Kids Stories Readable Novels Tarzan Unicode Books Zaheer Ahmed

ٹارزن اور ملکہ اتاشا از ظہیر احمد

Tarzan aur Malka attasha
Written by Peerzada M Mohin

ٹارزن نے منکو کو ساتھ لیا اور پھر وہ ایک کشتی میں سوار ہوکر سمندر میں آ گئے۔ ٹارزن اپنے جنگل سے دور دوسرے جزیروں میں جانا چاہتا تھا تاکہ وہاں کے ماحول اور وہاں کے جانوروں کے رہن سہن کے بارے میں جان سکے۔ اس نے کشتی میں کھانے پینے کلئے بے شمار پھل رکھ لیے تھے، جو میٹھے بھی تھے اور رس دار بھی تاکہ سفر کے دوران راستے میں وہ اپنی بھوک پیاس مٹا سکیں۔ وہ تقریبا سات روز سے سفر کر رہے تھے۔ مسلسل سفر کرتے ہوئے وہ اپنے جنگل سے کافی دور نکل آئے تھے۔ جس کا انہیں کوئی اندازہ نہیں تھا۔ پھر ساتویں روز دور سے انہیں ایک سیاہ پٹی دکھائی دی تو ان کے چہروں پر رونق آ گئی۔ مسلسل سفر کی وجہ سے وہ بری طرح اکتا چکے تھے۔ ٹارزن چپوؤں سے کشتی کو اس سیاہ پٹی کی طرف لے جانا شروع کر دیا۔ پھر شام ہونے سے پہلے پہلے وہ اس جزیرے پر پہنچ گئے۔

جزیرہ بے حد بڑا تھا جہاں گھنا اور وسیع جنگل بھی تھا۔ لیکن اس جزیرے میں ہو کا عالم طاری تھا۔ وہاں اس قدر خاموشی چھائی ہوئی تھی کہ سوائے سمندری لہروں کے کناروں سے ٹکرانے کے اور کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے اس جنگل میں زندگی نام کی کوئی چیز نہ ہو۔ ٹارزن کشتی کو کھینچ کر خشکی پر لے آیا۔ وہاں چونکہ صاف ستھری چٹانیں بھی موجود تھیں اس لئے ٹارزن نے رات ساحل پر ہی گزارنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنی تھکان اتار کر اس جنگل میں داخل ہونا چاہتے تھے۔ چنانچہ انہیں نے کشتی سے چند رس دار پھل نکال کر کھائے اور رات پڑت ے ہی پاؤں پسار کر سو گئے۔

ٹارزن کی جب آنکھ کھلی تو وہ خود کو ساحل کی بجائے ایک پہاڑی علاقے میں دیکھ کر حیران رہ گیا۔ ہر طرف اونچی اونچی پہاڑیاں اور ٹیلے نظر آ رہے تھے اور درختوں کا وسیع سلسلہ تھا جو تا حد نگاہ پھیلا ہوا تھا۔ ٹارزن کے جاگتے ہی منکو بھی جاگ گیا تھا اور خود کو بدلی ہوئی جگہ پر دیکھ کر حیران ہو رہا تھا۔

“ہم یہاں کیسے پہنچ گئے سردار۔ یہ کون سی جگہ ہے؟” منکو نے حیرانی سے چاروں طرف دیکھتے ہوئے کہا

“میں خود نہیں جانتا نجانے ہمیں یہاں کون لایا ہے۔” ٹارزن نے بھی حیرت سے بھر پور لہجے میں کہا۔ وہ حیران تھا کہ نیند کے عالم میں اسے جو بھی اٹھا کر لائے تھے اس کا اسے پتا کیوں نہیں چل سکا تھا۔

“یہاں تو ہر طرف گہری خاموشی چھائی ہوئی ہے سردار۔ کہیں غلطی سے ہم بھوتوں کے جنگل میں تو نہیں آگئے؟” منکو نے ٹارزن سے مخاطب ہو کر کہا۔ وہاں واقعی گہری اور پر اسرار خاموشی کا راج تھا۔ انہیں دور نزدیک نہ کوئی جانور دکھائی دے رہا تھا اور نہ کوئی پرندہ۔ حتیٰ کہ انہیں وہاں حشرات الارض بھی دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ ابھی وہ حیران ہو ہی رہے تھے کہ اچانک انہیں عقب سے کھٹکے کی آواز سنائی دی۔ ٹارزن اور منکو تیزی سے مڑے اور ان کی آنکھیں حیرت سے پھیلتی چلی گئیں۔ ایک بڑی چٹان کے عقب سے ایک خوبصورت عورت جس نے سرخ رنگ کا لباس پہن رکھا تھا باہر آ رہی تھی ۔ اس کے بال کھلے ہوئے تھے اور سر پر سرخ موتیوں کا ہار سا بندھا ہوا تھا۔ عورت کے ساتھ سفید فام بھی تھا جس نے جدید دنیا کا لباس پہن رکھا تھا، لیکن اس کے ہاتھوں میں جدید دنیا کے اسلحہ کی بجائے ایک بڑا سا نیزہ تھا اور وہ عورت کے ساتھ اس قدر مؤدبانہ انداز میں چل رہا تھا جیسے وہ اس کا غلام ہو۔ عورت کی آنکھیں بے حد بڑی اور چمکیلی تھیں اور وہ مسلسل ٹارزن کی طرف دیکھ رہی تھی۔ انہیں دیکھ کر ٹارزن اٹھ کھڑا ہوا اور حیرت بھری نظروں سے ان دونوں کو دیکھنے لگا۔

“کون ہو تم نو جوان اور میرے جزیرے پر کیوں آئے ہو؟” سرخ لباس والی عورت نے ٹارزن کے قریب آکر اس کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔

“میرا نام ٹارزن ہے اور میں جنگلوں کا سردار ہوں۔ میں ان جزیروں اور جنگلوں میں گھومنے پھرنے کیلئے آیا تھا۔ مگر تم کون ہو اور اس خطرناک اور پراسرار جزیرے میں کیا کر رہی ہو؟” ٹارزن نے اسے جواب دیتے ہوئے کہا

“تم جنگلوں کے سردار ہو تو میں بھی ان جنگلوں کی ملکہ ہوں ۔ یہ جزیرہ اور جنگل میرے ہیں۔” عورت نے مسکرا کر کہا

“اوہ تمہارا نام کیا ہے اچھی ملکہ؟” ٹارزن نے خوش دلی سے کہا

“مجھے ملکہ اتاشا کہتے ہیں” عورت نے جواب دیا

“کیا تم اس جنگل میں اکیلی رہتی ہو ملکہ اتاشا؟” ٹارزن نے پوچھا۔ منکو خاموشی سے ان کی باتیں سن رہا تھا۔پھر اچانک اسے نجانے کیا سوجھا وہ تیزی سے مڑا اور چٹانوں کی آڑ لیتا ہوا جنگل کی طرف بھاگتا چلا گیا۔

“نہیں تم اپنے بارے میں بتاؤ ٹارزن ۔ تمہارے جنگل میں کون کون سے جانور ہیں اور ان کی تعداد کتنی ہے؟” ملکہ اتاشا نے کہا تو ٹارزن نے اسے اپنے جنگلوں کے بارے میں تفصیل سے بتانا شروع کر دیا۔

“یہ کون ہے؟” ٹارزن نے اس کے قریب کھڑے سفید فام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

“یہ میرا غلام ہے۔ بگوتا۔” ملکہ اتاشا نے کہا

“بگوتا، بڑا عجیب سا نام ہے۔ شکل و صورت اور لباس سے تو اس کا تعلق جدید دنیا سے معلوم ہوتا ہے مگر…..” ٹارزن نے کہا

“تم اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے سردار ٹارزن۔ یہ میرا وفادار ہے۔ اس کی موجودگی سے مجھے بڑا سہارا ملتا ہے۔ اس کے سامنے اگر دس دس شیر بھی آجائیں تو یہ انہیں چند ہی لمحوں میں جنگلی چوہوں کی طرح مار گراتا ہے”۔ ملکہ اتاشا نے بڑے فاخرانہ لہجے میں کہا۔

“ملکہ اتاشا، میں اپنی کشتی میں اس جزیرے کے ساحل پر آیا تھا اور رات ہونے کی وجہ سے میں اور میرا بندر وہیں ساحل پر ہی سو گئے تھے۔ مگر ہماری آنکھیں کھلیں تو ہم نے خود کو یہاں پایا۔ کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ ہم یہاں کیسے پہنچے؟” ٹارزن نے خیال آنے پر پوچھا۔ اس سے پہلے کہ ملکہ اتاشا ٹارزن کو کوئی جواب دیتی اسی لمحے منکو دوڑتا ہوا واپس آگیا۔ اس کے چہرے پر سے ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ وہ بے حد ڈرا ہوا اور خوف زدہ نظر آ رہاتھا۔

“سردار ۔ سردار۔” اس نے دور سے ہی ٹارزن کو پکارنا شروع کر دیا اور پھر بھاگتا ہوا ٹارزن کے قریب آگیا۔ وہ خوف زدہ نظروں سے عورت اور اس کے محافظ کو دیکھ رہاتھا۔

“ارے تم کہاں چلے گئے تھے اور تم اس قدر گھبرائے ہوئے کیوں ہو؟” ٹارزن نے چونک کر کہا

“سس ،سردار۔ یہ عورت ۔ یہ عورت”۔ منکو نے خوف بھرے لہجے میں ملکہ اتاشا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو ملکہ اتاشا بری طرح چیخ اٹھی۔

“بگوتا! یہ بندر شاید ہمارا راز جان چکا ہے۔ جلدی کرو ٹارزن اور اس بندر کو ہلاک کر دو”۔ یہ سن کر ٹارزن اچھل پڑا، اگرچہ ملک اتاشا نے یہ بات کسی اور زبان میں کہی تھی مگر اسے کیا پتہ کہ ٹارزن بھی یہ زبان جانتا ہے۔ اسی لمحے جھماکا ہوا اور عورت اچانک وہاں سے غائب ہو گئی۔ اسے اس طرح غائب ہوتے دیکھ کر ٹارزن پھر اچھل پڑا۔

“یہ عورت، مم۔ میرا مطلب ہے ملکہ اتاشا کہاں غائب ہو گئی”۔ ٹارزن نے حیرت زدہ لہجے میں کہا۔ اسی لمحے نیزہ بردار بگوتا تیزی سے حرکت میں آیا۔ اسکی ٹانگ ٹارزن کے پہلو پر پڑی اور ٹارزن اچھل کر دور جا گرا۔ بگوتا نے اس پر اچانک وار کیا تھا لہٰذا ٹارزن مار کھا گیا۔ جیسے ہی وہ گرا بگوتا نے ایک زور دار چیخ ماری اور نیزہ لے کر ٹارزن کے قریب آگیا۔ اس نے زمین پر گرے ہوئے ٹارزن کو نیزہ مارنے کی کوشش کی لیکن ٹارزن بجلی کی سی تیزی سے کروٹ بدل گیا۔ بگوتا بار بار ٹارزن پر حملے کر رہا تھا۔ ٹارزن چند لمحے زمین پر لڑھکتا رہا پھر وہ تیزی سے اٹھا اور اس نے اچانک چھلانگ لگائی اور بگوتا کے اوپر سے ہوتا ہوا عین اس کے پیچھے آ گیا۔ اس سے پہلے کہ بگوتا اس کی طرف پلٹتا ٹارزن نے اس کی پشت پر لات جما دی۔ بگوتا چیختا ہوا زمین پر جا گرا۔ ان دونوں کو لڑتا دیکھ کر منکو تیزی سے ایک قریبی چٹان پر چڑھ گیا تھا۔ اسی لمحے جنگل کے درختوں کے اوپر ملکہ اتاشا کا انتہائی طویل اور بڑا چہرہ ظاہر ہو گیا۔ وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ٹارزن اور بگوتا کو لڑتے دیکھ رہی تھی اور پھر اچانک جب ٹارزن نے جھپٹا مار کر بگوتا کو پکڑا اور اسکی گردن اور پیٹ پر ہاتھ ڈال کر اسے ایک جھٹکے سے اوپر اٹھا لیا۔ یہ دیکھ کر ملکہ اتاشا نے بایاں ہاتھ آگے کیا اور زور سے چیخ اٹھی۔

“بگوتا! ٹارزن کو نیزہ مارو ۔ جلدی”۔ اس نے چیخ کر کہا۔ ٹھیک اسی لمحے پتھر پر بیٹھے منکو کی نظر ایک بڑے سانپ پر پڑی جو اچانک ایک چٹان کے عقب سے نکل کر آ گیا تھا۔ ٹارزن نے بگوتا کو زمین سے بلند کر رکھا تھا۔ سانپ ٹارزن کو کاٹنے کیلئے پھن پھیلا کر اس کی طرف جھپٹنے کی تیاری کر رہا تھا۔ یہ دیکھ کر منکو نے چٹان سے چھلانگ لگائی او ر چیختا ہوا سانپ کے پاس آ گیا اور پھر یکدم اس نے اپنے تیز پنجوں سے سانپ پر حملہ کر کے اسے مار دیا۔ ادھر ٹارزن نے نیزے سے بگوتا کو مار دیا تھا۔ بگوتا کے مرتے ہی ملکہ اتاشا ہاتھ میں کلہاڑی لیے ٹارزن پر حملہ آور ہوئی مگر ٹارزن کے آگے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکی ۔ ٹارزن نے جیسے ہی اسے موت کے گھاٹ اتارا، بگوتا، سانپ اور ملکہ اتاشا کی لاشوں کو آگ لگ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ جل کر راکھ ہو گئیں اور پھر جھماکے سے غائب ہو گئیں۔

منکو نے بتایا کہ وہ اس عورت کو دیکھ کر جنگل میں چلا گیا اور وہاں اس نے دیکھا کہ تمام جانور مرے پڑے تھے ان کا خون اور گوشت کھایا جا چکا تھا۔ ایک شدید زخمی بندر نے مرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک خونی بدروح تھی۔ اسی نے ساری تباہی مچائی تھی۔

Download Free in PDF

ختم شد

—— آپکو یہ ناول کیسا لگا؟ کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz

Leave a Reply

%d bloggers like this: