Kids Stories Mazhar Kaleem MA Readable Novels Tarzan Unicode Books

ٹارزن کا کارنامہ از مظہر کلیم ایم اے

Written by Peerzada M Mohin

ٹارن اپنے رابرٹ سے ملنے مہذب دنیا میں آیا ہوا تھا۔ منکو بھی اس کے ساتھ تھا۔ ٹارزن یہاں آکر لباس پہن لیتا تھا تاکہ لوگ اسے دیکھ کر حیران نہ ہوں۔ ویسےبھی وہ ملک جہاں اس دوست رابرٹ رہتا تھا کا موسم ان دنوں کافی ٹھنڈا تھا اس لئے گرم رہنے کے لئے بھی لباس پہننا ضروری تھا۔ ٹارزن جب بھی رابرٹ سے ملنے آتا رابرٹ اسے اپنے دوستوں سے ملواتا، خوب محفلیں گرم ہوتیں، جنگلوں کی باتیں ہوتیں، وہاں کی جڑی بوٹیوں، وہاں کے درندوں اور قبیلوں اور ان کے رسم و رواج کے بارے میں باتیں ہوتیں۔ مہذب دنیا کی باتیں بھی ہوتیں۔ ٹارزن اپنے دوستاور اس کے دوستوں کے ساتھ مختلف علاقوں کی سیر بھی کیا کرتا تھا۔ اسی طرح وہ وہ تین ماہ گزار کر واپس آجاتا۔ اس بار بھی ٹارزن کو وہاں گئے ہوئے ایک ماہ ہوچکا تھا اور اب ٹارزن واپس جانے کے بارے میں سوچ رہاتھا کہ رابرٹ کا ایک دوست ان سے ملنے آیا۔

ٹارزن ۔ آپ ہمارے ساتھ وہیل مچھلی کے شکار پر چلیں۔ اس آدمی نے جس کا نام ہنری تھا ٹارزن کو دعوت دیتے ہوئے کہا۔

لیکن آپ لوگ وہیل مچھلی کا شکار کس طرح کرتے ہیں۔ ٹارزن نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

ہم بڑے بڑے جہازوں میں بیٹھ کر دور سمندر کے اندر ایسے علاقوں میں جاتے ہیں جہاں وہیل مچھلیاں پائی جاتی ہیں۔ پھر ہم اسے ہارپون سے شکار کرتے ہیں۔ ہنری نے جواب دیا۔

ہارپون۔ وہ کیا ہوتا ہے۔ ٹارزن نے حیران ہو کر پوچھا۔

یہ ایک خاص قسم کا نیزہ ہوتا ہے اس سے انتہائی مضبوط ڈور بندھی ہوتی ہے۔پرانےزمانے میں اس نیزے کو ہاتھ سے پھینکا جاتا تھا لیکن اب اسے ایک خاص قسم کیتوپ سے پھینکا جاتا ہے۔ جب وہیل مچھلی سانس لینے کے لئے سطح سمندر سے اوپرآتی ہے تو ہارپون مارا جاتا ہے جو اس کی پیٹ میں گھس جاتا ہے اور پھر اسے ڈوری کی مدد سے جہاز پر کھینچ لیا جاتا ہے۔ ہنری نے تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا۔

لیکن اس طرح شکار کا لطف کیا آئے گا۔ شکار تو وہ جو ہاتھوں سے کیا جائے۔ ٹارزن نے کہا تو ہنری ہنس پڑا۔

وہیل مچھلی تو بے انتہا طاقتور ہوتی ہے اگر یہ جہاز کو ٹکر ماردے تو جہاز غرق کرسکتی ہے۔اسے ہاتھوں سے کیسے شکار کیا جاسکتا ہے۔ ہنری نے کہا۔

چلو بہت بڑی نہ سہی قدرے چھوٹی سہی ۔ اس سے لڑا جائے۔ اسے خنجر سے ہلاک کیا جائے تب تو کوئی لطف آئے گا۔ ٹارزن نے جواب دیا ۔

لیکن چھوٹی وہیل مچھلی تو صرف سمندر کے ایک خاص علاقے میں ہوتی ہے۔ بہت چھوٹی بھی نہیں ہوتی کافی بڑی ہوتی ہے۔ لیکن یہ وہیل مچھلی دانتوں والی ہوتی ہے اس کے انتہائی تیز اور مضبوط دانت ہوتے ہیں۔ یہ انتہائی طاقتور اور پھرتیلیمچھلی ہوتی ہے۔ ایک لمحے میں دانتوں کی مدد سے آدمی کو چبا ڈالتی ہے۔ ہنرینے کہا۔

توپھر ٹھیک ہے ۔ مجھے وہاں لے چلو میں اس سے لڑوں گا ۔ ٹارزن نے کہا پھر اس کے دوست رابرٹ اور دوسرے دوستوں نے ٹارزن کو سمجھانے کی بے حد کوشش کی لیکنٹارزن اپنی بات پر اڑ گیا۔

آخرکار اس کی ضد پر پروگرام بن گیا اور ایک روز وہ سب ایک بہت بڑی کشتی میں سوار ہو کر سمندر کے اس علاقے کی طرف چل پڑے جہاں دانتوں والی خطرناک وہیل مچھلی پائی جاتی تھی۔ جب کشتی وہاں پہنچی تو ٹارزن نے دیکھا کہ واقعی خوفناک دانتوں والی بڑی بڑی مچھلیاں سمندر میں اچھل کود رہی تھیں۔

اب میں نیچے کود جاتا ہوں اور مچھلی کا شکار کرکے اوپر آجاؤں گا۔ ٹارزن نے کہا۔

ارےنہیں ٹارزن ۔ ہمیں تمہاری کمر سے رسی باندھنا پڑے گی تاکہ خطرے کی صورت میں ہم تمہیں فورا اوپر کھینچ لیں۔ ورنہ اگر بہت ساری مچھلیوں نے تم پر بیکوقت حملہ کردیا تو تم بچ نہ سکو گے۔ رابرٹ نے جواب دیتے ہوئے کہا۔

ہاں ۔ یہ بات تو درست ہےلیکن رسی سے باندھا ہونے کی وجہ سے میں آسانی سے لڑ نہ سکوں گا۔ ٹارزن نے جواب دیتے ہوئے کہا۔

ہم رسی تمہارے سینے سے باندھ دیں گے تاکہ تم اپنے جسم کو آسانی سے حرکت دے سکو۔ رابرٹ نے کہا تو ٹارزن نے اس کی بات مان لی۔ پھر اس نے لباس اتارا ۔ اپنے زیر جامہ کے ساتھ خنجر لگایا اور پانی میں اترنے کے لئے تیار ہوگیا۔ رابرٹ اور اس کے دوستوں نے مل کر ٹارزن کے سینے سے مضبوط رسی کو باندھا اورپھر اس کا دوسرا سرا ہاتھ میں پکڑ کر وہ سب تیار ہوگئے۔ ٹارزن نے سمندر یںچھلانگ لگائی لیکن رسی کا دوسرا سرا اچانک کشتی کے ایک ستون سے بل کھانے کی وجہ سے بندھ سا گیا اس لئے ٹارزن پانی میں گرنے کی بجائے تقریبا درمیان میں ہی لٹک گیا۔

ابھی رسی کا سرا ستون سے کھولا ہی جارہا تھا کہ اچانک ایک خوفناک وہیل مچھلی جسکے بڑے بڑے دانت تھے پانی سے نکلی اور اس نے ہوا میں رسی کی مدد سے لٹکے ہوئے ٹارزن پر حملہ کر دیا منکو جو کشتی کے کنارے پر بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا چیخ پڑا اور بازو سے اس طرح اشارے کرنے لگا جیسے ٹارزن اسے دیکھ رہا ہو۔ لیکن ظاہر ہے ٹارزن کی اس کی طرف پشت تھی۔ ٹارزن نے یکلخت ہوا میں ہی لات چلائی اور وہیل مچھلی اس کی ٹانگ کی ضرب کھا کر دوبارہ پانی میں غوطہ کھاگئی۔

اسی لمحے ستون سے بندھی ہوئی رسی کھل گئی اور ٹارزن ایک جھماکے سے سمندر میں جاگرا جیسے ہی وہ سمندر میں گرا مچھلی نے ایک بار پھر پوری قوت سے اس پر حملہ کردیا اس نے اپنے خوفناک دانتوں سے ٹارزن کا بازو چبانا چاہا اور ساتھہی اس نے پوری قوت سے اپنی دم موڑ کر ٹارزن کی ٹانگوں پر ماری۔ ٹارزن کو ایک لمحے کے لئے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے ضرب لگا کر اس کی ٹانگیں ہی توڑدی ہوں لیکن بہرحال وہ بہادر اور حوصلہ مند آدمی تھا اس نے بڑے بڑے خونخوار درندوں سے مقابلہ کیا تھا اس لئے وہ نہ صرف اس ضرب کو برداشت کرگیابلکہ اس نے پانی میں ہی قلابازی کھائی اور مچھلی کے جسم سے اس طرح چمٹ گیاجیسے آدمی گھوڑے کی پشت پر سوار ہو کر اس کی گردن سے چمٹ جاتا ہے۔ اب مچھلی اس کے دونوں بازوؤں میں جکڑی ہوئی تھی اور ٹارزن اس کے جسم سے چمٹا ہوا تھا۔ مچھلی نے اپنے آپ کو چھڑانے کے لئے تیزی سے پانی میں پٹخنیاں کھانی شروع کردیں لیکن ٹارزن اس سے چمٹارہا اس نے دونوں ٹانگیں مچھلی کی دم کے گرد لپیٹ لی تھیں ۔ اس طرح مچھلی ٹارزن کو اپنی دم سے بھی ضرب نہ لگا سکتی تھی۔ مچھلی کا جبڑا ٹارزن کے سے سے اوپر تھا اور مچھلی کی کوشش تھی کہ کسی طرح وہ سر گھماکر ٹارزن کا سر اپنے جبڑے سے چبا ڈالے لیکن ٹارزن اسے ایسا کرنے کاموقع ہی نہ دے رہا تھا۔ وہ واقعی اس طرح مچھلی کے چکنے جسم سے چمٹا ہوا تھا جیسے لوہا کسی مقناطیس سے چمٹ جاتا ہے۔

کشتی میں موجود رابرٹ اور اس کے دوست نعرے مار ما ر کر ٹارزن کا حوصلہ بھی بڑھارہے تھے اور اس طرح اس عجیب و غریب اور حیرت انگیز مقابلے سے لطف اندوز بھی ہورہے تھے۔ منکو بھی اچھل اچھل کر اپنی مخصوص آواز میں ٹارزن کا حوصلہ بڑھا رہا تھا۔ ادھر جب مچھلی نے دیکھا کہ ٹارزن کسی صورت میں بھی اس سے علیحدہ نہیں ہورہا اور وہ ٹارزن کو نقصان بھی نہیں پہنچا سکتی تو اس نے فرار ہونے کی کوشش شروع کردیں۔ مچھلی کے جسم میں بے پناہ طاقت تھی اس لئے وہ ٹارزن کو اپنے ساتھ گھسیٹتی ہوئی تیزی سے آگے بڑھی چلی جارہی تھی ادھر رابرٹ کو پہلے سے ہی اس بات کا خدشہ تھا اس لئے اس نے رسی کا دوسرا سرا ایکستون کے ساتھ مضبوطی سے باندھ دیا تھا۔

مچھلی کے زور کی وجہ سے کشتی بھی اس رسی کی وجہ سے ساتھ ساتھ گھسیٹتی چلی جارہی تھی کہ اچانک ٹارزن نے ایک ہاتھ مچھلی کے جسم سے علیحدہ کیا اور اپنے زیر جامہ سے خنجر نکال لیا۔ اب چونکہ مچھلی فرار ہورہی تھی اس لئے وہ قلابازیاںنہ کھا رہی تھی۔

ٹارزن نے پوری قوت سے خنجر مچھلی کی گردن کے نچلے حصے پر مارا اور ساتھ ہی ہاتھ کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ مچھلی کا نچلا حصہ کافی نرم تھا اس لئے وہ تیز خنجرسے کٹتا چلا گیا اور مچھلی بے اختیار تڑپنے لگی۔ اس نے ایک بار پھر ٹارزن کو جھٹکنے کی کوشش کی لیکن ٹارزن نے خنجر سے دوسرا وار کیا۔ اس بار اس نے مچھلی کو آدھے سے زیادہ کاٹ ڈالا۔ اب مچھلی کی طاقت ختم ہونے لگی اور اس کاپھڑکتا ہوا جسم سست ہوتا چلا گیا پھر تھوڑی دیر بعد مچھلی ہلاک ہوگئی اس کا جسم ساکت ہوگیا۔ آنکھیں بے نور ہوگئیں تو ٹارزن نے خنجر کو واپس اپنے زیر جامہ میں اڑسااور ہاتھ اٹھا کر زور سے فاتحانہ نعرہ مارا تو رابرٹ اور کشتی میں موجود سارے دوست سمجھ گئے کہ ٹارزن یہ حیرت انگیز مقابلہ جیت جانےمیں کامیاب ہوگیا ہے تو انہوں نے مل کر رسی کو کھینچنا شروع کردیا۔ منکو اس خوشی سے اچھل رہا تھا جیسے یہ مقابلہ ٹارزن نے نہیں بلکہ اس نے خود جیتاہو۔ رابرٹ بھی بے حد خوش تھا کیونکہ بہرحال ٹارزن اس کا دوست تھا۔

تھوڑی دیر بعد ٹارزن اس مچھلی کو دونوں ہاتھوں میں اٹھائے رسی کی مدد سے کشتی پرپہنچ گیا۔ رابرٹ بے اختیار ٹارزن سے چمٹ گیا۔ وہ سب ٹارزن کو مبارکباد دے رہے تھےکہ اس نے انسانی تاریخ کا ایک حیرت انگیز مقابلہ جیتا ہے آج تک اس قدر خوفناک اور طاقتور دانتوں والی وہیل مچھلی کو کسی انسان نے اس انداز میں ہلاک نہیں کیا تھا۔ ٹارزن نے ان سب کا شکریہ ادا کیاویسے اسے خود بھی اس منفرد قسم کے مقابلے میں بے حد لطف آیا تھا۔ منکو بھی خوشی سے اچھل رہا تھا اور پھر اس خوشی کے عالم میں اس نے ٹارزن کے کاندھے پر بیٹھنے کے لئے چھلانگ لگائی تو اچانک کسی لہر کی وجہ سے کشتی ڈگمگائی اور منکو بے اختیار چیختا ہوا سیدھا پانی میں جاگرا اور پھر اس سے پہلے کہ ٹارزن اور اس کے ساتھی کچھ کرتے انہوں نے دیکھا کہ ایک اور خوفناک وہیل مچھلی نے اچانک منکوپر حملہ کردیا اور ظاہر ہے اب منکو تو اس وہیل مچھلی کا مقابلہ نہ کرسکتا تھااور اتنا وقت بھی نہ تھا کہ ٹارزن پانی میں کودتا اور پھر جاکر منکو کو بچاتا۔ اس نے بجلی کی سی تیزی سے ساتھ پڑا ہوا نیزہ جسے ہارپون کہا جاتا تھا اٹھایا اور انتہائی برق رفتاری سے اس نے نیزہ منکو پر حملہ کرتی ہوئی مچھلی پر دے مارا۔ اس کا نشانہ واقعی بے داغ تھا کہ حالانکہ مچھلی پانی میںتیزی سے حرکت کررہی تھی لیکن نیزہ ٹھیک اس کے جسم میں پیوست ہوگیا اور نیزہ پیوست ہوتے ہی مچھلی نے تیزی سے بھاگنے کی کوشش کی۔ اس نے منکو کو چھوڑ دیا تھا لیکن منکو چونکہ مچھلی کے حملے کی وجہ سے کافی زخمی ہوگیا تھااس لئے ڈوبنے لگا۔

تم مچھلی کو کھینچو ۔۔۔ میں منکو کو اٹھا کر لاتاہوں۔ ٹارزن نے چیخ کر اپنے دوستوں سے کہا اور اس کے ساتھ ہی اس نے پانی میں چھلانگ لگا دی اور پھر اس نے دونوں ہاتھوں سے منکو کو پکڑ کر پانی سے اوپر اٹھا لیا لیکن اس سے پہلے کہ اس کے دوست اسے واپس کھینچتے اچانک ایک اور بڑی مچھلی نے ان دونوں پر بیک وقت حملہ کردیا۔

اب ٹارزن بری طرح پھنس چکا تھا کیونکہ اگر وہ منکو کو چھوڑ کر وہیل مچھلی سے مقابلہ کرتا تو اس دوران منکو ڈوب کر ہلاک ہوجاتااور اگر وہ منکو کو نہ چھوڑتا تو پھر مچھلی اپنے خوفناک دانتوں سے اسے اور منکو دونوں کو ہلاک کردیتی۔ اس لئے ٹارزن اپنے آپ کو مچھلی سے بچانے کے لئے تیزی سے ادھر ادھر ہونے لگا لیکن ظاہر ہے وہ تیرنے میں مچھلی کا مقابلہ تو نہ کرسکتا تھا کہ اچانک اوپر سے ایک ہارپون توپ کی مدد سے مارا گیا۔

یہ ہارپون پوری طرح نشانے پر تو نہ بیٹھا لیکن وہ مچھلی کی دم سے ٹکرایا تھا اس لئے مچھلی اس کی ضرب کھا کر خوفزدہ ہوکر تیزی سے سمندر میں غوطہ لگا کر غائب ہوگئی۔ اس طرح ٹارزن اور منکو دونوں بچ گئے۔ چونکہ رسی ابھی تک ٹارزن کے سینے سے بندھی ہوئی تھی اس لئے رابرٹ کے دوستوں نے اس کو کھینچنا شروع کردیا اس طرح ٹارزن منکو کو دونوں ہاتھوں میں اٹھائے کشتی پر پہنچ گیا کشتیمیں طبی امداد کا سامان موجود تھا اس لئے منکو کے زخموں کی فورا مرہم پٹی کردی گئی اور پھر ہارپون کے ساتھ بندھی ہوئی رسی کو کھینچ کر اس مردہ مچھلیکو بھی کشتی پر کھینچ لیا گیا جس سے منکو لڑا تھا۔

سردار۔ میں بھی مچھلی سے لڑا ہوں۔ میں نے بھی مقابلہ جیت لیا ہے۔ منکو نے ٹارزنسے کہا اور ٹارزن بے اختیار ہنس پڑا۔ اس نے جب منکو کی بات رابرٹ اور باقیساتھیوں کو بتائی تو وہ سب بھی بے اختیار ہنس پڑے اور انہوں نے منکو شاباش دی۔

Download Free in PDF

ختم شد

—— آپکو یہ ناول کیسا لگا؟ کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz

Leave a Reply

%d bloggers like this: