درخت سے نیچے اترا اور دوڑتا ہوا اس پھندے میں پھنسی لومڑی کی طرف بڑھ گیا اس نے تیزی سے تلوار کھینچی اور اس لومڑی کو ہلاک کردیا پھر اس نے اس کی دم کاٹی اور اسے اپنی تلوار کے دستے سے باندھ دیا اور ایک بار پھر واپس جاکر درخت پر چڑھ کر بیٹھ گیا ۔ تھوڑی دیر بعد چار بھینسے پانی پینے آئے تو ان میں سے ایک بھینسا بڑے پھندے میں پھنس گیا ۔ اس نے نکلنے کے لئے بڑا زور لگایا لیکن نکل نہ سکا۔

جب باقی بھینسے بھاگ گئے تو عمرو عیار درخت سے نیچے اترا اور اس نے پھندے میں پھنسے ہوئے بھینسے کی گردن تلوار سے کاٹ دی۔ اس طرح اس کا خون اس کی تلوار پر لگ گیا ۔ تھوڑی دیر بعد ایک چیتا بھی اسی طرح پھندے میں پھنس گیا اور عمرو عیار نے اسے بھی ہلاک کردیا۔ پھر شیر پھنسا اور عمرو عیار نے اسے بھی ہلاک کردیا۔ اس طرح اس کی تلوار پر شیر، چیتے اور بھینسے کا خون لگ گیا تھا۔ اور اس نے شرط کے مطابق تلوار کے دستے پر لومڑی کی دم بھی باندھ لی تھی۔ اور یہ سب کچھ اس نے اپنی عقل سے کرلیا تھا۔ ورنہ وہ ان میں سے کسی ایک درندے کے ساتھ بھی لڑنے کے قابل نہ تھا۔

جب یہ سب کچھ ہو گیا تو عمرو عیار تلوار اٹھائے آگے بڑھا۔ جنگل پار کرکے جیسے ہی وہ کھلے میدان میں آیا اس نے دیکھا کہ وہاں دور دور تک خیمے لگے ہوئے تھے اور وہاں جادوگروں کی فوج موجود تھی۔درمیان میں ایک بڑا خیمہ تھا جس پر وہی سیاہ رنگ کا جھنڈا لہرارہاتھا جس پر کھوپڑی اور ہڈیوں کا نشان موجود تھا۔ عمرو عیارسمجھ گیا کہ یہی اس گنجے جادوگر کا خیمہ ہے۔ وہ جیسے ہی فوج کے قریب پہنچا بے شمار جادوگر تلواریں لہراتے ہوئے اکھٹے ہوکر اس کی طرف لپکے۔

خبردار ۔ رک جاؤ۔ میرا نام خواجہ عمرو عیار ہے میرا مقابلہ صرف گنجے جادوگر سے ہوسکتا ہے۔ عمرو نے چیختے ہوئے کہا تو سارے جادوگر رک گئے اسی لمحے اس جھنڈے والے خیمے کا دروازہ کھلا اور وہی گنجا جادوگر باہر نکل آیا اس کے ہاتھ میں ایک بڑی سی خوفناک تلوار تھی۔

آخرکار تمہاری موت تمہیں یہاں کھینچ ہی لائی عمرو عیار۔ اس گنجے جادوگر نے باہر آکر چیختے ہوئے کہا۔

یہ تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کس کی موت آئی ہے لیکن تم جیسا بزدل جادوگر میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھاجو مجھ جیسے کمزور سے آدمی کو دیکھ کر خوف سے فرار ہوجائے۔ عمرو عیار نے کہا۔

ایسا میں نے شہنشاہ افراسیاب کے حکم پر کیا تھا ورنہ تم جیسے مچھر کو تو میں صرف پھونک مار کر اڑا دوں ۔ گنجے جادوگر نے چیختے ہوئے کہا۔

تو پھر آؤ کرو مقابلہ ۔ پھر دیکھو تم بھینسے اس مقابلے میں کامیاب ہوتے ہو یا میں مچھر۔ عمرو عیار نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تو گنجے جادوگر نے آگے بڑھ کر اپنا ایک ہاتھ ہوا میں اٹھایا اور اسے زور سے عمرو عیار کی طرف جھٹکا ۔اس کے ہاتھ سے آگ کی لہریں نکل کر عمرو عیار کی طرف بڑھیں لیکن عمرو عیار مطمئن کھڑا رہا۔کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کی تلوار کے دستے سے لومڑی کی دم بندھی ہوئی ہےاس لئے اس پر جادو کا اثر نہ ہوگا اور وہی ہوا۔ آگ کے شعلے عمرو عیار کے قریب آکر بجھ گئے ۔ اب تو گنجا جادوگر غصے کی شدت سے پاگل ہوگیا۔ اس نے مسلسل عمرو عیار پر جادو کے حملے کرنے شروع کردیئے انتہائی خوفناک حملے کبھی انگاروں کی بارش ، کبھی خوفناک تیروں کی بارش، کبھی بڑے بڑے پتھروں کی بارش، لیکن عمرو عیار اس سب سے محفوظ اپنی جگہ صحیح سلامت کھڑا رہا۔ جب گنجا جادوگر اپنے جادو کے حملوں میں ناکام ہوگیا تو اس نے تلوار سنبھالی اور پوری قوت سے آگے بڑھ کر عمرو عیار پر حملہ کردیا۔

رک جاؤ۔ پہلے میری بات سن لو ۔ عمرو عیار نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا تو گنجا جادوگر رک گیا۔

کیا بات ہے ۔ گنجے جادوگر نے حیران ہوکر کہا۔

تمہارے سارے حملے ناکام ہوگئے ہیں۔ میں چاہوں تو ایک لمحے میں تمیں ہلاک کردوں لیکن میری ایک تجویز ہے ۔ اگر تم اس پر عمل کرو تو میں خاموشی سے واپس چلاجاؤں گا اور وہ تجویز یہ ہے کہ تم مجھے اپنی کلائی پر تلوار کا ایک معمولی سا زخم لگانے دو تاکہ میں اپنے سردار کو بتا سکوں کہ میں نے واقعی تمہارا مقابلہ کیا ہے ورنہ وہ یقین نہیں کرے گا۔ اور میں ایسا اس لئے چاہتا ہوں کہ میں کسی گنجے کو ہلاک نہیں کرنا چاہتا۔ کیونکہ مجھے ایک بزرگ نے بتایا تھا کہ جب میں نے کسی گنجے کو ہلاک کروں گا تو میری زندگی کے دس سال کم ہوجائیں گے۔عمروعیار نے فوراََ عیارانہ لہجے میں کہا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ گنجا جادوگر جسمانی طور پر اس سے زیادہ طاقتور ہے اور لڑنے میں بھی مہارت رکھتا ہے اس لئے وہ اس کی پیشانی پر پہلا وار نہ کرسکے گا اور اگر وہ ایسا نہ کرسکا توپھر وہ خود ہلاک ہوجائے گا۔

کیا تم وعدہ کرتے ہو کہ تم واپس چلے جاؤ گے۔ گنجے جادوگر نے فوراََ رضامند ہوتے ہوئے کہا کیونکہ وہ بھی عمرو عیار سے خوفزدہ ہوچکا تھا جس پر اس کا کوئی جادو نہ چل سکا تھا۔اور عمرو عیار نے فوراََ وعدہ کرلیا۔

ٹھیک ہے تو لگاؤ زخم ۔ گنجے جادوگر نے آگے بڑھتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی اس نے اپنا ایک ہاتھ آگے کردیا۔

فکر نہ کرو۔ صرف ہلکا سا زخم لگاؤں گا ۔ بس تمہیں تھوڑی سی تکلیف ہوگی ۔ عمرو عیار نے کہا اور اس کے ساتھ ہی اس نے تلوار کو آگے بڑھایا جیسے وہ اس گنجے جادوگر کی کلائی پر زخم لگانا چاہتا ہو لیکن پھر اس کی تلوار ٹھیک گنجے جادوگر کی پیشانی پر موجود کھوپڑی اور ہڈیوں والے نشان پر پڑی اور چونکہ تلوار پر بھینسے ، شیر اور چیتے کا خون لگا ہوا تھا اس لئے جیسے ہی تلوار اس نشان پر پڑی گنجا جادوگر بری طرح چیختا ہوا نیچے گرا اور چند لمحے تڑپنےکے بعد ہلاک ہوگیا۔ اس کے ہلاک ہوتےہی اس کی ساری فوج بھی غائب ہوگئی۔

میرا نام گنجا جادوگر تھا۔ میں بے حد طاقتور جادوگر تھامگر عمرو عیار نے مجھے عیاری سے ہلاک کردیا۔ گنجے جادوگر کی روتی ہوئی آواز سنائی دی اور عمرو عیار بے اختیار خوشی سے ناچنے لگا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اب وہ سردار امیر حمزہ سے اس گنجے جادوگر کی ہلاکت پر بہت بڑا انعام حاصل کرے گا اس نے گنجے جادوگر کی گردن کاٹی اور اسے زنبیل میں ڈال کر واپس جنگل کی طرف مڑ گیا وہ خوشی سے اچھلتا ہوا آگے بڑھا چلا جارہا تھا۔

Download Free in PDF

ختم شد

—— آپکو یہ ناول کیسا لگا؟ کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz

Leave a Reply

%d bloggers like this: