Imran Series Rana Abubakar Readable Novels Unicode Books

سفید زہر ( عمران سیریز ) از رانا ابوبکر

Sufaid Zaher - Imran Series By Rana Abubakar
Written by Peerzada M Mohin

یہ جنوری کے آخری دنوں میں سے ایک سرد دن تھا سردی فل شباب پر تھی سردی ہونے کے باعث سڑکیں سر شام ہی سنسان ہو جاتی تھیں رات کی تقریباً دو ڈھای بج رہے تھے سارے اپنے لحافوں میں دبکے خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے سڑکوں پر کبھی کوئ اکا دکا گاڑی زوں کی آواز کے ساتھ گزر جاتی پھر وہی پراسرا سا سناٹا ٹبی لیٹ کے علاقے کی ایک سڑک کنارے ایک فقیر ٹاٹ کی شیٹ کے اوپر بیٹھا تھا اسکے جسم پر ایک بوسیدہ سا کمبل تھا جو کہ سردی روکنے کے لیے ناکافی تھا فقیر کی عمر اکیس بائیس سال سے زیادہ نہ تھی چہرے پر حماقت کے ڈونگرے برس رہے تھی یہ دنیا کا سب سے برا شاطر اور احمق اعظم علی عمران تھااسکے گلے میں ایک تختی لٹکی ہوی تھی جس پر کندہ تھا
سلام
یہ بندہ اپنی بیوی کی دو فٹ لمبی زبان سے تنگ ہو کر گھر سے نکلا ہے اور اس طرح کی درویشانہ زندگی بسر کر رہا ہے اگر کوی خود بھی ایسے ہی حالات سے دوچار ہے تو اسے اپنا بھائ سمجھ کے دو تین سکے عنایت کرے
علی عمران مسلسل کچھ بربرا رہا تھا اس سے کوی بعید نہیں تھی کہ اس سردی کے عالم میں ٹھنٹھے پانی سے غسل کر رہا ہوتا جب بھی کوی گاڑی اسکے پاس سے گزرتی تو اسکی آنکھیں چمکنے لگتیں مگر جب وہ اسکے پاس نہ رکتی تو اسکی آنکھوں کی چمک کم ہو جاتی ظاہر ہے کوی جتنا بھی نیک کیوں نہ ہو اس سردی کے عالم میں اپبی گاڑی کے گرم ماحول کو چھور کر کسی فقیر کو پیسے دینے کے لیے گاڑی سے نیچے اترے اس کی امید کرنا حماقت تھی تھوری دیر بعد پھر ایک گاڑی تیز رفتاری سے آتی دکھای دی عمران کی آنکھیں چمک اٹھیں گاڑی نے عمران کے پاس آکر فل قوت سے بریک لگای ٹائر احتیجاجا” چرچڑاے ٹائروں کے چڑچڑانے کی آواز گھنگھور سناٹے کو چیڑتی چلی گئ گاڑی کا دروزاہ کھلا ایک ایک پچییس چھبیس سال کا نوجوان گاڑی سے اترالباس سے وہ کسی سے امیر گھرانے کا چشم وچراغ معلوم ہوتا تھا سردی سے نوجوان کے دانت بج رہے تھے اسنے عمران کے پاس آ کر اسے گھورا پھر اسنے عمران کے گلے میں لٹکی ہوی تختی پر نظریں جما دیں پھر تھوری دیر بعد اسنے وہاں سے نظریں ہٹا کر عمران کے چہرے ہر جما دیں جہاں حماقت کے سوا کچھ نہیں تھا نوجوان کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئ لیکن اسکے برعکس اسکی آنکھوں مءں بے چینی کی لہریں دوڑ رہیں تھیں اچانک اسنے لب کھولے وائٹ ویژن (سفید زہر) ہے
نوجوان کے لب سے یہ لفظ سن کر عمران کے منہ پر ایک پرمسرت مسکراہٹ آگئ اس سے پہلے کہ یہ مسکراہٹ نوجواں دیکھتا وہ چہرے پر سے رفوچکر ہو گئ جب کچھ دیر تک عمران خاموش رہا تو نوجوان پھر بولا
وائٹ ویژن ہے
اس بار لہجآ تھورا تلخ تھا
عمران نے مسمی سی صورت بنائ اور بولا
جناب یہ وائٹ ویژن کیا ہوتا ہے کہیں حال میں دریافت ہونے چوہے کے خالو کا نام تو نہیں
نوجوان نے تیز نظروں سے اسے گھورا مگر آنکھوں میں بےبسی کے آثار نظر آ رہے تھے
جہنم میں جاو
وہ غرایا اور واپس گاڑی کی طرف قدم بڑھا دیے ابھی وہ گاڑی کا دروازہ کھولنے ہی لگا تھا کہ پیچھے سے عمران نے ہانک لگائ
بتاتے تو جایں
کیا بتاوں
نوجوان غصے سے پلٹا
جہنم میں جانے کا راستہ اگر ہو سکے تو جہنم تک لفٹ بھی دیں دیں
نوجوان نے مٹھیاں بھینچیں پھر سر جھٹک کر گاڑی کا دروازہ کھولا اور بیٹھ کر دروازہ زور دار آواز کے ساتھ بند کیا پھر گاڑی یہ جا وہ جا جیسے ہی گاڑی تھوری دور گئ پیچھے سے ایک اور گاڑی نکلی اور اس گاڑی کے پیچھے روانہ ہو گئ پچھلے والی گاڑی کو دیکھ کر اسنے اس طرح سر ہلایا جیسے اسے اسکی توقع رہی ہو پھر وہ اٹھا اور کمبل کو اتار کر ایک طرف پھینکا اور ایک طرف دوڑ پڑا پھر تھوری دور ہی اسے اپنی گاڑی نظر آ گئ اسنے جلدی سے گاڑی کے دروازے پر چابی لگائ اور دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گیا دروازہ بند کے اسنے اپنا کوٹ اتارہ اور الٹا کر کے پہن لیا پھر اسنے گاڑی سٹارٹ کر اسی سڑک پر ڈال دی جہاں تھوری دیر پہلے دو گاڑیاں گئ تھیں ایک ہاتھ سٹرینگ پر رکھ کر اسنے ایک ہاتھ جیب میں ڈالا جب جیب سے ہاتھ باہر نکلا تو ہاتھ میں چیونگم کا پیکٹ تھا پھر اسنے ایک پیس نکال منہ میں رکھا اور اسکو کچلنے لگا گاڑی ٨٠ کی سپیڈ پر جا رہی تھی سڑک سنسان تھی اس لیے عمران کو ٨٠ کی سپیڈ پر گاڑی چلاتے ہوے کوی دکت نہیں ہو رہی تھی پھر تھوری دیر بعد گاڑی ١٠٠ کی سپیڈ سے رواں دواں تھی عمران کو اب تشویش ہونے لگی کیوں کہ ابھی تک دونوں گاڑیوں میں سے ایک بھی نظر نہیں آی تھی پھر اسے دور ایک گاڑی کی ہیڈلایٹس کی جھلک محسوس ہوی عمران نے تیز رفتاری کا مظاہرہ کیا اور اسکے قریب پہنچ گیا یہ وہی گاڑی تھی جو کہ نوجوان کی گاڑی کے تعاقب میں روانہ ہوی تھی اب تینوں گاڑیاں ایک دوسرے کا تعاقب کرتی ہویں نامعلوم مقام کی طرف رواں دواں تھیںپھر عمران نے کسی خیال کے تحت واچ ٹرانسمیٹر کا مخصوص بٹن دبایا پھر ہاتھ منہ کے قریب کر کے بولا عمران کالنیگ اور عمران نے دو تین مرتبہ جملہ دہرایا اور خاموش ہو گیا دفعتاً ٹرانسمیٹر میں سے آوز ابھری تنویر سپیکنگ اور کیا حال ہے ٹھیک ٹھاک ہو فارغ بیٹھا تھا سوچا تمہاری خیر خیریت ہی دریافت کر لوں میں خیریت سے ہوں تمہاری خیریت مطلوب ہے اور یہ کون سا وقت ہے خیریت دریافت کرنے گا ویسے بھی ابھی میں ذرا ایک کام سے کہیں جا رہا ہوں گاڑی میں ہوں بعد میں بات کرتا ہوں اور عمران اسکی بات سن کر مسکرایا تنویر کا لہجہ بتا رہا تھا کہ وہ عمران سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا کیوں کے اسکے خیال سے اس بار ایکسٹو نے عمران کے بجاۓ اسکو ترجیح دی ہے اسکو نہیں پتا تھا کہ اسکے پیچھے جو گاڑی آ رہی ہے اس میں عمران ہی براجمان ہے دراصل عمران نے ہی بطور ایکسٹو اسکی ڈیوٹی ٹبی لیٹ کے اس سڑک کنارے لگائ تھی اور حکم دیا تھا کہ وہاں اسے ایک فقیر کی نگرانی کرنی ہے اگر کوی گاڑی اسکے پاس آ کر رکے اور پھر چل پڑے تو اسے اس گاڑی کا تعاقب کرنا ہے جب تک تنویر ایکسٹو کو کوستا ہوا ٹبی لیٹ پہنچا اس سے پہلے پہلے عمران وہاں فقیر کا روپ دھار کر بیٹھ گیا تھا تم کیا سمجھتے ہو مجھے کچھ خبر نہیں کہ تم کس ضروی کام جا رہے ہو مجھے پتا ہے تم اس وقت ٹبی لیٹ کی فلاں سڑک پر ایک گاڑی کا تعاقب کر رہے ہو بس یہ بتا دو کہیں اس میں لڑکی وڑکی تو نہیں اور اوہ تمہیں کیسے پتا چلا کہ میں کسی گاڑی کا تعاقب کر رہا ہوں اور آواز میں حیرت اور غصہ کے ملے جلے تاثرات تھے ننھے لڑکے اگر تمہارہ چوہا تم سے کام لینا شروع کر دے نا تو بس سیکڑٹ سروس کا اللہ حافظ ہے کافی دیر سے تمہاری گاڑی کا تعاقب کر رہا ہوں اور تمہیں خبر تک نہ ہوی واہ رے کیا شان ہے تیری مولا کیسے سیکڑٹ ایجنٹ بھیجے اس جہاں میں اچھا چھورو اب ایسا کرو اگلے موڑ پر تم گاڑی دوسری طرف موڑ لو تاکہ میں براحیراست اس کا تعاقب کروں اور ہاں گھر جا کہ گرم لحاف میں دبک جاو کہیں بی بی کو سردی ہی نہ لگ جاۓ اور بکواس بند کرو میں جا رہا ہوں پتا نہیں کیسے چیف سے پالا پڑ گیا میرا ٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠ اسنے اور بھی بے نقط سنایں ایکسٹو کو مگر عمران ٹرانسمیٹر بند کر چکا تھا اسکے چہرے پر حماقت کے آثار صاف دکھای دے رہے تھے پھر تھوری دیر بعد موڑ آنے پر تنویر نے گاڑی موڑ لی اب عمران گاڑی کا براحیراست تعاقب کر رہا تھا دفعتاً اگلی گاڑی ایک جھٹکے سے رک گئی پھر اس میں سے وہی نوجوان اترا اور تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا سڑک کنارے بیٹھے ہوے ایک اونگھتے فقیر کے پاس جا کے رک گیا عمران نے گاڑ ی کافی فاصلے پر روک لی وہ بھی باہر نکلا اور سڑکی پر لیٹ کر رینگتا ہوا ان سے اتنے فاصلے پر پہنچ گیا جہاں سے وہ ان کی آوازیں بااسانی سن سکتا تھاپھر تھوری کھٹ پٹ کی آواز سنای دی عمران انکی آوازوں پر ہی اکتفا کر رہا تھا وہ نوجوان کی گاڑی کے اوٹ میں کھڑا تھا اگر وہ انکو دیکھنے کے لیے تھورا سا بھی سر اٹھاتا تو تو دیکھ لیا جاتا ظاہر ہے دیکھ لیے جانے کی صورت میں اسکا یہ سارہ ڈرامہ کرنے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا یہ لو تین پیکٹ اور تین ہزار میرے حوالے کر دو فقیر کی آواز اوہ پچھلی بار تو ایک پیکٹ سات سو کا ملا تھا اب ہزار کا خیر چھورو یہ لو تین پزار گن لو نوجوان کی آواز تھورے کے وقفے کے بعد فقیر کی آواز ابھری جو کہ غالباً نوٹ گن رہا تھا ٹھیک پورے ہیں اب چلتے پھرتے نظر آو ہاں میرا کسی سے ذکر نہ کرنا میں نہیں چاہتا کہ تمہارے ماں باپ اپنے جواں سال بیٹے کی موت پر بین کریں آواز میں درندگی تھی ٹ ٹی ٹھیک میں کسی سے سے تمہارہ ذکر نہیں کروں گا نوجوان کی آواز آواز میں خوف کے آثار بدرجہ اتم موجود تھے اسی میں تمہاری بھلای ہے اب جاو پھر قدموں کی آواز کو عمران اپنی طرف آتا سن کر جلدی سے رینگتا ہوا اپنی گاڑی تک پہنچ گیا نوجوان گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ کرنے لگا عمران سوچ میں پر گیا اب کیا کرے اسنے سوچا حماقت ہوی جو تنویر کو واپس بھیج دیا اگر تنویر ہوتا تو وہ اس فقیر کی نگرانی کرتا اور عمران نوجوان کا تعاقب پھر اسنے ایسے سر ہلایا جیسے کسی فیصلے پر پہنچ گیا اسنے گاڑی سٹارٹ کی اور نوجوان کے تعاقب میں روانہ ہوگیا اس بار نوجوان بڑے تحمل سے گاڑی چلا رہا تھاعمران نے واچ ٹرانسمیٹر اپنے ہاتھ سے اتاری اور اس پر فریکونسی سیٹ کرنے لگا پھر تھوری دیر بعد وہ بلیک زیرو کو حکم دے رہا تھا بلیک زیرو! تم فوراً تنویر کو ہدایت دو کے ٹبی لیٹ علاقے کی وسطی سڑک شروع میں ہی ایک فقیر فٹ پاتھ پر بیٹھا ہو گا اسکو اغوا کر کے دانش منزل پہنچا دے اور ہاں اسے کہنا پوری احتیاط سے کام لینا اور یس سر میں ابھی کہتا ہوں اور گڈ اور اینڈ آل اب عمران سکون سے بیٹھا تعاقب کر رہا تھا اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا تھوری دیر تک کھنگالتا رہا پھر ایک سرد آہ بھر ہاتھ جیب سے باہر نکال لیا ہاتھ میں چیونگم کا خالی پیکٹ لہرا رہا تھا ہاۓ میری جان تم تو ختم ہو گئ اب کہاں تلاش کروں تمہیں پھر خالی پیکٹ کو باہر پھینک کر ایسے منہ چلانے لگا جیسے کہ منہ میں چیونگم کے دو تین پیس ہوں تھوری دیر بعد اگلی گاڑی ایک کالونی میں داخل ہو رہی تھی پھر دو تین بعد اگلی گاڑی ایک بہت بڑی کوٹھی کے سامنے رک گئ پھر نوجوان باہر نکلا عمران نے محسوس کیا کے نوجوان کے قدم لڑکھرا رہیں ہیں پھر اسنے کوٹھی کے دروازے پر چابی لگای اور اندر چلا گیا پھر پانچ منٹ بعد ایک ملازم ٹائپ آدمی آنکھیں ملتا ہوا باہر نکلا اسکے چہرے پر برہمی آثار تھے اسنے کوٹھی کا دروازہ پورا کھول دیا اب عمران کا ادھر رکنا بیکار تھا ظاہر ہے اب اسنے گاڑی اند کڑنی تھی عمران نے کوٹھی کی پیشانی پر لکھا ہو منہاج منزل ذہن نشین کر لیا تھا اب اسکی گاڑی کا رخ فلیٹ کی طرف تھا اسنے سوچا فقیر سے پوچھ گھوچ صبح ہی کر لوں گا تھوری ہی دیر بعد وہ اپنے لحاف میں دبکا بلیک زیرو سےروپورٹ لے رہا تھا وہ کہ رہا تھا-


یہ دو دن پہلے کے بات تھی سر سلطان کے قریبی دوستوں میں سے ایک جنکا نام سر احمد فراز تھا انکا ایک ہی اکلوتا سرفزند تھا جسکا نام افتخار تھا اسکی لاش سڑک کنارے اس حالت میں پڑھی ہوی تھی کہ منہ سے جھاگ نکل رہا تھا چونکہ سر احمد فراز نے عوام کی خدمت کے لیے دو تین فلاحی اسپتال قائم کیے اور وہ آے دن غریب عوام کی مدد کرتے رہتے تھے اسلیے عوام میں کھلبلی مچ گئ اور پولیس کو ایکشن میں آنا پڑا تنقیش شروع ہوی آخر کا تنقیش مکمل ہونے کی صورت میں جو معلومات ملیں وہ یہ تھیں کہ پوسٹمارٹم کی رپورٹ کہ رہی تھی کہ نوجوان کے معدے میں سفید پوڈر(ہیروئن) کی ایک بڑی مقدار ملی ہے جو کی افتخار کے موت سبب بنی آخر ایک دو ہفتہ تک تنقیش ہوتی رہی مگر کوی مدلل ثبوت نہ ملا کہ وہ کون تھا جس نے افتخار کو یہ پوڈر فراہم کیا پوسٹ مارٹم کی رپورٹ یہ بھی بتا رہی تھی کہ افتخار پہلے بھی سفید پوڈر کا استعمال کرتا رہا ہے دو ہفتوں میں عوام کا جوش و خروش میں کم ہوگیا اور پولیس والے بھی اکتا گۓ مگر سر احمد فراز اپنے بیٹے کی موت کو نہ بھلا پاۓ سر سلطان ان دنوں ایک کام کے سلسلے میں ملک سے باہر تھے جب وہ آے تو انہیں ساری باتوں کی خبر ہوی تو انہیں بہت دکھ ہوا انکے سامنے مرحوم افتخار کا چہرہ گھوم گیا ابھی اسکی عمرا بیس اکیس سال تھی پھر سر سلط

ان تعزیت کرنے کے لیے گۓ باتوں باتوں میں افتخار کے قاتل کی بات چھر گئ سر سلطان نے محسوس کیا کہ سر احمد فراز اپنے بیٹے کے قاتل کے نہ ملنے پر بہت غمگین ہیں اچانک سر سلطان کے ذہن میں عمران کا خیال آیا اگر عمران اس کیس پر کام کرنے پر رضامند ہو جاتا تو یقیناًتھورے ہی دنوں میں قاتل کی گردن ان کے ہاتھ میں ہوتی پھر انہوں نے عمران سے اس سلسلے میں بات کی پہلے تو اسنے طنزیہ لہجے میں کہا کہ واہ اب اس ملک کی سیکڑٹ سروس ایک قاتل کا سراغ لگاتی پھرے مگر جب سرسلطان نے افتخار کی والدہ کے رونے کا منظر کھنچا اور کہا کہ میرے خیال سے یہ پورا ایک گروہ ہے جو کے ہماری نوجوان نسل کو تباہی کی طرف دکھیل رہا ہے اور بھی دلیلیں دیں تو عمران کچھ سوچنے پر مجبور ہو گیا اسکی نظروں کے سامنے سے کئ دنوں سے اس قسم کی خبریں گزر رہیں تھیں مگر کچھ کیسس میں الجھا ہونے کی وجہ سے ان پر اتنا دھیان نہیں دے پایا تھااب وہ سوچ رہا تھا اس گروہ کا سدباب کر دینا چاہیے پتا نہیں یہ گروہ کتنے لوگوں کے گھر اجار چکا تھا اسنے اس کیس پر کام کرنے کی حامی بھر لی پھر اسنے اپنے طور پر تنقیش شروع کی پہلے تو اسنے اسکے سارے خاندان کے لوگوں کو کنگھالا ایک ایک سے پوچھ گوچھ کی مگر کوی بھی شخص ایسا نہ ملا کہ جس پر شک کیا جا سکتا ہو
کہ یہ اس گروہ کا آلاکار یا افتخار کا قاتل ہے اب اسنے اسکے بہت قریبی دوستوں سے پوچھ گوچھ کی اسکے سارے دوست تقریباً تقریباً شریف تھے مگر اسکا ایک دوست جسکو اسکے دوسرے دوستوں کے بیان کے مطابق افتخار اسے اپنا سب سے اچھا دوست یعنی بیسٹ فرینڈ کہتا تھا جب اس ست پوچھ تاچھ کی تو عمران کو اس پر شک گزرا سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اسکی آنکھوں کے سرخ رنگ کے بڑے ڈورے تھے جو کہ اس چیز کا منہ بولتا ثبوت تھا کہ یہ بندہ بہت سالوں سے سفید پاوڈر کا رسیا ہے مگت عمران نے اس پر ظاہر نہیں ہونے دیا کہ وہ سے پہچان چکا اسنے بس اتنا کیا کہ جولیا کو اسکی کوٹھی کی نگرانی پر لگا دیا کیوں کہ ابھی اس کے پاس کوی واضح ثبوت نہیں تھا کہ یہ اس گروہ کا آلا کار ہے پھر ایک دن رات کو ڈھیر بجے جولیا نے ایکسٹو کو رپورٹ دی کہ وہ نوجوان کے تعاقب میں ہیں اور وہ عجیب عجیب سی حرکتیں کر رہا ہے اکیسٹو کے استفسار کرنے پر اس نے بتایا کہ وہ سڑک کنارے بھیٹھے ہوے ہر فقیر کے پاس گاڑی روکتا ہے پھر ان سے دو تین باتیں کرتا ہے پھر واپس گاڑی میں آکے بیٹھ جاتا ہے اب تک وہ پانچ چھے فقیروں سے ایسی حرکتں کر چکا ہے اکسٹو نے اسے حکم دیا کہ وہ واپس چلی جاے اور اسے اس سڑک کا بتا دے اب جہاں وہ اس کا تعاقب کر رہی ہے جولیا نے وہ سڑک بتا دی ایکسٹو جو کہ عمران ہی تھا اسنے تنویر کو حکم دیا کہ ٹبی لیٹ علاقے کی فلاں سڑک پر ایک فقیر بیٹھا ہوگا اس کی نگرانی کرے اگر کوی گاڑی اسکے پاس آکر رکے اور پھر چل دے تو وہ اس کا تعاقب کر ے تنویر کو یہ حکم دے کر اسنے جلدی سے فقیر کا روپ دھارہ اور اس سڑک پر جا کہ بیٹھ گیا جہاں تنویر کو اسنے ایک فقیر کی نگرانی کرنے کا کہا تھا عمران اس سے پہلے ہی وہاں پہنچ چکا تھا اب تنویر عمران کی نگرانی کر رہا تھا اور عمران افتخار کے اس دوست کا انتظار جوکہ ہر فقیر سے بات کر کے گاڑی میں بیٹھ جاتا تھا
پھر اسکے اندازے کے عین مطابق تھوری دیر بعد نوجوان اسکے سامنے کھڑا اس سے وائٹ وژن کا پوچھ رہا تھا اس ساری کاروای کے بعد اب وہ اس فقیر کے سامنے کھڑا تھا جسکو گزشتہ رات تنویر نے اغوا کیا تھا
سلامالیکم ٠٠٠٠٠٠٠٠٠عمران نے بوکھلاے ہوے لہجے میں کہا
واسلام کیا چاہتے ہو مجھ سے
ؑہ جنجلا کر بولا
یار میں تو ایک چیز ہی چایتا ہوں مگر میرے چاہنے یہ نہ چاہنے سے کیا ہوتا ہے جب دونوں کی رضامندی ہو تو پھر بات بنتی اٹھا دے ہاتھ اور دعا کر دے میرے بارے میں بس اگر میری شادی ہو گئ نا تو تمہیں مٹھای کے اکھٹے تین ڈبے دوں گا
عمران بولنے پہ آیا تو بولتا ہی چلا گیا جب وہ رکا تو اس نے فقیر کی طرف ایسے بوکھلا کہ دیکھا جیسے وہ اس جو یہ باتیں نہ بتانا چاہ رہ ہو
اوہ خدا میں یہ کس پاگل خانے مءں پھنس گیا
وہ بڑبڑایا
جب سفید پوڈر بیچ کر لوگوں کے گھر اجارتے تھے تب خدا یاد نہیں آتا تھا
عمران نے طنز کیا
فقیر چونک پڑا اسنے عمران کے چہرے پر نظر ڈالی تو کانپ اٹھا جہاں کچھ دیر پہلے حماقت برس رہی تھی اب اسکی جگہ سنجیدگی نے لے لی تھی
ک کی کیسی باتیں کر رہے ہو کیسا سفید پاوڈر میں نے تو کبھی اسکا نام بھی نہیں سنافقیر کے چہر ے سے صاف پتا لگ رہا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے
میرے حیال سے مجھے تمہاری یاداہشت واپس لانی ہی پڑے گی
عمران نے اٹھتے ہوے کہا پھر وہ فقیر کے قریب آیا اچانک اس نے ایک زوردار گھونسہ اس کے ناک پر دے مارہ فقیر کےایک کرسی کے ساتھ بندھا تھا وہ کسمکایا
شرافت سے بتا دو کہ اس گروہ میں کون کون ایسا ممبر ہے جسے تم جانتے ہو اور یہ سفید پاوڈر تمہیں کون مہیا کرتا ہے
عمران غرایا دفعتاً اسے کی نظروں کے سامنے سے افتخار کی والدہ کا بین کرتا چہرہ گزرا اس کا منہ سرخ ہو گیا
میں آخری بار پوچھ رہا ہوں اسکے بعد میں ہاتھوں کی زبان سے باتیں کروں گا
عمران نے فقیر کو گھورا مگر فقیر کچھ نہ بولا عمران نے جیب میں سے ایک چاقو نکالا عمران کو چاقو نکالتا دیکھ کر فقیر کی آنکھوں میں خوف کے ساۓ پھیلنے لگے عمران نے بغیر کچھ بولے چاقو والا ہاتھ لہرایا ادھر فقیر کی چیخ سے پورا کمرہ گھونج اٹھا فقیر کا ایک کان سرے سے ہی غائب ہو چکا تھا فقیر بڑی طرح ترپ رہا تھا عمران نے پھر ہاتھ اٹھایا اسکے ہاتھ کو اٹھتا دیکھ کر فقیر کراہا
نہ ظالم آدمی نہ کرو میرے اوپر تشدد میں سب کچھ بتاتا ہوں
عمران نے ایسے سر ہلایا جیسے اس کو اس کی توقع رہی ہو پھر اسنے کرسی کھینچی اور فقیر کے قریب بیٹھ گیا فقیر کے کان سے خون پانی کی طرح بہ رہا تھا عمران نے بلیک زیرو کو آواز دی تھوری دیر بعد قدموں کی آواز ابھری پھر بلیک زیرو کمرے میں داخل ہوا
اس کی بینڈیج کر دو
عمران بولا
اچھا
بلیک زیرو نہ کہا پگر وہ اپنی کام مءں مشغول ہو گیا وہ بڑی مہارت سے فقیر کے کان کی بینڈیج کر رہا تھا اتنی دیر میں عمران جیب میں ست چیونگم نکال کر اس سے شغل کر رہا تھا تھوری فیر بعد بلیک زیرو اپنا کام کر کے جا چکا تھا اب عمرا پوری طرح ہمہ تن گھوش تھا
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نوکری کے سلسلے میں بہت پریشان رہتا تھا جگہ جگ انٹرویو دے دے کر میں تھک چکا تھا مگر ہر ادارہ دو چیزیں مانگتا تھا جو کہ میرے پاس نہیں تھیں ایک سفارش اور دوسری رشوت اب گھر والوں سے الگ طعنہ سننے پڑتے میرا ایک جگری دوست تھا ہم دونوں اکھٹے پڑھ کے فارغ ہوے تھے وہ بھی ان دنوں نوکری کی تلاش میں مارہ مارہ پھر رہا تھا پھر کئ دن کی ملاقات کے بعد میں اس سے ملا تو وہ مشکل سے ہی پہچانا جا رہا تھا جسم پر عمدہ سا تھری پیس سوٹ تھا پاوں میں ایک بہت اچھ کمپنی کی جاتی ہاتھ میں عمدہ قسم کا موبائل نظر آ رہا تھا میں نے اس سے پوچھا تمہیں کہاں جاب ملی تاکہ میں بھی اہیں اپلاے کروں اسنے ہنس کر کہا
دیمو ہفتہ کو میرے ساتھ چلیں میں تجھے ایک ایسی جاب دلاوں گا کے تیری عیشیں ہی عیشیں ہو گیں میں خوشی خوشی رضامند ہو گیا پھر ہفتہ کی رات کو وہ تقریباً ١بجے وہ میرے گھر آیا میں اسکا ہی منتظر تھا پھر اسنے مجھے اپنی گاڑی میں بیٹھایا اور گاڑی فل سپیڈ پر چھور دی میں اسکی گاڑی دیکھ کر حیران ہوگیا کیوں کہ دو دن پہلے تو اسکے پاس ایک پڑانی موٹر سایئکل تھی میرے استفسار کرنے پر اسنے بس اتنا کہا کہ یہ سب اس جاب کا کمال ہے آدھے گھینٹے بعد میں نے محسوس کیا کہ ہماری گاڑی شہر سے باہر جانے والی سڑک پر ہے میں حاموش بیٹھا رہا تھوری دیر بعد اسنے گاڑی ایک جگہ روک دی پھر اسنے گاڑی لاک کی اور مجھے اپنے ساتھ لے کے چل پڑا یہ ایک سنسان سی سڑک تھی جس کے دونوں طرف درختوں کا طویل سلسلہ تھا پھر اچانک ایک درخت پر دیا چلتا دکھای دیا میرے دوست کا رخ بھی اس طرف ہو گیا پھر ہم درختوں کے اندر گھست چلے گۓ پھر دیا ہماری راہنمای کرتا رہا پھر ہم ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں پر درخت کا نام ونشان تک نہ تھا بلکہ وہاں ایک خاکی رنگ کا خیمہ نصب ےھا جس میں سے چھنک چھنک کر آتی ہوی روشنی ماحول کو اور بھی پراسرا بنا رہی تھی پھر ہم اس خیمی میں داخل ہوے یہ ایک بڑا خیمہ تھا جس میں بیس کے قریب کرسیاں پڑیں تھیں سب پر ایک ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا شکل صورت سے وہ پڑھے لکھے معلوم ہوتے تھے ہمیں دیکھ کر سب نے سر کو خم کیا پھر میرے دوست نے بھی اس طرح کیا اور میں نے بھی اسکی تقلید کی پھر ہم بیٹھ گۓ سب خاموش تھے اچانک خیمہ کا پردہ ہٹا اور ایک نقاب پوش اند داخل ہوا اسکے ہاتھ میں ایک بریف کیس تھا اسنے وہ بریف کیس ٹیبل پر رکھا اور خود ایک کرسی پر بیٹھ گیا جو کہ دوسری کرسیوں کی نسبت تھوری بڑی تھی
جیسا کے آپ سب کو معلوم ہے کہ ہمارہ مشن کیا ہے اسی مشن کے تحت پچھلی میٹنگ میں میں نے آپ سب کو وائٹ ویژن کے پانچ پانچ پیکٹ دیے تھے جنہیں آپ نے بیچنا تھا کس کس نے سارے پیکٹ سیل کر دیے آواز میں کرختگی تھی
پھر ایک نوجوان کھڑا ہوا اوکہنے لگا میرے علاقے میں کچھ لوگ پہلے ہی وائٹ ویژن کے آدی تھے اس لیے انہوں نے اسکو ہاتھوہاتھ لیا اور منہ مانگے دام دیے
نوجوان کے خاموش ہوبے پر نقاب پوش بولا
کیا تم نے انکو بتا دیا کہ اگلی بار وائٹ ویژن کہاں سے ملے گا اور کس چگہ سے ملے گا
ہاں میں نے انہیں بتا دیا تھا کہ آیندہ یہ پیکٹ مجھ سے نہیں ملیں گیں بلکہ ٹبی لیٹ کے علاقے کی وسطی سڑک پر فٹ پاتھ پر بیٹھے فقیروں سے ملےگا
پھر سب باری باری اپنی رپوٹ دیتے گۓ تقریباً سب نے ہی تمام پیکٹ سیل کر دیے تھے نقاب پوش بولا
ٹھیک سب کی رپورٹ حوصلہ افزا اور میں دیکھ رہا ہوں تم سب اپنے ساتھ ایک ایک نیا آدمی لاے ہو انکو تم کام بتا دینا جو انہوں نے کرنا ہے
پھر اسنے بریف کیس کھولا بریف کیس آدھا ہزار والے نوٹوں سے بھرا ہوا تھا اور آدھا چھوٹے چھوٹے پیکٹوں سے بھرا تھا نقاب پوش نے ایک ایک نوٹوں کی گدی نکالی اور سب کو ایک ایک دی ان میں سے ایک میرے حصے میں بھی آی پھر اسنے سب کو دس دس پیکٹ دے دیے اور کہنے لگا
اگلا ٹارگٹ تمہارہ یہ ہے کے دس پیکٹ اگلے ہفتے تک بیچنے ہیں اور ہاں اس بار تم نے رات کو ٹبی لیٹ کے علاقے میں سڑک کنارےفقیروں کا روپ دھار کر بیٹھنا ہے اور ہاں ایک دوسرے سے کافیفاصلہ پر بیٹھنا ہے تمہارے کسٹمر تم سے وہیں رابطی کر لیں گیں اور ہاں اگر تم میں سے کسی نے پولیس کا انفارم کرنے کا سوچا بھی تو اسکے ماں باپ کو میرے یاتھوں سے کوی نہیں بچا سکے گا
اس بار نقاب پوش کی آواز کیآواز میں درندگی تھی
میٹنگ برخاست ہوی
یہ کہ کر وہ اٹھ گیا اسکے بعد سارے ایک ایک کر کے باہر نکلنے لگیں جب ہم اپنی گاڑی میں آکربیٹھے تو میرا دوست مجھے کہنے لگا
پھر کیا خیال ہے تمہارہ یہ پیکٹ اگلے ہفتے تک بیچ دینا اور ادھر آ جانا
پہلے تو میں نے سوچا کہ نہ کر دوں مگر پھر مجھے اپنے گھر کے حالات نظر آنے لگے اس دن سےمیں اس کام ملوث ہوں
فقیر کسی ٹیپ ریکارڈ کی طرح بولتا چلا گیا
عمران نے اسکو گھورا پھر ایک طویل سانس لی اور چیونگم کچلنے لگا غالباً وہ اس معاملے کہ بارے میں کوی لائحہ عمل تیار کر رہا تھاعمران کرسی پر بھیٹھا کسی سوچ میں گم تھا اچانک بلیک زیرو بول اٹھا
سر اب کیا کرنا میرے خیال سے انکا سدباب ہوجانا چاہیے
یار ایک تو تم بے توقع بولتے ہو جب بھی بولتے میں اپنی شادی کے خرچوں کا حساب لگا رہا تھا بس سب کو جمع کرنے ہی والا تھا کہ تم نے کسی ماسی رشیدہ کی طرح آکے ٹانگ پھسا دی میرے سارے خرچوں کا حساب چوپٹ ہو گیا ہے کوی تک
عمران نے کھا جانے والی نظروں سے بلیک زیرو کو گھورا دوبارہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں بلیک ذیرو مسکرا رہا تھا دفعتاً عمران گویا ہوا
میں سوچ رہا ہوں میرے خیال سے وہ نوجوان (فقیر) جس کو تنویر پکڑ کے لایا ہے وہ شاید اپنے ان بیس ساتھیوں کے پتے بھی بتا دے جس کا اس نے ذکر کیا تھا مگر یہ سب کارندے ہیں اور ہیں بھی ہمارے ملک کے ہی ناسور جو کہ اپنے ہی ملک کی جڑیں کانٹنے میں مصروف ہیں اگر ہم انکو پکڑ کر ملٹری کی تحویل میں دے بھی دیتے ہیں تو اصل مجرم جو کی انکو سفید زہر فراہم کرتا وہ پھر بھی کھلے عام دندناتا پھرے ویسے بھی ہمیں ان سے کوی فائدہ نہیں عمران کی کیشادہ پیشانی پر شکنیں ابھر آیں تھیں دفعتاً اس نے دراز میں سے ٹرانسمیٹر نکالا پھر فریکونسی سیٹ کرنے لگا پھر تھوری دیر بعد وہ نتویر سے بات کر رہا تھا یہ ایک خصوصی ٹرانسمیٹر تھا جس پر اور کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی
تنویر
یس سر
کیا رپورٹ ہے
سر ابھی تک تو نہ کوی کوٹھی سے باہر نکلا ہے اور ناہی کوی ملاقات کے لیے اندر گیا ہے
گڈ کہیں ایسا تو نہیں دوران نگرانی تمہیں اونگھ آگی ہو اور اس وقت کوی باہر نکل گیا ہو
اس بار عمران کے لہجے میں سردمہری تھی کہ ساتھ بیٹھا بلیک ذیرو بھی کانپ اٹھا
نو سر ایسی کوی بات نہیں میں دار چاک و چوبند تھا چاک و چوبند رہنے کے لیے میں ایک مگا کافی کا ساتھ لے آیا تھا رات بھر اسکی چسکیاں لگاتا رہا اس وجہ سے اونگھ
غیر ضروری باتوں سے اجتناب کرو
عمران نے اسکی بات کاٹتے ہوے کہا
سوری سر آئندہ احتیاط برطوں گا
تنویر کی آواز میں خوف کی آمیزش تھی
اچھا سنو اب تم وہاں سے ہٹ جاو اور گھر جا کہ آرام کرو رات کے سوۓ نہیں
اس بار عمران کی آواز میں کافی حد تک نرمی تھی
یس سر
اور اینڈ آل
تنویر کو ہٹانے سے پہلے آپ کسی ممبر کو وہاں بھیج دیتے ایسا نہ اس دورانیہ میں کوی کوٹھی سے راہ فرار اختار کر لے
جیسے ہے عمران نے ٹرانسمیٹر رکھا بلیک ذیرو بول اٹھا
نہیں اب مجھے ان کی طرف سے کو پریشانی نہیں میں نے تنویر کو اس لیے وہاں سے ہٹایا ہے کہ کہیں وہ ان لوگوں کی نظروں میں نہ آ جاے جو اس گروہ کی پشت پر ہیں اب میرا مشن ان پر ہاتھ ڈالنا ہے
تھورے توقف کے بعد عمران نے دوبار ٹرانسمیٹر اٹھایا اور فریکونسی سیٹ کرنے لگا
ہیلو جولیا نافٹر واٹر
یس سر
کہاں ہو اس وقت
سر اپنے فلیٹ میں بیٹھی بور ہو رہی ہوں ابھی
جتنی بات پوچھی گئ اسکا جواب دیا کرو آئندہ خیال رکھنا عمران کا لہجہ سرد تھا
سوری سر
جولیا کی سہمی سی آواز ابھری
ہممم کل ہفتے کی شام کو ١٠ بجے تک تمام ممبروں کو لے کر دانش منزل کے میٹنگ روم میں پہنچ جانا
یس سر سر وجہ پوچھ سکتی ہوں
کل شام دور نہیں
عمران غرایا
پھر جولیا کی بات سنے بغیر اور اینڈ آل کہ کر ٹرانسمیر آف کر دیا
کالے صفر اب جو میں تمہیں باتیں بتا رہا ہوں غور سے سنو اور ذہن نشین کر لو کل تم نے یہی باتیں میٹنگ میں کہنی ہیں
یس سر
پھر عمران اسکو میٹنگ میں کرنے والیں بتیں بتانے لگا پانچ دس منٹ تک لیکچر دینے کے بعد اسنے بلیک ذیرو کو گھورا
بس یہ باتیں ایسے ڈہن نشی کر لو جیسے مولوی صاحب کو خطبہ نکاح یاد ہوتا ہے
آخری جمل کہتی ہوے عمران نے بلیک ذیرو کو آنکھ ماری-


بلیک زیرو مسکرانے لگا اور عمران پیکٹ میں سے چیونگم کا ایک پیس نکال کر منہ میں رکھ چکا تھا اور اسے کچلتے ہوے آپستہ آہستہ سر ہلا رہا تھا
جولیا سارے مبرز کو اکھٹا کر کے ١٠ بجے دانش منزل کے میٹنگ روم میں بیٹھی ہوی تھی ممبروں میں تنویر خاور نعمانی خاور اور صفدر تھے عمران کوی نام و نشان نہیں تھا
شکر ہے اس بار عمران نہیں ہے وہ ہوتا تو سر ہی کھا لیتا
تنویر بڑبڑایا
تمہیں اس کے بارے میں ایسا کہنے کا کوی حق نہیں
جولیا بولی تنویر نے ایسے دانت کچکچاۓ جیسے عمران سامنے ہوتا تو اسے کچا ہی چبا جاتا صفدر ان دونوں کی نوک جھوک سے لطف اندوز ہو رہا تھا
کچھ معلوم ہے مس جولیا کہ کیا مشن ہے اس دفعہ
دفعتاً صفدر نے زبان کھولی
میرے حیال سے میں کچھ جانتا ہوں
تنویر مسکرایا جولیا سمیت سارے چونک پڑے
کیا مطلب
پھر تنویر انکو ساری بات بتای کے کیسے اسنے دو دن پہلے عمران کی نگرانی کی پھر اسنے ایک گاڑی کا تعاقب بھی کیا
ہمم اسکا مطلب اس بار کوی گہرا چکر ہے
جولیا نے سرد آہ بھری دل ہی دل میں وہ سوچ رہی تھی کہ ابھی تک یہ شیطان کیوں نہیں آیا
اچانک دروزے کی طرف سے آواز آی
بندہ ملکہ پولیا اور اس کے بھای منویر کے سامنے آنے کی اجازت چاہتا ہے
بھلا عمران کے سوا اور کون ہو سکتا تھا
اندر آتے ہو یا اٹھ کے خود آوں لینے
جولیا جنجھلای
عمران بوکھلاے ہوے انداز میں اندر داخل ہوا چہرے پر ازلی حماقت چھای ہوی تھی
اے یہ تم نے میرا اور مس جولیا کا نام کیوں الٹ لیا
تنویر پھٹ پڑا
مس جولیا نہیں بلکہ جولیا بہنا کہو پیارے
عمران نے کرسی پر بیٹھتے ہوے تنویر پر جملہ کسا
خاموش ہو جاو عمران ورنہ مار بیٹھوں گیں
جولیا نے تیز نظروں سے عمران کو غورا
چچ چچ کیا زمانہ آگیا ہے جواں سال بھای کے ہوتے ہوے تم مجھے مارتی اچھی لگو گی لا حولا ولا قوہ ارے یہ بھای کس مرض کی دعا ہے
عمران نے تنویر کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا پھر ایسے سر ہلانے لگا جیسے بہت افسوس ہوا ہو اب معاملہ تنویر کے بس سے باہر ہو چکا تھا وہ اپنی کرسی سے اٹھا ہی تھا کہ ٹیبل پر پڑے ٹرانسمیٹر میں سے ایکسٹو کی آواز ابھرنے لگی
ہیلو جولیا
یس سر
کیا تمام ممبر موجود ہیں
یس سر
غور سے سنو یہ معاملہ سر سلطان کے ایک دوست کے بیٹے موت سے شروع ہوا تھا جس کی موت پوسٹمارٹم کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ویژن کی زیادہ مقدار کھانے کی وجہ سے ہوی تھی پولیس اپنے طور پر ایک ہفتہ تک تنقیش کرتی رہی مگر یہ معلوم نہ ہو سکا کہ اسکو کس نے اتنی بڑی مقدار وائٹ ویژن کی مہیا کی ان دنوں سر سلطان غیر ملکی دورے پر ملک سے باہر تھے جب وہ واپس آے ےو انہیں اس ادونہاک واقعے کی خبر ہوی وہ اظہار تعزیت کرنے کے لیے اپنے دوست کے گھر پہنچ گۓ باتوں باتوں میں انکو ساری باتیں پتا چلیں انہوں نے سوچا کہ اس گروہ کا سدباب ہونا چاہیے اس کے لے انہوں نے عمران سے رابطہ کیا
ایکسٹو سانس لینے کے لیے رکا سارے ہمہ تن گوش تھے جبکہ عمران عمران کرسی پر پڑا خراٹے لے رہا تھا ایسٹو گویا ہوا
عمران نے اس کیس پر کام کرنے کی حامی بھر لی پھر اسکو دوران تنقیش اس نوجوان جس کا نام افتخار تھا اسکے ایک دوست پر شک ہوا عمران نے مجھ سے رابطہ کیا اور ساری بات مجھے بات بتای میری نظروں سے بھی آج کل ایسی بہت سی خبریں گزر رہیں تھیں اور میری حیال سے یہ دشمنان ملک کی ایک سازش ہے کہ وہ ہمارے ملک کے باصلاحیت نوجوانوں کو ایسے غلیظ شوق کی طرف لگا کر انکی زندگیاں تباہ کر رہیں ہیں قصہ محتصر میں نے عمران کو اس کیس پر کام کرنے کی اجازت دے دی پھر اسکے بعد میں نے اسکی نگرانی پر جولیا کو لگا دیا
پھر ایکسٹو ان کو ساری تفصیل بتاتا چلا گیا آخر کار وہ بولا
آج میں نے آپ کو اس لیے اکٹھا کیا ہے آج اس فقیر کے بیان کے مطابق ان لوگوں کی میٹنگ ہوتی ہے اور وہ ایک مخصوص جگہ پر اکھٹے ہوتے ہیں اب آپ نے اس جگہ جا کر ان بیس کے بیس کارکونوں کو یا تو اغوا کرنا ہے یا ضروت پرنے پر قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کرنا کیوں کہ یہ اس ملک کے ناسور ہیں یہ وہ سانپ ہیں سج تھیلی سے کھاتے ہیں اسی تھیلی میں سوراخ کرتے ہیں ہاں انکے باس کو زندہ پکرنا ہے دھیان رہے کہ وہ نکل نہ پاے جس جکہ وہ سب اکھٹے ہوتے ہیں وہ جگہ عمران کے علم میں ہے اب کسی ممبر کے ذہن میں کوی بات ہو تو پوچھ لے
ایکسٹو حاموش ہو گیا کمرے میں سناٹا چھا گیا مگر اس سناٹے کو عمران کے خراٹے چیر رہے تھے دفعتاً تنویر بولا
سر عمران اس جگہ کا معلوم ہے مگر عمران تو سو رہا ہے سر
تنویر نے عمران کو پھسانا چاہا تاکہ ایکسٹو عمران کو ڈانٹے
جولیا نے تنویر کو کھا جانے والی نظروں سے غورا
جس وقت اسکا جاگنا ضروری ہوتا ہے اس وقت وہ تم سے بھی زیادہ جاگ رہا ہوتا اور تم سے زیادہ ہوشیاری سے کام کرتا ہے تمہیں تو اس کا علم بھی نہیں ہوتا کہ تمہاری گاڑی کا کوی تعاقب تو نہیں کر رہا آیندہ احتیاط کرنا اور اینڈ آل
ایکسٹو کی آواز میں گہرا طنز تھا تنویر شرمندہ سا ہوگیا ایکسٹو اس بات پر اس پر چوٹ کی تھی کہ جب جب کل رات وہ فقیر کی گاڑی کا تعاقب کر رہا تھا تو اسے اس کا علم نہیں ہو سکا تھا کہ عمران بھی اسکا تعاقب کر رہا ہے
ہاں دے دیں تمہارے چوہے نے ہدایات
عمران نے آنکھیں کھول ایک جماہی لی
پھر تنویر کی طرف ایک طنزیہ نظر ڈالی اور بولا
جی جناب کہیں کیا حال ہے سنا ہے کہ چوہے نے آپ کی عزت افزای کی ہے
اس سے پہلے کے تنویر کچھ بولتا جولیا بول پڑی
عمران ایک گھینٹہ رہ گیا ہے میٹنگ شروع ہونے میں چلو چلیں
ہاں تم سب باہر رکو میں اس فقیر کو لے کر آیا اور ہاں باہر تین گاڑیاں کھڑی ہیں جن کی ڈکی میں ہر قسم کا اسلحہ موجود ہے تم ان میں جا کہ بیٹھو میں آتا ہوں
عمران لہجہ سنجیدہ تھا
سب کرسیوں سے اٹھے اور باہر نکل گۓ عمران ہاتھ جیب کی طرف گیا پھر تھوری دیر بعد وہ بھی چیونگم کو کچلتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا
تین گاڑیاں سڑک پر رواں دواں تھیں درمیان والی گاڑی کو فقیر ڈرایو کر رہا تھا اس سے آگے والی گاڑی میں عمران اور خاور تھے جبکہ پچھلی گاڑی میں تنویر جولیا نعمانی اور چوہان تھے تینوں گاڑیاں تیز رفتاری کا مظاہرہ کر رہیں تھیں عمران نے فقیر کو سمجھا دیا تھا کہ اسنے بلکل نارمل انداز میں وہاں جاکہ بیٹھ جانا باقی ہم خود سنبھال لیں گیں کیوں کہ فقیر کے پاس عمران کی بات ماننے کے سوا کوی چارہ نہیں تھا اس لیے اسکو عمران کی کی بات ماننی ہی پڑی تھوری دیر بعد تینوں گاڑیاں رک گایں یہاں پر کثر ت تعداد درختوں کی تھی یہی وہ جگہ تھی جہاں پہلی بار فقیر اپنے دوست کے ساتھ میٹنگ میں آیا تھا فقیر گاڑی سے اترا اس کے منہ پر پریشانی کے آثار تھے اتنی دیر میں سارے نیچے اتر چکے تھے اچانک عمران نے سر گوشی کی
جیسا کہ میں دیکھ رہا ہوں سارے باراتی آگۓ ہیں بس ان باراتیوں کو گھیر لو میں ذرا دولہے کو قابو کروں گا چلو تم جاو
عمران نے آخری جملہ فقیر کو کہا اسنے اثبات میں سر ہلایا اور درختوں کے جھنڈ میں گھس گیا عمران او اسکے ساتھی بھی بے آواز قدم اٹھاتے ہوے اسکے پیچھے درختوں میں داخل ہو گۓ تھورا سا چلنے کے بعد یکدم درخت ختم ہو گۓ اب وہ ایک میدان کے اندر کھڑے تھے اور انکو خیمہ نظر آرہا تھا جوکہ کافی بڑا تھاعمران سمیت ساروں نے درختاں کے پیچھے پوزیشن لے لی فقیر نے عمران کی طرف دیکھا عمران نے اثبات میں سر ہلا دیا فقیر تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا اندر داخل ہو گیا جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا عمران نے اپنے ہیڈ فون کا بٹن پریس کیا اس کے اندر سے آوازیں آنے لگیں دراصل عمران نے فقیر کو بغیر بتاۓ اسکے کالر کے اوپر ایک چھوٹا سا ڈکٹا فون لگا دیا تھا جو کہ آوازیں سسنے کا آلہ تھا چونکہ ڈکٹا عمران کے کانوں پڑ جمے ہوے ہیڈ فون کے ساتھ کنیکٹ تھا اس لیے عمران اب خیمہ میں ہونے والی ساری باتیں سن رہا تھا
پہلی آواز
خیرت ہے ابھی تک باس نہیں آے پچھلی بار تو وہ بلکل وقت پر پہنچے ہوے تھے
عمران چونک پڑا وہ سمجھ رہا تھا باس اندر ہے مگر ابھی تک باس آیا ہی نہیں تھا اچانک عمرام کو محسوس ایسا محسوس ہو جیسے زلزلہ آ رہا ہو دفعتاً زمیں ہلی اور ایک زور دار دھماکہ ہوا جیسے ہی دھماکہ ہوا عمران کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا وہ مکمل طور پر بیہوش ہو چکا تھا
رات کے تین بجے کا وقت تھا وہ بے چینی سے بستر پر کروٹ لے رہی تھی
کیا میں اسکو اپنی حقیقت بتا دوں
اسبے سوچا پھر اسنے سر جھٹکا
نہیں نہیں میں اسکو اپنی اصلیت نہیں بتا سکتی اگر میں نے اسکو اپنی اصلیت بتا دی تو مجھ سے پھر کبھی نہ ملے گا ا
اسکا نام ماریہ تھا وہ مصر سے تعلق رکھتی تھی ١٨ سال کی عمر میں وہاں ایک حادثہ میں اغوا ہو گئ تھی وہ ایک امیر کبیر خاندان سے تعلق رکھتی تھی پھر وہ ان لوگوں کے ہاتھ چڑھ گئ جو کہ لڑکیوں کی خریدوفروخت کرتے تھے پھر ایک دن ایسا آیا کہ کے اسکا بھی ایک آدمی کے ساتھ سودا ہونے لگا پھر اسکو ہاتھ منہ باندہ کر ایک گاڑی میں بیٹھا دیا گیا تھا پھر اسکے بعد اسکو سفر کے بیچ سمندر کا شور بھی سنای دیا تھا جس کا مطلب تھا وہ سمندر میں سفر کر رہیں پھر آخر کار طویل سفر کے بعد اسے گاڑی سے اتارہ گیا تھا اب وہ ایک بڑی سی کوٹھی میں تھی آہستہ آہستہ اس پے سارے راز کھلنے لگے اسکو خریدنے والا عیاش طبعہ آدمی تھا اسکو آدمی کہنا ویسے بھی کسی طرح مناسب نہیں تھی اسکی عمر چھبیس سے زیادہ نہ تھی جو کہ عیاش طبعہ ہونے کے ساتھ ایک سیکڑٹ ایجنٹ بھی تھا جو کہ مختلف ممالک سے معاوضہ لے کر دوسرے ممالک کے خلاف کام کرتا تھا اب ماریہ کو اپنے آپ کی حفاظت کرنی پھر ایک رات اسے قدرت نے موقع فراہم کیا ہوا یوں نوجوان جس کا نام مارکو تھا نشے میں دھت گھر آیا اسکے چہرے سے لگ رہا تھا اس نے کافی پیگ چڑا لیے ہیں پھر وہ بیڈ پر گڑتے مست ہو کر نید کی وادیوں میں کھو گیا ماریہ نے اسکو ساتا دیکھ کر بھاگ جانے کی کوشش کی مگر کوٹھی کے دروزے پر دو مسلح حبشی پیڑھا دے رہے تھے یہاں سے مایوس ہونے کے بعد اسنے مارکو کے کمرے کی برپور تلاشی لی دوران تلاشی اسکو کچھ ایسے کاغذات ملے جس میں مارکو کچھ ایسے راز تھے جو کہ اگر پولیس کے ہاتھ لگ جاتے تو مارکو کو بجلی والی کرسی سے کوی نہیں بچا سکتا تھا ماریہ نے اس کاغذات کو سنبھال کر رکھ لیا ایک دو دنوں بعد مارکو نے اس سے پوچھا کے تم نے میرے کچھ کاغذات دیکھے ہیں تو ماریہ معنی خیز انداز میں مسکرای پھر اس نے مارکو کو دھمکایا کہ وہ کاغذات اس کے پاس ہی ہیں مارکو نے جب یہ بات سنی تو وہ آگ بگھولا ہو گیا مگر وہ اب ماریہ کو کچھ نہیں کہ سکتا تھا پھر اسنے ماریہ کو لالچ دی کہ وہ کاغذات اسکے حوالے کر دے تو وہ ماریہ کو اسکے مل پہنچا دے گا مگر ماریہ جانتی تھی کہ جب تک یہ کاغذات اس کے پاس ہیں تب تک اسکی ذندگی ہے ویسے بھی اب وہ واپس جاتی تو اسکے خاندان کا نام ہی بدنام ہوتا جو کہ ماریہ تصور میں بھی نہیں چاہتی تھی پھر ماریہ نے مارکو کے ساتھ ایک معاہدہ کر لیا کہ ماریہ اور مارکو اکھٹے رہیں گیں جس جس ملک مارکو مشن پے جاے گا تو ماریہ کو بھی اپنے ساتھ لے جاے گا اور رات کو ماریہ الگ اور مارکو الگ سویں گیں مارکو نے یہ معاہدہ قبول کر لیا اب اس بات کو ایک دال ہونے کو تھا وہ اس دوران کئ مشنز میں مارکو کے ہمراہ جا چکی تھی مگر آج کل وہ ایک مشن مکمل کرنے ایک اسلامی ملک آی ہوی تھی مارکو تو پورا دن اپنے مشن کے کاموں میں مصروف رہتا جبکہ اسکے برعکس ماریہ ہوٹل کے کمرے میں بیھٹی بور ہوتی رہتی ایک دو دفعہ مارکو اسکو ایک جزیرے پر بھی لے گیا تھا جو کے مارکو کے بقول اسکا ہیڈ کواٹر تھا ماریہ کو یہاں کا تہزیباور رواج بہت پسند آیا یہاں کی عورتیں مکمل ڈھک شک کے گھروں سے باہر نکلتی تھیں ماریہ یہ بات بہت اچھی لگی تھی کوں کہ اس سے پہلے وہ جس ملک میں بھی گئ وہاں عورتیں ایسے لباس پہنتی کہ المان الحفیظ
دو دن پہلے جب کہ وہ ہوٹل کے حال میں بیٹھی کھانا کھا رہی تھی اسکی ایک نظر ایک نوجوان پر پڑی جوکہ بہت خوبصورت تھا اور عمدہ قسم کے تھری پیس سوٹ نے اسکی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیے کھانا کھا کر وہ اٹھی اور اسکے ٹیبل پر پہنچ گی پہلے تو نوجوان جھجھکایا مگر آہستہ آہستہ وہ ماریہ کے ساتھ فرینک ہوتا چلا گیا ماریہ کے استفسار پر معلوم ہوا کہ اسکا نا ماہل ہے اور اسکے ابو کی کی ایک بہت بڑی کپروں کی مل ہے پھر وہ شام تک بیٹھے باتیں کرتے وہے ماریہ ساری رات اس کے بارے میں سوچتی رہی رات کو مارکو بھی آیا جو کہ بہت غصہ میں تھا ماریہ نے کچھ پوچھنا مناسب نہیں سمجھا پھر اگلے دن بھی وہ ماہل کے ساتھ باتیں کرتی رہی ماہل اصرار کر رہا تھا کہ وہ کچھ اپنے بارے میں بتاے مگر ماریہ ٹال دیتی وہ اسکا کیا بتاتی مگت وہ سوچ رہی تھی کیوں نہ اس نوجون کو ساری بات بتا دی جاے شائد وہ اس کی کچھ مدد کر سکے ویسے بھی ماہل کا لہجہ بھی برا ہمدردرانہ تھا اب بھی وہ یہی سوچ رہی تھی کہ کل ماہل کو اپنے بارے میں کچھ نہ کچھ بتاے گی اور دیکھے گی کہ ماہل کے کیا تاثرات ہوتے ہیں یہ سوچتے ہی اسنیں اطمینان سے آنکھیں بند کیں تھوری دیر بعد وہ گہری نیند سو رہی تھی-

پرکشش نوجوان تھا کردار کے لحاظ سے وہ خاصہ مظبوط تھا حالناکہ وہ تقریباً تین سال تعلیم کے سلسلے میں باہر کے ملک رہا تھا طبیعت میں شوخ پنا کوٹ کوٹ کر بڑھا تھا دوستوں کی محفل میں ایسی باتیں کر جاتا کہ لوگ کئ دنوں تک اس بات کو یاد کر ہنستے رہتے ابھی اسکو واپس آے ایک مہینہ ہی ہوا تھا والد صاحب کی ایک کپروں کی مل تھی وہ سارہ دن ادھر حساب کتاب میں مصروف رہتے تھے ماہل کی شامیں اکثر ہوٹلوں میں ہی گزرتی تھیں ایسی ہی ایک شام کو وہ ماریہ سے متعارف ہوا تھا ماہل کے دل میں اس کے لیے بس اتنا تھا کہ چلو ٹائم پاس ہو جایا کرے گا اس سے آگے اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کیوں کے اسکی تربیت ہی ایسی کی گئ تھی مگر اسکو ایک بات ماریہ کی بہت کھٹکھتی تھی کہ وہ اپبے بارے میں کبھ کچھ کھل کر نہیں بتاتی تھی جب بھی وہ اس سے اسکے ماضی کے بارے میں پوچھتا تو وہ ٹال دیتی ماہل کے اندر جاسوسی کے جراثیم بھی بدرجہ اتم موجود تھے وہ بھی اسکے ایک دوست کے مرہون منت تھے جو کہ باہر ملک کرمنالوجی کی تعلیم لے رہا تھا چونکہ ماہل اور اسکے اس دوست کے ہوٹل میں کمرے ایک ساتھ تھے اس لیے کبھی کبھی وہ ایک دوسرے کے کمرے میں چلے آتے اور گھینٹوں باتیں کرتے وہ اس سے زیادہ تر اسی طرح کی باتیں کرتا ماریہ کو دیکھ کر ماہل کو ہلکہ شبہ سا ہوا تھا مگت بھر اسپر ایک دن خبط سوار ہوا اسنے کمرے تک ماریہ کا تعاقب کیا پھر اسنے کان لگا کر اندر کی آوازیں سننیں شروع کیں اندر سے ایک نوجوان کے بولنے کی آوزیں آ رہی تھیں وہ بہت غصہ میں کہ رہا تھا اج مجھے اپنے مشن کے اہم ساتھی اپنے ہاتھوں مارنے پڑے مایل کے کان کھڑے ہو گۓ تھے اسکے ذہن میں حیال آیا کیا پتا یہ کیی سیکڑت ایجنٹ ہو پھر ماہل نے بہت کوشش کی کے وہ کچھ اپنے بارے میں اگل دے مگر بے سود مگر آج ماریہ نے خود کہا تھا کہ کہ وہ کل خود اپنے بارے میں سچ سچ بتاے گی جبکہ ماہل کے ذہن میں تھا کہ اگر اسنے کل بھی نہ بتایا تو وہ اسکو تین چار اکھٹے پیگ پلا دے گا جس سے اس کا ذہن آوٹ ہو جاے گا اور وہ اس سے سب کچھ اگلوا لے گا ماہل جیسا بھی تھا مگر یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کوی اسکے ملک میں غلیظ ارادوں سے داخل ہو اس کا خیال تھا کہ اگر کوی اہم بات معلوم ہو گئ تو وہ پولیس کے بجاے سر رحمان کے بیٹے عمران کو بتا دے گا کیوں کے اسکے خیال میں عمران ہی وہ بندہ تھا جو کچھ کر سکے گا پولیس تو الٹا اس کے سر ہو جاے گی ماہل کو کل کے دن کا بیچینی سے انتظار تھا
عمران آج ہی ہسپتال سے ڈسچارج ہوا تھا دھماکے میں اسے کافی زخم آے تھے دھماکے کی ذد میں تنویر جولیا اور عمران ہی آے تھے خاور نعمانی بچ گۓ تھے جب انہوں نے یہ صوتحال دیکھی تو عمران اور دونوں کو گاڑیوں میں ڈال کر فوراً ہسپتال پہنچ گۓ بعد میں اس جگ سے پولیس کو بہت سے انسانی اعضا ملے ظاہر ہے یہ انہی کے تھے جو کہ میٹنگ میں شرکت کے لیے آے تھے تنویر اور جولیا کی حالت بھی کافی سنمبھل چکی تھی ان دونوں کو عمران سے زیادہ چوٹیں آیں تھیں عمران اپنے فلیٹ میں بیٹھا سلیمان سے خدمت گاری کروا رہا تھا اب اس کے پاس کوی کلیو نہیں تھا جس کی بنا پر وہ اس گروہ کے سرغنا کو پکڑ سکتا
او سلیمان او سلیمان زرا ایک چاۓ تو لے آ
عمران نے ہانک لگای
او ہاں سلیمان چاے میں تھوری سے زہر بھی ملا دینا تاکہ دوبارہ چاے پینے کی نوبت نہ آے
سلیمان کی جھجھلای ہوی آواز کچن میں سے سنای دی
اوے سلیمان کے بچے میں نے تیرا کیا بگاڑ لیا جو تو میری موت کا خواہاں ہے
عمران کے لہجے میں غصہ تھا
بس آپ نے میرا کیا بگاڑنا وہ تو میری ہی قسمت پھوٹی تھی جو آپ کے ساتھ اس فلیٹ میں آگیا آخاہ کیا موجیں تھیں کوٹھی کی ہر روز اماں بھی کا شفقت بھرا ہاتھ پھرواتا تھا سر پر
سلیمان غمذدہ سا منہ بناے کمرے میں داخل ہوا اسکے ہاتھ میں چاۓ کی پیالی تھی
اچھا تو ایسا کیا کر جب بھی تیرا دل کرے اپنے سر پر ہاتھ پھیروانے کو تو میرے پاس آجایا کر ایسا شفقت بھرا ہاتھ پھیروں گا نا کہ تو ساری ذندگی بس سر پر ہاتھ پھیرتا رہ جاے گا اور ساری ذندگی یہی سوچتے گزر جاے گی کہ مالک نے یہ میرے ساتھ کیسا ہاتھ کر دیا
عمران نے چاے کی پیالی پکڑتے ک
ہوے کہا
اس سے پہلے کی سلیمان کچھ کہتا باہر ڈور بیل بجی
او سلیمان دیکھنا زرا کس کے ہاتھ میں خارش ہو رہی ہے
سلیمان پاوں پٹختا ہوا دروازے کی طرف بڑھا تھوری دیر بعد وہ ایک دس یارہ سالہ لڑکے کا ہاتھ پکڑے عمران کے سامنے کھڑا تھا
جی جناب میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں عمران نے بچے کو اوپر سے نیچے تک بغور دیکھتے ہوے بولا کپروں سے بچہ کسی متوسطہ گھرانے کا لگ رہا
انکل وہ نہ
ارے ارے خدا کا کچھ خوف کرو میں تمہیں کہاں سے انکل لگتا ہوں ابھی تو میں معصوم سا کنوارہ ہوں
عمران نے ایسی مسمی صورت بنای کہ سلیمان کو بے ساختہ ہمسی آگئ عمران نے اسکو گھور کر دیکھا
بھای جان ! وہ میں نہ گھر کا سودا لینے جا رہا تھا کہ مجھے ایک آدمی نے کہا کہ یہ سامنے والے فلیٹ میں جاو اور یہ خط انکے اندر والے کو دے دو اسنے مجھے اتنے سے کام کے پانچ سر روپے دیے
بچہ نے ایک الفافہ جیب سے نکال کر عمران کی طرف بڑھا دیا عمران نے الفافہ پکڑ لیا اور الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا
اچھا ٹھیک ہے پیارے بچے یہ لو میری طرف سے بھی تھورے پیسے رکھ لو
عمران نے جیب میں سے پیسے نکالتے ہوے کہا
پہلے تو بچہ جھجھکایا پھر اسنے پیسے لے لیے بچہ کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آ گئ پھر وہ بڑبڑایا
آج تو بہت پیسے ہوں گۓ ہیں میں منی کے لیے آج ایک اچھی سی گڑیا بھی لے جاوں گا اور کچھ دودھ بھی لے جاوں
عمران نے اسکی بڑبڑاہٹ آسانی سے سن لی وہ جھٹ سے اٹھا اور بچہ کو گلے لگا لیا جبکہ سلیمان کی آنکھیں بھی نم ہو گیں پھر بچے کو رخصت کرنے کے بعد عمران الفافی کھولنے لگا
دھیان سے کہیں اس کے اندر بم ہی نہ ہو
سلیمان چلایا
ارے پگلے دشمنوں کو مجھ جیسے نکارہ پر بم ضائع کرنی کی کیا ضرورت بس وہ میرے ہاتھ میں کسی دوشیزہ کا ہاتھ دیں اسکے بعد واقعی تیرے مالک کی روح آسمان کی طرف پرواز کر جانی ہے
الفافہ کے اندر دے ایک ٹایپ شدہ کاغذ نکلا جس پر ایک تحریر درج تھی
تمہارہ بہت چرچا سنا تھا عمران اس لیے سوچا کہ تم سے دودو ہاتھ کر ہی لیے جایں اس بار مجھے ایک مشن پر تمہارے ملک آنا پڑا جو کہ مجھے تمہارے دشمن ملک نے سونپا تھا اب تم خوب جانتے ہو کے تمہارہ سب سے بڑا دشمن ملک کون ہے پر مجھے اس سے کیا سروکار مجھے تو بس پیسے سے سروکار ہے اور ہاں مجھے امید ہے کہ تمہیں اس ناکامی سے کافی سبق مل چکا ہوگا مجھے پکڑنا اتنا آسان نہیں ہے ویسے بھی میں تھورے دنوں میں اور کارکن اکھٹے کر لوں گا ان بیس کی میری نظروں میں کوی وقعت نہیں جو کہ دھماکے میں خلاک ہوے کیوں کے وہ تمہارے ہی ملک کے نوجوان تھے اور ہاں تم سوچ رہے ہو گے کہ مجھے اس کا کیسے پتا چل گیا کہ میں اس جگہ پر چھاپا مارنے والا ہوں تو سنو پیارے اگر تم اس نوجوان کے کالر پر آوازیں سسنے اولا آلا لگا سکتے ہو تو میں کیوں نہیں لگا سکتا پیارے میں تمہیں اور تمہاری نام نہاد سیکڑت سروس کو چیلنج کرتا ہوں مجھے پکڑ کے دکھاو اور ہاں کل کے اخبار میں بھی میرا چیلنج آے گا اور جب تم مجھے نہیں پکڑ سکو گے تو دنیا میں تمہاری اور تمہاری سیکڑٹ سروس کا خوب مذاق اڑے گا ٹا ٹا ٹا ٹا
مارکو
عمران نے خط پڑھ کے جیب میں رکھ لیا بات واقعی پریشانی کی تھی کیوں کہ ابھی اسکے پاس مارکو کے خلاف کوی کلیو نہیں تھا
مارکو جو کہتا تھا وہ کر دیکھاتا تھا مارکو جس ملک میں پایا جاتا اس ملک میں خوف کی لہر دور جاتی عمران نے اور کوٹ پہنا اور فلیٹ سے باہر نکل گیا وہ سوچ رہا تھا کسی ہوٹل میں کھانا کھانے کے بعد چاے کی چسکیاں لیتے ہوے اس معاملے کے بارے سوچے گاماہل کے چہرے سے پریشانی ٹپک رہی تھی وہ ہوٹل مانٹو میں بیٹھا ماریہ کا انتظار کر رہا تھا مگر ماریہ کا دور دور تک پتا نہیں تھا اچانک اسکے چہرے پر اطمینان کی لہر دور گئ اسے ماری سیڑیوں سے نیچی اترتی دکھای دی تھوری دیر بعد وہ ماہل کے سمنے بیٹھی اس سے گپ شپ لگا رہی تھی مگرماہل کو ان باتوں سے بلکل دلچسپی نہ تھی اسے تو بس یہ معلوم کرنا تھا کہ یہ لڑکی اسکے ملک میں کس لیے آی ہے اسکا مقصد سیروتفریح کے علاوہ کچھ اور تو نہیں
کیا بات ہے آج تم کچھ بیچین بیچین سے لگ رہے
ماریہ مسکرا کر بولی
کچھ نہیں بس ویسے ہی ماہل نے زبردستی مسکراتے ہوے کہا پھر اسنے ویٹر کو اشارہ کیا ویٹر تیر کی طرح سیدھا انکی طرف آیا
یس سر
وہ مودبانہ لہجے میں بولا
ایک وہسکی کی بوتل اور دو گلاس لے آو
یس سر
پیارے تم تو کہتے تھے تم پیتے نہیں اب یہ سب !کیا مقصد ہے اسکا
پر ماہل نے اسکا کوی جواب نہیں دیا اسکے چہرے پر ایک پراسرار مسکڑاہٹ رینگ رہی تھی تھوری دیر بعد ماہل وہسکی گلاس میں انڈیل رہا تھا اسنے دونوں گلاس بھر لیے ایک گلاس اسنے ماریہ کی طرف سرکایا ماریہ نے گلاس ہونٹوں سے لگایا اور کسی پیاسے کی طرح ایک سانس میں پورا گلاس خالی کر دیا ماہل نے دوسرا گلاس بھی اس کی طرف بڑھا دیا ماریہ نے اسے گھورا پھر بغیر کچھ کہے گلاس اٹھایا اور منہ سے لگا آدھا گلاس پی کر اسنے باقی آدھا میز پر رکھ دیا اب وہ نشے میں آوٹ ہو چکی تھی ماہل کو اسی وقت کا انتظار تھا وہ بولا
وہ تم مجھے کل کہ رہی تھی کہ تم مجھے اپنے بارے میں بتاو گی
ہاں ہاں کیوں نہیں میں نے تہیہ کر لیا ہے تمہیں سب کچھ بتادوں گی پھر اسکے بعد ماریہ بولتی چلی گی ماہل ساری کہانی بغور سن رہا تھا ماریہ کو کوی ہوش نہیں تھی بس وہ وہ جھوم جھوم کر ساری تفصیل بتا ترہی تھی دفعتاً ماہل بولا
مجھے یہ بتاو کہ مارکو نے کبھی تمہیں یہ نہیں بتایا کہ وہ کس مشن پر یہاں آیا ہے
نہیں اسنے مجھ سے اس بارے میں کوی بات نہیں کہ ہاں البتہ وہ مجھے ایک دفعہ ایک بوٹ میں بیٹھا کر ایک جزیرے پر لے گیا تھا میری آنکھوں پر پٹی باندھی گئ تھی اسنے مجھے وہاں لے جاکر پورا جزیرہ دکھایا تھا اور کہا تھا کہ یہ ہمارہ ہیڈ کواٹر ہے
آہم
ماہل سوچ رہا تھا یہ کوی بہت بڑا معاملہ لگتا ہے اب اسکو عمران کو انفارم کرنا ہی پڑے گا
چلو ٹھیک آو میں تمہیں تمہارے کمرے تک چھور آتا ہوں تمہاری حالت بہت خراب ہو رہی ہے
پھر ماہل اسکو اسکے کمرے تک چھوڑ آیا تھا کمرے تک چھور کے آنے کا مقصد صرف اتنا تھا کہ کمرے کا نمبر معلوم ہو جاے پھر وہ نیچے اتر کر ہال میں آگیا ابھی وہ اپنی میز پر بیٹھا ہی تھا کہ نوجوان اسکے ٹیبل کے پاس آکر کھڑا ہوگیا ماہل نے منہ اٹھا کر اسکی طرف دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا اسکو ایسے دیکھنے لگا جیسے اسکو نوجوان کی یہاں آنے کی ایک فیصد امیف نہ ہو وہ نوجوان کے استقبال کے لے کھڑا ہوگیا
عمران کی گاڑی ہوٹل مانٹو کی طرف رواں دواں تھی اسنے سوچا کہ پہلے ہوٹل مانٹو میں جاکر کھنا کھایا جاے پھر کوی لائحہ عمل تیار کیا جاے گاڑی پارکنگ کر کے وہ ہوٹل کے ہال میں داخل ہوا ہال میں اتنا رش نہیں تھا عمران ایک ٹیبل پر جا کہ بیٹھ گیا ایک ویٹر کو اشارہ کیا وہ تیر کی طرح میز کی طرف آیا یس سر مگر عمران کچھ نی بولا اسکا چہرہ یکدم غمگین ہو گیا یس سر اس بار ویٹر کی آواز کافی اونچی تھی عمران ایسے اوچھلا جیسے اسکو کسی بچھو نے کاٹ لیا ہو ویٹر بھی بوکھلا گیا ہال میں بیٹھے ہوے کئ لوگوں کے چہروں پو مسکراہٹ دوڑ گئ ارے اتنا اونچا بولنے کی کیا ضرورت ہے خدا کا خوف کرو تمہارے پاس ہی تو بیٹھا تم نے تو مجھے ایسے مخاطب کیا جیسے میں کوہ قاف کی کسی اونچی چوٹی پر براجمان ہوں اور میرے کانوں میں تمہاری آواز نہ پہنچ رہی ہو عمران کی زبان چل پڑی سر آپ آرڈر دیں ویٹر جھنجھلایا اچانک عمران کی نظریں ہوٹل کے دروازے کے طرف اٹھ گیں دروازے سے ماہل اندر داخل ہو رہا تھا ماہل عمران کا بہت اچھا دوست تھا
کسی تقریب میں وہ عمران کی مزاخیہ باتیں سن کر اس سے بہے متاثر ہوا تھا ماہل تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا اسکے ساتھ والی میز پر بیٹھ گیا اسنے عمران کو نہیں دیکھا تھا عمران نے جلدی سے ویٹر کو آرڈر دیا اور دوبارہ ماہل کی طرف متوجہ ہو گیا عمران نے سوچا ماہل سے گپ شپ کرنی چاہے ابھی وہ اٹھنے ہی لگا تھا کہ اچانک ماہل کی میز پر ایک لڑکی آکر بیٹھ گی چہرے کے خدوخال اور نقوش مصری لڑکیوں سے ملتے تھے ماہل نے بھی اسے دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا جس سے معلوم ہوتا تھا کہ ماہل اس لڑکی کو اچھی طرح جانتا ہے پھر وہ باتیں کرنے لگے ان کی آوازیں عمران تک باسانی پہنچ رہیں تھیں ویسے عمران کو حیرت ہو رہی تھی کہ ماہل کو تو لڑکیوں سے بلکل بھی دلچسپی نہ تھی مگت یہاں تو معاملہ ہی الٹ تھا عمران نے ایسے سر ہلایا جیسے کچھ سمجھ نہ پارہا ہو عمران ماہل کو ایسے آنکھیں پھار پھار کر دیکھنے لگا جب ماہل نے ویٹر سے ایک بوتل وہسکی کی منگوای عمران نے حیرت سے سر پر ہاتھ پھیرا کیوں کہ ماہل کو تو وہسکی اور شراب جیسی چیزوں سے بیحد نفرت تھی اتنی دیر میں ویٹر عمران کی میز پر کھانا سرو کر چکا تھا اب عمران آپستہ آہستہ کھانا کھا رہا تھا مگر عمران کے کان بدستور انکی طرف لگے ہوے تھے لڑکی وہسکی پی کر آوٹ ہو چکی تھں دفعتاً ماہل نے لڑکی سے کچھ پوچھا پھڑ لڑکی بولتی چلی گئ جیسے جیاے عمران ساری باتیں سنتا رہا اسکی مسرت میں اضافہ ہوتا رہا قدرت نے اتفاقاً اسکو اس معاملے ایک کلیو مہیا کیا تھا ماہل اسکو کمرے تک چھورنے گیا عمران کو ماہل کی ذہانت پر رشک آرہا تھا کہ کیسے اسنے لڑکی کو وہسکی پلا کر اس سے ساری معلومات حاصل کر لیں تھیں عمران نے کھانا ختم کر کے ویٹر سے بل منگوایا اور ماہل کے نیچے آنے کا انتظار کرنے لگا تھوری دیر بعد ماہل نیچے آتا دکھای دیا عمران نے بل کی پے کی اور ماہل کی میز کی طرف لپکا ماہل بھی اسے دیکھ کر حیران رہ گیا اسنے اٹھ کر معانقہ کیا پھر دونوں میز پر بیٹھ گۓ اچھا ہوا عمران صاحب آپ مجھے یہیں مل گۓ کچھ ضروری باتیں آپ کو بتانی تھی ماہل کے چہرے پر جوش کے آثار تھے مجھے سب کچھ پتا چلا گیا ہے میں نے تمہاری ساری باتی، سن لیں ہیں مجھے تم پر فخر ہے کہ کیسے تم نے اسکو وہسکی پلا کر اس سے معلومات اگلوا لیں عمران کے منہ سے اپنی تعرید سن کر ماہل کے چہرہ خوشی لال ہو گیا ارے تم اتنے لال پیلے کیوں ہو رہے ہو وہ کوی اور تھا جو تمہاری ممبسوسا لے بھاگا تھا میں تو انتہای شریف سا نوجوان ہوں عمران نے بوکھلانے کی ایکٹنگ کی ماہل کی بے ساختہ ہنسی چھوٹ گی ارے عمران صاحب کیسی باتیں کرتیں ہیں اگر آپ میری ممبسوسا بھی لے بھاگیں تو میں آپ کو کچھ نہیں کہوں گا ارے آرام سے بولا جولیا یہیں کہیں کان لگاے ہماری باتیں سن رہی ہو گی اسنے سن لیا نا کہ میں کسی کی ممبسوسا لے بھاگنے کے چکر میں ہوں تو اسنے میرا حشر نشر کر دینا عمران نے خوفزدہ ہو کر ادھر ادھر دیکھا اچھا ٹھیک ہے تمہارہ بہت شکریہ کہ تم نے مجھے ایک قیمتی کلیو فراہم کیا باقی باتیں بعد میں ہو گیں اچانک عمران سنجیدہ لہجے میں بولا ماہل نے اثبات میں سر ہلا یا اور عمران سے ہاتھ ملا کر ہوٹل کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیآ عمران بھی ہوٹل سے باہر نکلا اور گاڑی میں بیٹھ کر واچ ٹرانسمیٹر پر فریکونسی سیٹ کرنے لگا تھوری دیر بعد وہ بیلک زیرو کا حکم دے رہا تھا صفدر کو کہو کہ مانٹو ہوٹل کے کمرہ نمبر 86 کی نگرانی کرے اور مسلسل رپورٹ دیتا رہے یس سر اور اینڈ آل عمران نے گاڑی سٹارٹ کی اور پارکنگ سے باہر نکالنے لگا اسکا چلتا منہ اسکے منیہ میں چیونگم ہونے کا اعلان کر رہا تھا-


اخبار لے لو
اخبار لے لو
آج کی تازہ خبر اور انوکھی خبر
اخبار بیچنے والا آواز لگا رہا تھا سب اخبار میں مارکو کا چیلنج ابتدای صفحات پر نمایاں نظر آ رہا تھا دھرا دھر کاپیاں فروخت ہو رہیں تھیں اور ٹی وی چیلنز پر صحافی تبصرے کر رہے تھے کچھ کا خیال تھا کی یہ مجرم جلد ہی اپنے انجام کو پہنچے گا اور کچھ کا خیال تھا مجرم کوی انتہای چالاک اور عیار ہے اور کسی بل بوتے پر ہی اسنے سیکڑٹ سروس کو چیلنج کیا ہے جو بھی ہو عمران اپنے فلیٹ میں ناشتہ کر رہا تھا اور اخبار ٹیبل پڑا تھا جس کو عمران وقتاً فوقتاً اٹھا کر دیکھ رہا تھا ابھی وہ ناشتہ کر کے فارغ ہوا ہی تھا کہ واچ ٹرانسمیٹر پر بلیک زیرو کی کال آگئ
ہاں کالے صفر کیا بات ہے کہیں میرے لیے کوی لڑکی وڑکی پسند تو نہیں کر لی
سر مجھے لگتا آپ کے نصیب میں جو لڑکی ہے نہ اس وقت دوسروں کو چکر دے رہی ہو گی چھوڑیں آج کا اخبار دیکھا آپ نے؟؟؟
ہاں دیکھ لیا مارکو نے سیکڑٹ سروس کو چیلنج کیا ہے
تو آپ نے کوی ایکشن نہیں لینا میرے خیال سے مانٹو ہوٹل کے کمرہ نمبر 86 میں رات کو شاید مارکو ماریہ سے ملنے آے اگر کہیں تو اسکو وہیں دھر لیں گیں
نہیں مارکو تو اب سمجھو ہماری مٹھی میں ہی ہے بس مجھے اس جزیرے کا پتا چلانا ہے جس کو مارکو اپنا ہیڈ کواٹر کہتا ہے میرے خیال سے سفید زہر کی ایک بڑی تعداد وہں سے برآمد ہوگی اور دوسری بات یہ کی میں یہ بھی معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ کس ملک نے مارکو یہ مشن سونپا تھا
عمران کا لہجہ سنجیدہ تھا
آپ مارکو کو قابو کر کے اس سے اگلوا لیں
بلیک زیرو نے کہا
ہر پہلو ہر نظر رکھنی پڑتی کالے صفر مارکو ان لوگوں میں سے نہیں ہے جن پر تشدد کارگر ہو وہ مر تو جاے گا مگر اپنی زبان نہیں کھولے گا میں بس اس انتظار میں ہوں کہ کب وہ ماریہ کو لے کر اس جزیرے پر جاے تاکہ ہم بھی اسکا تعاقب کرتے ہوے اس جزیرہ تک ہہنچ سکیں رہی بات چیلنج کی تو اس کو بھول جاو وقت آنے پر اس چیلنج کا ایسا جواب دیا جاے گا کہ جس کہ کہنے پر یہ چیلنج شائع کروایا گیا ہے شرمندہ اور رسوا ہو کر رہ جاے گا
عمران کا لیجہ سرد تھا
کیا مطلب کیا مارکو نے خود یہ چیلنج نہیں دیا
بلیک زیرو کے لہجے میں حیرت تھی
ہاں پیارے یہ جو چیلنج ہے نہ یہ بھی مارکو اس ملک کے کہنے پر دیا ہے جس نے اسکو یہ مشن سونپا تھا وہ ملک چاہتا ہے کہ سیکڑٹ سروس کی خوب بدنامی ہو مگر جب تک اللہ نے چاہا یہ ہاکسار ان جیسے مجرموں منہ توڑ جواب دیتا رہے گا
عمران کے لہجی درشتگی تھی
اوہ مطلب ایک تیر سے دو شکار کرنے کا سوچ رہا ہے یہ ملک
ہاں پیارے اب بس صفدر کی رپورٹ کا انتظار ہے کہ مارکو آیا کہ نہیں ہوٹل مانٹو میں چلو گڈ باے
اور اینڈ آل
عمران نے نےایک طویل سانس لیا پھر پاس پڑے اخبار کو اٹھا کر پڑھنے لگا
رات کے تقریباً ٣ بجے کا وقت تھا ہر طرف سناٹا ہی سناٹا تھا سمند میں لہروں کا شور گھونج رہا تھا سمند میں ایک لانچ انتہای تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوے سمندر کا سینہ چیڑتی ہوی آگے بڑھ رہی تھی اسکے کچھ فاصلے پر ایک لانچ اسکا تعاقب کر رہی تھی اس لانچ پر عمران صفدر اور تنویر تھے اب اسے تقریباً ایک گھینٹہ پہلے صفدر نے رپورٹ دی تھی کہ مارکو مانٹو ہوٹل میں آچکا ہے اور وہ اس کمرہ میں ہے جس میں ماریہ موجود ہے عمران نے اسکو کہاتھا کہ وہ مسلسل ان پرنظر رکھے وہ بھی آرہا ہے مگر ابھی عمران آدھے راستے میں ہی تھا کہ اسے عمران کی طرف سے اطلاع موصول ہوی کہ مارکو اور ماریہ گاڑی میں بیٹھ کر کہیں جا رہیں ہیں ویسے انکا رخ ساحل کی طرف ہے عمران بھی اسی روڈ پو روانہ ہوگیا جس روڈ سے ساحل جانے کا رستہ تھا تھوری ہی دیر بعد وہ اور صفدر دونوں انکا تعاقب کر رہے تھے ساحل کے پاس پہنچے تو وہ وہاں ایک لانچ تیار کھری تھی مارکو اور ماریہ اس میں بیٹھ کر سمندر میں گم ہوگۓ عمران اسی خطرے کے پیش خطر ایک لانچ کا پہلے سے وہاں انتظام کر رکھا تھا تنویر عمران کے ساتھ ہی آیا تھا اب وہ تینوں بھی بھی اپنی لانچ میں بیٹھ کر اس لانچ کے تعاقب میں روانہ ہو گۓ تھے سمندر میں دونوں لانچز ورواں دواں تھیں دفعتاً تنویر بولا
اتنا گھڑاگ پھیلانے کی کیا ضرورت تھی ہم مارکو کو منٹو ہوٹل کے کمرے میں ہی پکڑ لینا چاہیے تھا
انداز جھلایا ہوا تھا
واہ تم تو بہت ذہین ہو گۓ ہو مجھے تو یہ خیال ہی نہ رہا
عمران تھورا سا شرمندہ کو بولا
تنویر کا سینہ پھول گیا
اچھا ویسے ایک بتانا میں تو رہا نرا کم عقل کا کم عقل مجھے ایک بات سمجھ نہیں آ رہی اگر میں مارکو کو ادھر کمرے میں ہی قابو کر لیتا اور اس سے اگلوابے کی کوشش کرتا کے وہ جزیرہ کہاں ہے جس پر اسنے سفید زہر کا زخیرہ اسٹاک کر رکھا ہے تو اگر وہ جزیرہ کا پتا بتانے کے بجاے موت کو ترجیح دیتا تو جزیرہ کا پتہ شہنشاہ افراسیاب یا برق رفتار نے آکر بتانا تھا
عمران کے لہجے میں گہرا طنز تھا تنویر کھوکھلی سی ہنسی ہنسا پھر چپ ہوگیا چہرہ پر خجالت کے آثار تھے صفدر اس کیفیت سے لطف اندوز ہو رہا تھا اچانک عمران بولا
مجھے دور ایک سیاہ سی لکیر نظر آرہی ہے جو کہ یقیناً جزیرہ ہے
تنویر اورصفدر نے جلدی سے آنکھوں سے دوربین لگای واقعی وہ کوی جزیرہ ہی تھا مارکو کی لانچ بھی اسی طرف بڑھ رہی تھی پھر اچانک مارکو کی لانچ اس جزیرے کے پاس جا کی رک گئ
پھر مارکو اور ماریہ لانچ سے اترے اور جزیرے پر پہنچ گۓ جزیرے کے کنارے پر کوی آٹھ دس آدمی کلاشنکوف اور مشین گنز لیے مارکو اور ماریہ لے استقبال کے لیے کھڑے تھے شاید مارکو نے انکو اپنے آنے کی اطلاع پہلے ہی بھجوا دی تھی پھر ماریہ اور مارکواپنے ساتھیوں کے ساتھ چلتے چلتے جزیرے میں گم ہو گۓ
ہو نہ ہو یہ وہی جزیرہ ہے جس کو مارکو نے ہیڈ کواٹر بنا رکھا ہے اور اس جزیرے پر ہی مارکو نے وائٹ ویژن کا اسٹاک کر رکھا ہےتنویر بولا
ہری اپ
عمران نے کہا انکی لانچ بھی جزیرے کے پاس پہنچ گئ تھی پھر تھوری دیر بعد وہ تینوں جزیرے پر موجود درختوں کی اوٹ میں تھے پورے جزیرے پر صرف ایک عمارت تھی جو کہ کہ کافی بڑی تھی وہ تینوں اسکی طرف بڑھنے لگے اچانک مارکو اور اسکے ساتھی اس عمارت سے نکلے ان سب کے ہاتھ میں ایک ایک بریف کیس تھا یہاں تک کہ ماریہ کا ہاتھ بھی خالی نہ تھا
جیسے ہی یہ ہمارے پاس سے گزریں گیں ہم نے انکو قابو میں کرنا ہے میں مارکو کو سنبھالوں گا صفدر تم ماریہ کو اور تنویر تم ہم دونوں کو کور کرنا
عمران نے سرگوشی کی
پھر جیسے ہی مارکو عمران کے پاس سے گزرا عمران نے یک بیک چھلانگ لگای اور اڑتا ہوا مارکو پر جا پڑا مارکو اس آفت نگہانی سے گبھرا گیا اسکے ہاتھ سے بریف کیس چھوٹ گیا ادھر صفدر نے ماریہ کو پکڑ لیا اسنے مزاحمت کی مگر صفدر کے سامبے اسکی ایک نہ چلی اچانک مارکو کے ستھیوں میں سے ایک نے مشین گن کا رخ عمران کی طرف کیا اس سے پہلے کی وہ گولی چلاتا ایک سنسناتی گولی اسکے سر پر ٹھک سے آکے لگی وہ ادھر ڈھیر ہوگیا یہ تنویر تھا جو کہ مارکو کے ساتھیوں کو ٹھکانے لگا رہا تھا ادھر مارکو نے سنبھلتےہی اپنی کہنی عمران کے ناک پر دے ماری عمران بلبلا ٹھا گرفت کمزور ہوت ہی مارکو کسی مچھلی کی طرح تڑپا اور عمران کی گرفت سے نکل گیا عمران نے اسکی ٹانگ میں اپنی ٹنگ اڑا دی وی دھڑم سے گڑا اگر اسنے اپنے ہاتھ زمین پر نہ رکھ لیے ہوتے تو اسکے چہرے کا بھرتا بن جانا تھا
بڑا ناز ہے تمہیں اپنے پر مارکو یہی غرور تمہیں لے بیٹھے گا
عمران بولا اسکے چہرے پر غصہ کے آثار تک نہ تھے جبکہ مارکو کا چہرہ لال بھبھوکا ہورہا تھا
عمران ابھی تمہیں نہیں پتا کہ مارکو کس طوفان کا نام ہے جب یہ طوفان آتا ہے تم جیسے خقیر تنکوں کو اپنے ساتھ لے آڑتا ہے
پھر اچانک مارکو نے اپنی جیب میں ریلور نکالا اور عمران پر تان لیا اس سے پہلے تنویر کچھ کرتا مارکو نے گولی چلا دی عمران سنگ آرٹ کا مظاہرہ کرتے ہوے گولی سے صاف بچ گیا اب مارکو متواتر گولیںاں چلا رہا تھا اور عمران بندر کی چرح اچھل کود کر سنگ آرٹ سے گولیوں سے بچ رہا تھا اچانک مارکو کے ریلور سے ٹرچ ٹرچ کی آواز آی گولیاں ختم ہوچکین تھیں مگر عمران کا بال بھی بیگا نہیں ہوا تھا مارکو نے جھلا کر ریلوار عمران پر دے مارہ مگر عمران جھکای سے کر صاف بچ گیا اچانک عمران تیزی سے دوڑا ارو پستول سے نکلی ہوی گولی کی طرح مارکو سے جا ٹکرایا مارکو نیچے گڑ گیا عمران عمران نے اسکی ٹانگوں میں ٹنگیں پھسا کر مخصوص انداز سے جھٹکا دیا اچانک کڑک کی آواز آی جیسے کوی ہڈی ٹوٹی ہو عمران اور مارکو دونوں درد کے مارے چلا اٹھے
مارکو کے گھٹنے کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی عمران اس لیے چیخا تھا کہ مارکو نے اپنا ایک زوردار ہاتھ عمران کے ناک پر رسیدکیاتھا مارکو پڑا کراو رہا تھا اسکے سارے ساتھی بھی زخمی حالت میں پڑے کراہ رہے ان میں سے کچھ ملک عدم کی طرف راہی ہو چکے تھے تھوری دیر بعد عمران اس عمارت کی تلاشی لے رہا تھا عمارت کے ایک کمرے آلات کا جال بچھا ہوا تھا ان آلات سے مدد لے کر مارکو اپنے سارے ایجنٹوں کو یہیں سے ہدایات دیتا تھا عمران کو جس چیز کی تلاش تھی اس کا نام ونشان تک بھی نہ تھا اب عمران چیونگم کچلتے ہوے سوچ رہا تھا کہ ہو نہ ہو اس عمارت میں کوی خفیہ تہ خانہ ہے اتنے میں تنویر کمرے میں داخل ہو
اب کب تک یہاں محو استراحت فرمانی ہے جناب نے اور کس چیز کی تلاش ہے افلاطون کو
تنویر کہ لہجے میں طنز تھا
بس کیا کروں اپنے لیے کوی رفیقہ حیات تلاش کر رہا ہوں
عمران نے سرد آہ بھری
یہ منہ اور مسور کی دال ہنہ
تنویر نے بڑا سا منہ بنایا عمران نے اسکی بات کوی جواب نہ دیا دفعتاً اسنے دیوار کی جڑ میں پاوں مارا اور کسی دروازہ کے کھلنے کا انتظار کرنے لگا مگر بے سود
تنویر نے ایک طنزیہ نگاہ عمران پر ڈالی اور باہر کی طرف چل دیا عمران نے دوبارہ اسی دیوار کی جڑ میں پاوں مارا اچانک اسی دیوار میں ایک خلا سا نمودار ہوا جس میں سے سیڑہیاں نیچے جا رہیں تھیں
ہنہ اب تو دءواریں بھی میری دشمن ہونے لگیں اگر یہ پہلی ہی ٹھوکر میں کھل جاتی تو تنویر میرا کچھ رعب ہی پڑجاتا مگر مجال ہے جو اس دیوار سے ارے ارے
یعنی لاحولا ولا قوہ
پھر وہ سیڑھیاں نیچے اترتا چلا گیا تہ خانے کا منظر دیکھ عمران نے زور سے سیٹی بجھای ڈ
آدھے سے زیادی س
بڑے بڑے سفید پیکٹوں سے بھرا پڑا تھا جن میں سفید زہر کے سوا کچھ نہ تھا اسی تہ خانے کی ایک الماری میں سے اسے مارکو کے متعلق کچج دستاویزات بھی مل گیں جن کی رو سے عمران یہ پہچان چکا تھا کہ وہ کون سا ملک ہے جس نے اسکے ملک کے خلاف ایسی سازش کی تھی عمرانے نے وہ داستاویزات جیب میں ٹھونسی اور منہ چلاتا ہوا تہ خانے سے باہر نکل گیا پھر دو گھینٹو بعد بہت سے آدمی سفید زہر کے زخیرے کو سمند کے نذر کر رہے تھے ایک ایک پیکٹ کھول کو اسکا پوڈر سمندر میں بہایا جا رہا تھا تھوری دیر بعد عمران اپنے فلیٹ میں بیٹھا کافی پی رہا تھاکہ فون کی گھینٹی بجے عمران فون اٹھایا تو دوسری طرف کی آواز سن کر چونک اٹھا
تم میری توقع سے زیادہ نکلے مجھے امید نہیں تھی کہ ان پسیماندہ ملکوں میں ایست زہین ایجنٹ پایں جایں گی اس بار میرا مشن بڑی طرح ناکام رہا مگر میں جلد ہی واپس آوں گا تمہاری جیلیں اتنی مظبوط نہیں کی مارکو جیسے لوگوں کو رکھ سکیں
دواری طرف ماروکو تھا فون بند ہوچکا تھا مگر عمران نے ایسا منہ بنایا جیسے کوی کڑوی چیز نگل گیا ہو مگر تھوری دیر بعد اسکے خراٹے پورے کمرے مءں ایسے گھونج رہے تھے جیسے وہ گھوڑوں کا پورا اصطبل بیچ کر سویا ہو-
ختم شد

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz

Leave a Reply

%d bloggers like this: