Kids Stories Readable Novels Umro Ayyar Unicode Books Zaheer Ahmed

عمرو اور بھیانک موت از ظہیر احمد

Umro aur Bhayanak Maut by Zaheer Ahmed
Written by Peerzada M Mohin
عمرو نے ایک زور دار چیخ ماری اور بڑے بوکھلائے ہوئے انداز میں اٹھ بیٹھا۔ وہ اپنے خیمے میں موجود تھا۔ آدھی رات کا وقت تھا ۔ وہ گہری نیند سو رہا تھا کہ اس نے ایک بھیانک خواب دیکھا۔

اس نے خواب میں سینگوں والے ایک خوفناک ویو کو دیکھا تھا جس کے ہاتھ میں خون آلود خنجر تھا۔ اس کے سامنے ایک بوڑھا بونا تھا جسنے سرخ لباس پہن رکھا تھا۔ خنجر والا دیو اس سرخ بونے پر جھکا ہوا تھا جیسے وہ اسے ہلاک کرنا چاہتا ہو اور سرخ لباس والا بوڑھا دیو ہاتھ اٹھا کر اس سے بچنے کی کوشش کررہا تھا۔ عمرو نے خود کو ہوا میں گرتے دیکھا تھا۔ نیچے ایک سبز رنگ کا بڑا سا ہاتھ تھا۔ جس میں سیاہ رنگ کے عجیب و غریب زہریلے کیڑے رینگ رہے تھے۔ عمرو جیسے ہی گرتا ہوا اس کھوپڑی سے ٹکرایا کئی کیڑے اس کے لباس پر چڑھتے چلے گئے اور پھر ایک کیڑے نے اچانک عمرو عیار کی گردن پر کاٹ لیا۔ جیسے ہی سیاہ کیڑے نے عمرو کو کاٹا اس کے جسم میں اچانک آگ لگ گئی اور وہ خشک لکڑی کی طرح جلنے لگا۔خود کو آگ میں گھرے دیکھ کر عمرو کے حلق سے بے اختیار چیخ نکل گئی تھی اور اسی چیخ نے اسے نیند سے جگا دیا تھا۔

خیمےمیں مشعل جل رہی تھی جس کی روشنی خیمے میں پھیلی ہوئی تھی خود کو خیمے میںاور محفوظ دیکھ کر عمرو عیار کے جسم میں جیسے جان سی آگئی۔

اوہ۔ اللہ کا شکر ہے کہ وہ ایک خواب تھا۔ اگر حقیقت ہوتی تو میرا کیا حشر ہوتا۔ عمرو خوف بھرے لہجے میں بڑبڑایا۔

آقا۔ آپ نے جو خواب دیکھا ہے۔ بہت جلد وہ خواب حقیقت کا روپ دھارنے والا ہے۔اچانک عمرو عیار کو زنبیل کے محافظ بونے کی آواز سنائی دی تو عمرو بے اختیار چونک پڑا۔ پلنگ کے کنارے اس کی زنبیل لٹک رہی تھی ۔ جس کے منہ سے اسکا ہمشکل محافظ بونا سر نکالے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔

کک ۔۔ کیا مطلب ۔ یہ تم کیا کہہ رہے ہو محافظ بونے۔۔۔۔۔ محافظ بونے کی بات سن کر عمرو نے بوکھلائے ہوئے لہجے میں کہا۔

میں سچ کہہ رہا ہوں آقا۔ وہ دیو کاشام دیو تھا اور جس سرخ لباس والے بوڑھے بونے کو آپ نے دیکھا تھا وہ اس کا غلام بونا ہے۔ اسی طرح سبز ہاتھ اور ہاتھمیں موجود سیاہ کھوپڑی اسی دیو کے پیدا کردہ ہیں جو آپ کی ہلاکت کا انتظامکرتا پھر رہا ہے۔ کاشام دیو کو آپ جانتے ہی ہیں۔ بہت عرصہ پہلے پرستان میںآپ کا اور اس دیو کا مقابلہ ہوا تھا۔ یہ مقابلہ اس دیو نے بادشاہ سلامت سےکہہ کر آپ سے زبردستی کرایا تھاکہ آپ آدم زاد ہو کر پرستان میں داخل کیوں ہوئے ہیں۔ اس نے کہا تھا کہ اگر آپ اس سے مقابلہ جیت گئے تو وہ پرستان چھوڑکر چلا جائے گا اور اگر آپ اس سے ہار گئے تو شہنشاہ جنات آپ کو اس کا غلامبنادیں گے۔ بادشاہ اور آپ نے اس دیو کی بات مان لی تھی پھر ایک بڑے میدان میں آپ کا اور اس دیو کا کھلے میدان میں مقابلہ ہوا۔

آپ نے کراماتی انگوٹھی استعمال کرکے اس دیو کو زبردست شکست دے دی تھی۔ آپ کے جیتنے پر شہنشاہ جنات نے کاشام دیو کو پرستان سے نکال دیا تھا۔ جس کا کاشامدیو کو بے حد غصہ تھا اور وہ اس کوشش میں رہنے لگا تھا کہ وہ آپ کو کسی طرح سے ہلاک کردے۔ محافظ بونے نے عمرو کو تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔

اوہ۔ مگر یہ تو بہت پرانی بات ہے۔ عمرو نے حیران ہوکر کہا۔

ہاں آقا۔ کاشام دیو ایک جادوگر دیو ہے۔ اسے اس کی جادوئی طاقتوں نے بتا دیا تھا کہ وہ آپ کو ایک بہت بڑے جادو سے ہی ہلاک کرسکتا ہے۔

اوریہ وہی جادو ہے جو آپ نے خواب میں دیکھا ہے۔ چند روز بعد کاشام دیو آپ کو زبردستی لے جائے گاپھر وہ سب کچھ ہوگا جو آپ کو خواب میں نظر آیا تھا۔ جادوئی زہریلے کیڑوں کے کاٹتے ہی آپ کے جسم میں آگ لگ جائے گی اور آپ جل کرہلاک ہوجائیں گے۔ محافظ بونے نے کہا تو عمرو عیار کے چہرے پر خوف لہرانے لگا۔

ارے باپ رے ۔ کیا میں سچ مچ ہلاک ہوجاؤں گا۔ عمرو نے خوف بھرے لہجے میں کہا۔

ہاں۔ اگر آپ نے کاشام دیو کو ہلاک نہ کیا تو آپ کا خواب واقعی حقیقت میں بدل جائے گا۔ محافظ بونے نے کہا۔

اوہ۔ میں اس دیو کو کیسے ہلاک کرسکتا ہوں ، میں تو یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہے۔ عمرو نے پریشانی کے عالم میں کہا۔

وہاں تک آپ کو میں لے جاؤں گا آقا۔ کاشام دیو ایک میدان میں کھڑا آپ کی موت کا عمل کررہا ہے۔ اس کے ایک ہاتھ پر سرخ لباس والا بونا بیٹھا ہے اور دوسرے ہاتھ میں وہ سیاہ کھوپڑی ہے اگر آپ وہاں جاکر سیاہ کھوپڑی کو توڑ دیں اور سرخ لباس والے بونے کو ہلاک کردیں تو کاشام دیو کا جادوئی عمل ٹوٹ جائے گا۔وہ غضب ناک ہوکر آپ کے مقابلے پر آجائے گا۔ آپ تلوار حیدری سے اس کا مقابلہ کریں اور اس کی گردن اڑا دیں۔ محافظ بونے نے کہا۔

اوہ ۔یہ ٹھیک ہے تو جلدی کرو۔ مجھے ابھی وہاں پہنچا دو ۔ میں ہر حال میں کاشام دیو کو ہلاک کرنا چاہتا ہوں اگر اس کا جادوئی عمل پورا ہوگیا تو وہ واقعی مجھے بھیانک موت ماردے گا اور میں ابھی مرنا نہیں چاہتا۔ عمرو نے خوف بھرے لہجے میں کہا۔

ٹھیک ہے آقا۔ آپ لباس بدل لیں ۔ پھر میں آپ کو کاشام کی نیلی جھیل کے پاس پہنچادوں گا۔ جہاں کاشام دیو موت کا جادو کررہا ہے۔ محافظ بونے نے کہا۔ تو عمروسر ہلا کر اٹھا اور فورا خیمے کے دوسرے حصے میں چلا گیا۔ کچھ ہی دیر میں وہ لباس بدل کر واپس آگیا۔

اس نے زنبیل کاندھوں پر لٹکائی تو زنبیل کا محافظ بونا اچک کر زنبیل سے باہر آگیا۔

آنکھیں بند کریں آقا۔ محافظ بونے نےکہا تو عمرو نے فورا آنکھیں موند لیں۔ اس لمحےاسے ایک زور دار جھٹکا لگا، وہ گرتے گرتے سنبھل گیا۔

اب آپ آنکھیں کھول دیں آقا۔ بونے کی آواز سنائی دی تو عمرو نے آنکھیں کھول دیں۔ دوسرے لمحے وہ خود کو بدلی ہوئی جگہ پر دیکھ کر چونک پڑا۔ وہ ایک جنگلمیں موجود تھا ۔ اس کے سامنے ایک بڑی سی جھیل تھی جس کے کنارے پر ایک بھیانک شکل والا دیو ہاتھ پھیلائے کھڑا تھا۔

اس دیو کی آنکھیں بند تھیں ، اس کی شکل بالکل ویسی ہی تھی جیسی عمرو نے خواب میں دیکھی تھی۔ دیو کی دونوں ہتھیلیاں پھیلی ہوئی تھیں ۔ اس کے ایک ہاتھ پربوڑھا سا بونا بیٹھا تھا جس نے سرخ رنگ کا لباس پہن رکھا تھا جبکہ اس کے دوسرے ہاتھ میں سیاہ رنگ کی ایک کھوپڑی تھی۔

جس پر سیاہ کیڑے رینگ رہے تھے۔ عمرو نے فورا زنبیل سے سلیمانی چادر نکال کر کاندھوں پر ڈالی اور غائب ہوگیا ۔ پھر اس نے زنبیل سے تلوار حیدری نکالی اور دبے قدموں آگے بڑھنے لگا اور کاشام دیو کے نزدیک آگیا۔

سب سے پہلے آپ بوڑھے بونے کو ہلاک کریں آقا۔ محافظ بونے کی عمرو کو آواز سنائی دی تو عمرو نے سر ہلایا اور تلوار کا ایک وار مار کر اس نے سرخ لباس والے بونے کے دو ٹکڑے کردیئے پھر عمرو کا تلوار والا ہاتھ گھوما اور تڑاخ کی آواز کے ساتھ سیاہ کھوپڑی بھی ٹوٹ کر بکھر گئی ۔ سرخ لباس والے بوڑھے کےہلاک ہوتے اور کھوپڑی کے ٹوٹتے ہی کاشام دیو نے آنکھیں کھول دیں۔ اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا تھا۔

کون ہے یہاں۔ کس نے میری پوجا کو خراب کیا ہے۔ کاشام دیو نے دھاڑتے ہوئے کہا تو عمرو نے سلیمانی چادر اتار کر اس کے سامنے ظاہر ہوگیا اسے دیکھ کر کاشامدیو بری طرح سے اچھل پڑا۔

عمرو عیار ۔ تم ۔ یہاں۔ ۔۔ کاشام دیو نے حیرت سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر عمرو کو دیکھتے ہوئے کہا۔

ہاں۔تم یہاں میری جادوئی موت کا انتظام کر رہے تھے کاشام دیو۔ میں یہاں تمہاریموت کا انتظام کرنے آگیا ہوں۔ ۔۔۔ عمرو نے غرا کر کہا۔

اوہ ۔تم ۔ میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا عمرو عیار ۔ تم نے سرخ بونے اور جادوئی سیاہ کھوپڑی کو فنا کرکے میرے غضب کو للکارا ہے۔ اس کا تمہیں بھیانکخمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ ۔۔۔کاشام دیو نے چیختے ہوئے کہا ۔ اس نے ہوا میں ہاتھ مارا تو اچانک اس کے ہاتھ میں ایک بھاری اور چمکدار تلوار آگئی ۔ تلوار ہاتھ میں آتے ہی اس نے اچانک عمرو عیار پر چھلانگ لگا دی ۔ اس نے یوںتلوار گھمائی جیسے وہ ایک ہی وار سے عمرو عیار کا سر اڑا دے گا۔ مگر اس کےمقابلے میں بھی کوئی عام انسان نہیں عمرو عیار تھا۔ وہ عمرو عیار جو اب تکاپنی عیاری ، بہادری ، اور دلیری سے سینکڑوں جادوگروں اور دیوؤں کو ہلاک کرچکا تھا۔ اس نے کاشام دیو کی تلوار کا وار تلوار حیدری پر روکا اور پھر ان دونوں کے درمیان زبردست اور خوفناک لڑائی چھڑ گئی۔

کاشام دیو بری طرح سے دھاڑتا ہوا اس پر حملے کررہا تھا اور عمرو عیار اس کے حملوں سے خود کو بچاتے ہوئے اس پر جوابی وار کررہا تھا۔ مسلسل اور کافی دیرتلوار بازی کی اس جنگ میں وہ دونوں ایک دوسرے کو معمولی زخم بھی نہ لگا پائے تھے۔ کاشام دیو کے حملے تیز سے تیز تر ہوتے جارہے تھے پھر اچانک عمرو عیار نے کاشام دیو کو جھکائی دی اور تیزی سے دوڑتا ہوا اس کے عقب میں آگیا۔اس سے پہلے کہ کاشام دیو اس کی طرف مڑتا عمرو کا تلوار والا ہاتھ گھوما اور تلوار حیدری پوری قوت سے کاشام دیو کی گردن پر پڑی کھچ کی آواز کے ساتھکاشام دیو کا سر اس کے تن سے جدا ہو کر دور جا گرا۔

اسکا دھڑ خون کے فوارے ابلتا ہوا گرا اور تھوڑی دیر بعد ساکت ہوگیا۔ پھر اچانک اس کے جسم میں آگ لگ گئی اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے جل کر راکھ ہوگیا۔ عمرو نے ایک خوفناک دیو کو ہلاک کر دیا تھا جو اس کو جادوئی موت سے ہمکنار کرنے جارہاتھا۔ عمرو کے سر پر چونکہ نیک بزرگوں کا ہاتھ تھا اس لئے اس کی موت کا خوفناک خواب اسے پہلے ہی نظر آگیا تھا۔ اور زنبیل کے محافظ بونے نے اسے فورا اصل حقیقت سے آگاہ کر دیا تھا۔ ورنہ اس بار عمرو عیار کو ملنے والی موت یقینی اور واقعی خوفناک تھی۔ کاشام دیو کو ہلاک کرکے عمرو محافظ بونے کی مدد سے واپس اپنے خیمے میں آگیا اور پھر وہ اپنی نیند پوری کرنے کےلئے بستر پر لیٹ گیا اور تھوڑی دیر بعد خیمہ اس کے پُرسکون خراٹوں سے گونجنے لگا۔

ختم شد

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz

Leave a Reply

%d bloggers like this: