Historical Novels Satwant Kaur

پراسرار دروازہ ۔۔۔ ایک واقعہ جس نے برطانیہ کی تاریخ کو بدل دیا !! ( ستونت کور )

Darwaza
Written by Peerzada M Mohin


1953,
برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے ایک پسماندہ علاقے ” ٹین رلنگٹن پلیس” میں واقعہ ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ کی پہلی منزل پر موجود ایک اپارٹمنٹ کے خالی ہو جانے کے بعد ، مالک مکان نے بالائی منزل پر مقیم ایک کرایہ دار ‘بریس فورڈ براؤن ‘ کی درخواست پر اسے تازہ خالی شدہ زیریں اپارٹمنٹ میں منتقل ہونے کی اجازت دے دی ۔۔۔۔ چنانچہ براؤن نے اس نئے اپارٹمنٹ میں منتقلی کے کام کا آغاز کردیا ، اس سے پہلے کہ وہ اپنا سامان اپنی نئی رہائش گاہ میں منتقل کرتا ۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اس بوسیدہ اور انتہائی خستہ حال میں موجود اپارٹمنٹ کی مرمت و تجدید کا فیصلہ کیا ۔
اپارٹمنٹ کے دیواری غلافوں (والپیپرز) کی کٹی پھٹی ، آلودہ حالت سے صاف ظاہر تھا کہ انہیں برسوں سے تبدیل نہیں کیا گیا ۔۔۔ چنانچہ اس نے مرمت کا آغاز ادھ پھٹے والپیپرز کو دیوار سے اتانے سے کیا۔
اس نے یکے بعد دیگر اپارٹمنٹ کے کمروں کی دیواروں سے والپیپرز کو اتارنا شروع کردیا ، یہاں تک کہ وہ کچن میں جا پہنچا ۔۔۔براؤن کچن کی دیواروں سے والپیپرز کو اتار رہا تھا کہ اچانک ایک مقام سے والپیپر ہٹتے ہی عقب سے اسے لکڑی کا ایک چوکھٹا نمودار ہوگیا ۔۔۔ جس کے وہاں موجود ہونے کا کوئی جواز نہ بنتا تھا ۔
حیرت کے عالم میں براؤن سے اس چوکھٹے اور اس کے اردگرد سے والپیپرز کو اتارا ۔۔۔ جلد ہی یہ بات صاف ظاہر ہوچکی تھی کہ یہ چوکھٹا دراصل ایک چھوٹا سا دروازہ ہے ۔۔۔ اس اپارٹمنٹ کی دیوار میں ایک خفیہ دروازے کی موجودگی انتہائی غیر معمولی بات تھی ۔۔۔ براؤن نے اس دروازے کو کھولنے کی کوشش کی اور کچھ دیر تک وہ دروازے کو کھولنے میں کامیاب ہوچکا تھا ۔۔۔ دوسری جانب گھپ تاریکی تھی ۔۔۔ براؤن نے روشنی کا انتظام کیا اور جیسے ہی اس نے اس دروازے کے پار موجود چھوٹے سے کمرے پر نظر ڈالی ، اس کے وجود کا ہر خلیہ لرز کے رہ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
29 سال پہلے ۔
20 نومبر 1924 کو ویلز 🏴󠁧󠁢󠁷󠁬󠁳󠁿 کے علاقے Glamorgan کے ایک چھوٹے سے غریب قصبے میں ” ٹموتھی ایونز ” کی پیدائش ہوئی ۔
اس کا باپ اس کی پیدائش سے قبل ہی اس کی ماں کو چھوڑ کر جا چکا تھا ، اور اس کی ناخواندہ ماں ‘تھومسینا” کے پاس کوئی کل وقتی روزگار موجود نہ تھا اور وہ چھوٹے موٹے کام دھندوں سے اپنا گزارہ چلانے پر مجبور تھی ۔۔۔ گویا ایونز کی پیدائش ایک انتہائی غریب خاندان اور سخت افلاس کی حالت میں ہوئی۔۔۔ اس پر مستزاد یہ کہ ایونز کی دو بہنیں بھی تھیں، گویا اس کی ماں کو اپنے چھوٹے موٹے جز وقتی کام دھندے سے صرف اپنا ہی نہیں بلکہ تینوں بچوں کا بھی پیٹ پالنا تھا ۔۔۔ اور بچوں کی نگہداشت و پرورش کا بار بھی اسی کے کندھوں پر تھا ۔

ایونر شروع سے ہی ایک قدرے کند ذہن بچہ تھا جسے بات چیت میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔
8 سال کی عمر میں ایونز کی ماں نے اس کا داخلہ ایک سرکاری سکول میں کروا دیا تاکہ وہ کچھ پڑھ لکھ جائے اور اپنے والدین کی طرح ناخواندہ زندگی نہ گزارے ۔
تاہم قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔۔۔۔
سکول میں داخل ہوئے اسے چند ماہ ہی ہوئے تھے کہ ایونز کو پاؤں پر ” ٹیوبرکلوسس” کی تکلیف ہوگئی اور وہ عارضی طور پر چلنے پھرنے سے قاصر ہوگیا ۔۔۔ اب ایک طرف وہ سکول نہیں جا پارہا تھا تو دوسری طرف وہ اس دردناک مرض کی وجہ سے یوں بھی گھومنے پھرنے اور کھیلنے سے قاصر تھا ۔۔۔ مزید یہ کہ کام کی وجہ سے تھومسینا ہمہ وقت اس کے پاس نہیں رہ سکتی تھی چنانچہ ننھا ایونز طویل عرصے تک انتہائی اذیتناک ڈیپریشن و سٹریس سے گزرتا رہا پاؤں کی تکلیف کے ساتھ ساتھ ۔۔۔ ایک سرکاری ہسپتال سے علاج کے بعد اس کا ٹیوبرکلوسس کچھ نہ کچھ حد تک بہتر ہوگیا اور اس نے دوبارہ سکول جانا شروع کر دیا ۔۔۔ تاہم انتہائی کند ذہن اور نالائق ہونے کی وجہ سے کچھ عرصے بعد اس سرکاری سکول نے بھی اسے مزید پڑھانے سے معذرت کر لی ۔۔۔ اور یوں ایونز جس کیفیت میں سکول داخل ہوا تھا اسی کیفیت میں وہاں سے نکال دیا گیا ۔۔۔ یعنی اب بھی وہ پڑھنے لکھنے سے قاصر تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
13 سال کی عمر میں ہی اس نے بدترین غربت کی وجہ سے ہر وہ ممکن چھوٹا موٹا کام ڈھونڈنا شروع کردیا کہ جس سے گھر میں دو وقت کا کھانا آسکے۔
اس نے درجن بھر چھوٹی جابز کہیں مگر ہر مرتبہ وہ پاؤں کی تکلیف کی وجہ سے جاب سے نکال دیا جاتا تھا ۔۔۔ اور دیگر جگہوں پر اسے اس لیے کوئی جاب نہ مل سکی کیونکہ وہ بالکل ان پڑھ تھا ۔
یوں ایک کے بعد ایک جاب کی تلاش میں کھجل خوار ہونے ، ہزار کوششوں کے بعد جاب مل جانے کے بعد چند ہفتوں بعد نکال دیے جانے کے پراسیس سے وہ ان گنت مرتبہ گزرا ۔
1933 میں تھومسینا نے دوسری شادی کر لی۔ اس کا خاوند بہت متمول تو نہ تھا مگر وہ کام کرتا تھا اور تھومسینا کی نسبت زیادہ ہی کما لیتا تھا ، اس طرح ان کے حالات میں معمولی سا ہی سہی مگر کچھ سدھار آ گیا ۔
1935 میں ایونز اور اس کا خاندان لندن میں منتقل ہوگیا جہاں ان کی رہائش لندن کے ایک غریب اور پسماندہ سے علاقے نوٹنگ ہل میں ایک چھوٹے سے ، پرانے اپارٹمنٹ میں تھی ۔
حسبِ سابق ایونز یہاں بھی چھوٹی موٹی جابز ڈھونڈنے اور گزارے لائق کام کرنے میں مگن رہا ، کچھ عرصہ وہ پینٹ اور ڈیکوریشن کا کام کرتا رہا لیکن پھر وہاں سے بھی اسے کنارہ کرنا پڑا۔۔۔ یہاں تک کہ اسے ایک ڈیلیوری ڈرائیور کی نوکری مل گئی ۔
ایونز بچپن سے اب تک احساسِ محرومیں، تنہائی ، ڈیپریشن اور سخت کسمپرسی سے گزرتا آیا تھا ۔۔۔ نہ اس نے کبھی اپنے باپ کو دیکھا تھا نہ ہی وہ کبھی کوئی دوست بنا پایا تھا ۔ نہ اس کی کوئی عزت یا مرتبہ تھا نہ ہی اسے کوئی بھی شخص اہمیت دیتا تھا ۔۔۔۔ ان سب عوامل کی وجہ سے ایونز میں ایک بری عادت پیدا ہوگئی ۔۔۔ اور وہ تھی جھوٹ بولنا ، چھوٹے موٹے جھوٹ نہیں بلکہ پوری کی پوری جھوٹی کہانیاں گھڑنا اور اپنے کولیگز، محلے داروں یا دیگر میل جول رکھنے والوں کے سامنے انہیں بیان کرتے رہنا ۔۔۔۔ کبھی وہ لوگوں کو اپنی اعلیٰ تعلیمی یا سپورٹس کارکردگی کے بارے میں بتاتا ۔۔۔ کبھی ملک بھر میں اپنے خیالی سفر ، ایڈونچرز اور اہم شخصیات سے ملاقات کی داستانیں ۔۔۔ کبھی بیرون ملک سفر کے قصے ۔۔۔ الغرض وہ جھوٹ میں لپٹی طویل داستانیں گھڑنے اور انہیں مرچ مصالحہ لگا کر بیان کرنے میں ایونز مہارت حاصل کر چکا تھا ۔۔۔۔ اکثر لوگ اس کی رام کہانیوں پر بالکل یقین نہیں کرتے تھے ، لیکن بعض لوگ جو اس کے بیک گراؤنڈ سے بالکل ناواقف تھے اس کی داستانوں پر یقین کر لیا کرتے تھے ۔۔۔ اور اس کے نتیجے میں اسے وہ اہمیت یا عزت مل جاتی تھی کہ جس کا خلاء وہ بچپن سے محسوس کررہا تھا ۔۔۔ چنانچہ ، جھوٹ بولنا اور کہانیاں گھڑنا اس کا مشغلہ ہی نہیں بلکہ نشہ بن گیا ۔
۔
1947 میں ایونز کی ملاقات 18 سالہ ” بیرل سوزانہ” سے ہوئی۔
ان دونوں میں کچھ ہی باتیں مشترک تھیں یعنی کند ذہنی، ناخواندگی اور بےروزگاری ۔
ملاقات کے بعد ان دونوں میں راہ و رسم بڑھنے لگے ، یہاں تک کہ 1947 کے اواخر تک ان دونوں نے شادی کا فیصلہ کر لیا ۔
تھومسینا اور اس کے خاوند کا اپارٹمنٹ اتنا بڑا نہ تھا کہ وہاں مزید ایک بھی شخص کے ٹھہرنے کی گنجائش بن سکے ، چنانچہ ایونز نے اب تک کی درجنوں جابز سے جو تھوڑی بہت بچت کی تھی اس سے ایک نزدیکی علاقے ” ٹین رلنگٹن پلیس” کی ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ کے بالائی فلور پر ایک اپارٹمنٹ کرائے پر لینے کا انتظام کر لیا ۔۔۔
بلکہ اپارٹمنٹ کیا ، ایک پرانا سا تنگ کمرہ جہاں سوائے اشد مجبوری کے کوئی بھی نہ رہنا چاہے ۔۔۔
چند ماہ تو یوں لگا کہ جیسے ایونز کی زندگی میں کچھ توازن آگیا ہو جیسے ۔۔۔۔ اس نے اپنی ڈیلیوری ڈرائیور کی جاب جاری رکھی اور سوزانہ نے گھر سنبھال لیا ۔۔۔ لیکن ۔۔۔ ایونز بمشکل تمام ، اوور ٹائم لگا کر اور جان توڑ محنت کرکے محض اتنا ہی کما پاتا تھا کہ اپارٹمنٹ کا کرایہ دینے کے ساتھ ان دونوں کی کچھ گزر بسر ہو پائے یعنی انہیں دو وقت کا کھانا میسر ہو سکے۔۔۔۔
اور پھر اکتوبر 1948 میں قدرت نے انہیں ایک بیٹی سے نوازا جس کا نام انہوں نے گیرلڈین رکھا ۔۔۔
گیرلڈین کی پیدائش کے بعد ایونز و سوزانہ کے حالات پھر سے بگڑ گئے ، ان کے معاشی حالات پہلے ہی مخدوش تھے اور اب ایک بچے کی پرورش کی ذمہ داری بھی ان کے کندھوں پر آن پڑی تھی ۔۔۔۔ نتیجتاً ہر گزرتے دن کے ساتھ حالات کی تنگی اور سختی بڑھتی گئی ۔۔۔
ایونز کئی کئی گھنٹے اوور ٹائم لگانے کے باوجود بھی اپنے معاشی حالات کو بہتر کرنے میں کامیاب نہیں ہو پارہا تھا ۔۔۔ ایونز ہر اس شخص سے قرض لے چکا تھا کہ جسے وہ جانتا تھا اور قرض کی رقم واپس کرنے کا سوال ہی نہیں تھا۔۔۔۔ چنانچہ انہیں اپنے سروائیول کے لیے چند جگہ سے سود پے قرض لے لیا ۔۔۔ جو کہ وہ دونوں اچھی طرح سے جانتے تھے کہ اس قرض کو بھی وہ کبھی چکا نہ پائیں گے ۔
اب آئے دن ان دونوں کے درمیان سخت لڑائی جھگڑا رہنے لگا ، بات بات پر الجھنا اور تلخ کلامی تو روز کا معمول بن گیا ۔۔۔ اور ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ جھگڑے بڑھتے جارہے تھے ۔
ایک طرف کام کا لوڈ ، دوسری طرف قرضوں کا بوجھ اور اس پر ہر وقت کا لڑائی جھگڑا ۔۔۔۔ ایونز اب بدترین ذہنی تناؤ اور ڈیپریشن کا شکار ہو چکا تھا ۔۔۔ یہاں تک کہ اس نے عارضی طور پر اس دباؤ کو خود سے دور کرنے کے لیے شراب نوشی کا آغاز کردیا ۔۔۔ لیکن یہ عادت اس کے لیے مزید تباہی کن ثابت ہوئی کیونکہ شراب خریدنے کے لیے اسے مزید رقم درکار تھی جس کی پہلے ہی اس کے پاس شدید قلت تھی ، چنانچہ وہ مزید قرض کے بوجھ تلے دبتا چلا گیا ۔۔۔
اور ۔۔۔۔ یہی وقت تھا کہ جب ایونز کی ملاقات “جان کرسٹی” John Christie سے ہوئی ۔
۔
جان کرسٹی اور ایونز میں زمین آسمان کا فرق تھا ، کرسٹی جنگِ عظیم اول کا ایک غازی تھا جو بعد میں محکمہ پولیس میں بھی کام کر چکا تھا ، ایک ادھیڑ عمر معزز انسان جس کو سبھی لوگ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔۔۔ کرسٹی ایک تعلیم یافتہ اور مشفق انسان تھا اور وہ اسی اپارٹمنٹ بلڈنگ کی پہلی منزل کے ایک اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر تھا ۔
ان دونوں میں بس ایک ہی بات مشترک تھی ۔۔۔ اور وہ تھی ازدواجی مشکلات ۔
کرسٹی کی بھی اپنی بیوی سے علیحدگی ہوچکی تھی اور طویل عرصہ تک وہ الگ رہ چکے تھے ، لیکن کچھ سالوں بعد کرسٹی کی بیوی “ایتھل سمپسن” واپس اس کے پاس لوٹ آئی تھی ۔۔۔
کرسٹی روزانہ بالائی منزل سے ایونز و سوزانہ کے جھگڑے کی آوازیں سنتا تھا اور وہ اس سلسلے میں ایونز سے بات کرنا چاہتا تھا ، چنانچہ ایک روز اس نے ایونز کو گلی میں روک لیا اور اس سے گفتگو کرنے کی کوشش کی ،
اور یہ گفتگو ایونز کی زندگی میں ایک نیا باب ثابت ہوئی ۔۔۔۔ اس دن کے بعد وہ دونوں اکثر ملنے لگے ۔
کرسٹی انتہائی با اخلاق اور ہمدرد انسان تھا جو ہر ممکن طرح سے ایونز کی دلجوئی و راہنمائی کرتا تھا ۔۔۔۔ وہ دونوں گھنٹوں گھنٹوں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے رہتے ، کرسٹی اسے اپنے ملٹری اور پھر پولیس دور کی باتیں سنایا کرتا ، پہلی جنگ عظیم کے قصے سناتا تھا اور اس کی غم و اندوہ سے بھری آپ بیتیاں سنا کرتا تھا ۔۔۔ کچھ ہی وقت میں وہ دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب ہو گئے۔۔۔۔ ایونز ، جس نے کبھی اپنے باپ کو نہ دیکھا تھا اسے کرسٹی میں باپ کا سایہ نظر آتا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
30 نومبر 1949،
ایونز ایک تھانے میں پہنچا اور اس نے مخدوش حالت میں پولیس کے سامنے یہ بیان دیا کہ ” مجھ سے حادثاتی طور پر اپنی بیوی کا قتل ہوگیا ہے۔۔۔۔”
www.urdunovels.info

نومبر 1949 میں سوزانہ نے ایونز کو بتایا کہ وہ دوسری مرتبہ پریگننٹ ہے ۔ اور یہ خبر سن کر ایونز کے اوسان خطا ہوگئے ۔
وہ پہلے ہی بمشکل تمام ، قرضوں کے پہاڑ تلے دب کر اپنی بیوی اور بیٹی کا پیٹ پال رہا تھا وہ بھی کئی گھنٹے اوور ٹائم لگا کر ۔۔۔ ایک اور بچے کی پیدائش کا مطلب اس کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ تھا جبکہ اس وقت اس کے پاس محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً ایک پھوٹی کوٹی بھی نہ تھی ۔
اس دور میں برطانیہ میں اسقاط حمل سخت غیر قانونی اور قابلِ سزا جرم تھا ۔۔۔ چنانچہ کسی بھی پبلک ہسپتال یا کلینک میں ایسی کوئی سہولت قطعاً موجود نہ تھی ۔۔۔ چوری چھپے یہ کام سرانجام دینے والے بعض سرجن موجود تھے لیکن ظاہر ہے ایک مکمل طور پر غیر قانونی اور رسکی کام کے عوض وہ انتہائی بھاری معاوضہ لیتے جبکہ اس وقت ایونز کو یہ تک اندازہ نہیں تھا کہ وہ اگلے وقت کا کھانا کھا پائے گا یا نہیں!!
چنانچہ وہ اس مخدوش کیفیت میں کرسٹی کے پاس گیا اور اسے یہ خبر سنائی ،
کرسٹی نے اسے تسلی دینے کی حتیٰ الامکان کوشش کی کہ فکر نہ کرو امید ہے تمہیں مزید قرضہ مل جائے گا اور کوئی بہتر جاب مل جائے گی جس سے تم دوسرے بچے کے اخراجات اٹھانے کے قابل ہو جاؤ گے ۔۔۔”
لیکن۔۔۔۔
بعد میں کرسٹی نے عدالت کے کٹہرے میں یہ بیاں دیا تھا کہ ” جس وقت ایونز میرے پاس آیا تو اس کی حالت اس قدر تشویشناک تھی کہ اسے تسلی دینا اب امکان سے باہر ہو چکا تھا ۔۔۔ اس وقت واضح طور پر مجھے یہ خوف محسوس ہوا کہ کہیں اب ایونز کچھ برا نہ کر گزرے”.
۔۔۔۔۔۔۔
30 نومبر 1949 ،
ایونز ویلز کے ایک پولیس سٹیشن میں داخل ہوا اور اس نے ڈیوٹی پر موجود افسران کو بیان دیا کہ ” مجھ سے غلطی سے اپنی بیوی کا قتل ہوگیا ہے ۔۔۔ میں اسے ایک ہلکی نوعیت کا زہر دے رہا تھا تاکہ اس کا حمل ضائع ہوجائے لیکن وہ اس کی تاب نہ لا سکی اور جاں بحق ہو گئی۔۔۔ میں نے اپنی بیٹی گیرلڈین کو ایک دوست کے حوالے کیا کہ وہ اس کی دیکھ بھال کرے اور خود لندن سے فرار ہوکر ویلز آگیا تاکہ روپوش ہو سکوں لیکن یہاں آکر مجھے شرمندگی و پشیمانی نے آن گھیرا چنانچہ میں نے گرفتاری دینے کا فیصلہ کرلیا “
ایونز کو فی الفور گرفتار کرلیا گیا اور لندن منتقل کردیا گیا اس کے علاقے کے متعلقہ پولیس سٹیشن میں ۔۔۔
جب ابتدائی تحقیقات کے دوران پولیس نے اس سے سوزانہ کہ لاش سے متعلق استفسار کیا تو پہلے وہ کچھ دیر خاموش رہا اور پھر اس نے بتایا کہ ” میں نے سوزانہ کی لاش کو بلڈنگ کے نزدیک مین ہول میں پھینک دیا تھا ۔۔۔”
چنانچہ چند پولیس اہلکاروں کو اس مین ہول کی طرف روانہ کردیا گیا ۔
جب وہ اہلکار اس مین ہول تک پہنچے اور ایک پولیس افسر نے ڈھکن ہٹانے کی کوشش کی تو وہ ڈھکن بہت بھاری تھا جسے وہ ہلا بھی نہ سکا ،
صاف ظاہر تھا کہ ایک اکیلا شخص تو اس ڈھکن کو ہٹا ہی نہیں سکتا۔
تین پولیس اہلکاروں نے پوری قوت صرف کر کے مین ہول کا ڈھکن ہٹایا اور لیکن تفصیلی معائنے کے بعد اندر سے کوئی لاش نہ برآمد ہوئی ۔۔۔”
جب تھانے میں ایونز کے سامنے یہ بات رکھی گئی کہ بھئی وہاں تو تمہاری بیوی کی لاش موجود نہیں ہے ۔۔۔ اور یہ بتاؤ کہ تمہاری بیٹی کس دوست کی نگرانی میں ہے ؟؟؟”
اتنا کہنے پر ایونز نے فوراً اپنا بیان بدل لیا ۔۔۔۔
اب کی بار اس نے کہا کہ ” میں نے یہ سب کرسٹی کے کہنے پر کیا ، یعنی سوزانہ کو ہلکی زہر خورانی کے زریعے اسقاط حمل کی کوشش۔۔۔ اس نے یہ بھی کہا کہ گیرلڈین کرسٹی کے پاس ہے۔”
پولیس جب اس بیان کے بعد کرسٹی کے اپارٹمنٹ پر پہنچی اور اس نے کرسٹی کو ایونز کے اس بیان سے مطلع کیا تو کرسٹی جیسے بری طرح سے شاک میں آگیا ۔۔۔۔ اس نے کہا کہ مجھے تو اس سارے مدعے کا سرے سے علم ہی نہیں کہ کب ہوا اور کیا ہوا ۔”
اسی دوران لندن پولیس نے سوزانہ کی لاش کی برآمدگی کے لیے ٹین رلنگٹن پلیس پر بڑے پیمانے کے سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ۔۔۔اور ۔۔۔ انہیں بس چند گھنٹے ہی لگے اس کام کو سرانجام دینے میں ، ایک نزدیکی لانڈری کے عقب سے ایک بندھی ہوئی چادر برآمد کر لی گئی ، اور جب اسے کھولا گیا تو اس میں سے سوزانہ اور ننھی گیرلڈین کی لاشیں برآمد ہوئیں۔۔۔ دونوں کو کسی رسی کی مدد سے دم گھوٹ کر مارا گیا تھا ۔۔۔”
گویا۔۔۔۔
گیرلڈین بھی مر چکی تھی اور ایونز کا یہ بیان بھی غلط تھا کہ گیرلڈین اس کے کسی دوست کی فیملی کے پاس ہے۔
ایونز پر فی الفور دوہرے قتل کا جرم عائد کردیا گیا ۔۔۔
مزید تحقیق و تفتیش زیادہ طویل ثابت نہ ہوئی ۔۔۔ ایونز پہلے ہی جھوٹ پر جھوٹ بول کر اپنا کیس خراب کر چکا تھا ۔
عدالت میں اس کے کئی کولیگز ، قرابت داروں اور محلے داروں نے بیان دیا کہ ایونز کو جھوٹ بولنے اور فرضی کہانیاں گھڑنے کی پرانی عادت ہے۔
بیس سے زائد لوگوں نے بیان دیا کہ وہ لوگ بےشمار مرتبہ ایونز و سوزانہ کے گھر سے سخت لڑائی جھگڑے کی آوازیں سن چکے ہیں۔
اور۔۔۔ایونز کا معاشی ریکارڈ چیک کرنے پر پتا چلا کہ وہ بےپناہ قرضے کی بوجھ تلے دبا ہے گویا اس کے پاس قتل کی ایک ٹھوس وجہ بھی موجود تھی ۔
حتمی تفتیش کے دوران جب ایونز سے سوال کیا گیا کہ ” کیا اپنی بیوی و بچے کی موت کے ذمے دار تم ہو ؟”
تو اس نے مختصر جواب دیا ” ہاں “.
11 جنوری 1950 کو عدالتی کارروائی کا آغاز ہوا ۔۔۔۔
20 فروری کو عدالت نے ایونز کو اپنی بیوی سوزانہ اور بیٹی گیرلڈین کے قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنا دی۔
۔
9 مارچ 1950 کو ایونز کو لندن کی پینٹنویل جیل میں تختہِ دار پر لٹکا دیا گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پراسرار دروازہ :
ایونز کی موت کے 3 سال بعد 1953 میں جان کرسٹی نے ٹین رلنگٹن پلیس میں اپنا اپارٹمنٹ چھوڑ دیا اور بلڈنگ کے مالک نے بالائی منزل پر مقیم کرایہ دار بریس فورڈ براؤن کو نچلی منزل پر ، کرسٹی کے چھوڑے اپارٹمنٹ میں منتقل ہونے کی اجازت دے دی ۔
چنانچہ جیسے کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا کہ براؤن نے اپنا سامان زیریں اپارٹمنٹ میں منتقل کرنے سے قبل اس کی مرمت کا قصد کیا ۔۔۔ اور جب وہ دیواروں سے والپیپرز اتار رہا تھا تو اسے کچن کی ایک دیوار سے والپیپر اتارنے پر عقب میں ایک چھوٹا چوبی دروازہ نظر آیا ۔۔۔۔ جس کو کھولنے پر دوسری طرف ایک چھوٹا سا کمرہ تھا ۔۔۔ اور اس کمرے میں کچھ انسانی ڈھانچے ، ہڈیاں اور کچھ جراحت کا سامان ، کچھ عجیب و غریب آلات موجود تھے ۔
گھبراہٹ کے عالم میں براؤن نے فوراً پولیس کو اطلاع کردی ۔۔۔ پولیس نے کرسٹی کے اپارٹمنٹ کو اپنی تحویل میں لے لیا ۔۔۔
اور۔۔۔۔
جیسے جیسے پولیس کرسٹی کے اپارٹمنٹ کی تلاشی لیتی جارہی تھی ان پر ایک کے بعد ایک ہولناک انکشاف ہوتا جارہا تھا ۔
∆ کرسٹی کے خفیہ کمرے سے 4 خواتین کے ڈھانچے برآمد ہوئے ۔
∆ کرسٹی کے بیڈ کے نیچے زمین کھودنے پر کرسٹی کی بیوی کی باقیات برآمد ہوئیں۔
∆ بیک یارڈ کی کھدائی کرنے پر کچھ انسانی ہڈیاں برآمد ہوئیں۔
∆ کرسٹی کے خفیہ کمرے سے کچھ عجیب و غریب خودساختہ آلات برآمد ہوئے ۔
۔۔۔۔
کرسٹی جو اب وہاں سے جا چکا تھا ، پولیس نے اس کی تلاش پر کام شروع کردیا ۔ 31 مارچ کو کرسٹی کو لندن ہی کے ایک دوسرے علاقے سے گرفتار کرلیا گیا ۔
۔۔۔۔
تحقیقات کے دوران پولیس پر انکشاف ہوا کہ جان کرسٹی ایک ‘ سیریل کلر ‘ ہے جو اپنی بیوی ایتھل سمپسن اور ایونز کی بیوی سوزانہ سمیت 8 بےگناہ خواتین کی جان لے چکا ہے ۔۔۔ ان سب کی لاشوں کو اس نے اپنے اپارٹمنٹ میں ہی ڈمپ کر دیا تھا ، البتہ ایونز کی گرفتاری کی خبر سننے پر اس نے سوزانہ و گیرلڈین کی لاشوں کو چادر میں لپیٹ کر نزدیکی لانڈری کے عقب میں جا پھیکنا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ پولیس سوزانہ کی لاش کو کھوج نکالنے کی ہرممکن کوشش کرے گی اور وہ اپنے اپارٹمنٹ کو رسک میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا ۔
لیکن۔۔۔۔ 1949 میں آخر ہوا کیا تھا ؟؟
ہوا کچھ یوں تھا کہ جب ایونز ، سوزانہ کے دوسری مرتبہ پریگننٹ ہونے کی تشویش ناک خبر لے کر کرسٹی کے پاس پہنچا تو کرسٹی نے اسے اطمینان دلایا اور اسے بتایا کہ وہ کچھ سال فوج کی میڈیکل کور میں کام کر چکا ہے اور بعد میں کچھ عرصہ ایک سرجن کے ساتھ بھی معاون کا کام کر چکا ہے اور وہ خود سوزانہ کا اسقاط حمل کر سکتا ہے ۔۔۔ یہ سن کر ایونز کی جان میں جان آئی اور اس نے سوزانہ سے اس سلسلے میں بات کی جو کہ اس بات پر رضامند ہو گئی ۔
اور اس روز کرسٹی نے سوزانہ کو اپنے اپارٹمنٹ میں لا کر اپنے خفیہ کمرے میں، اسقاط حمل کے نام پر اسے اپنی بنائی ایک خودساختہ ڈیوائس کی مدد سے بیہوشی کی دوا دے کر بیہوش کردیا ۔۔۔ اور پھر ایک ٹائی کی مدد سے پہلے اسے دم گھوٹ کے مار ڈالا ۔۔۔ اور پھر بیڈروم میں سو رہی ننھی گیرلڈین کو بھی اسی ٹائی کی مدد سے دن گھوٹ کے ختم کر دیا ۔
اس وقت ایونز کام پر گیا تھا ، جسے کرسٹی کے یقین دلایا تھا کہ سرجری کا کام محظ نصف گھنٹے کا ہے اور اس دوران وہ گیرلڈین کا بھی خیال رکھے گا ۔۔۔ لیکن۔۔۔ جب ایونز واپس لوٹا تو کرسٹی نے اسے گھبراہٹ کے عالم میں بتایا کہ دورانِ ابارشن سوزانہ کی موت واقعہ ہوگئی ہے ۔۔۔
اب کیونکہ معاملہ ابارشن کا تھا جو کہ ایک جرم اور سخت غیر قانونی فعل تھا ۔۔۔ تو کرسٹی نے ایونز سے کہا کہ تم واپس ویلز فرار ہو جاؤ میں گیرلڈین کا خیال رکھوں گا ( جسے بھی وہ مار چکا تھا ) گھبراہٹ و حواس باختگی کے عالم میں ایونز ویلز فرار ہوگیا لیکن جیسے ہی اسے پشیمانی کا احساس ہوا اس نے گرفتاری دے دے دی ۔۔۔۔ تو جب پولیس نے اس سے لاش کے بارے میں پوچھا تو اس نے اندازے سے مین ہول کا بتادیا کیونکہ اسے علم ہی نہ تھا کہ کرسٹی نے سوزانہ کی لاش کہاں پھینکی ہوگی ۔۔۔
لیکن اس نے پہلی مرتبہ کرسٹی کا نام لینے کے بجائے یہ کیوں کہا کہ اس نے خود سوزانہ کو ہلکی نوعیت کا زہر دے کر اسقاط حمل کی کوشش کی۔۔۔
وہ دراصل اپنے باپ جیسے مشفق مہربان کرسٹی کو بچانے کی کوشش کررہا تھا ۔۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اتنا عرصہ اسے جذباتی سہارا دینے والے کرسٹی کو کوئی تکلیف پہنچے !!
لیکن ۔۔۔ جب اسے پولیس نے گیرلڈین کی لاش کی برآمدگی کی اطلاع کی تو اسے اندازہ ہوا کہ کرسٹی در حقیقت ایک درندہ صفت نفسیاتی مریض ہے جس نے سوزانہ کے ساتھ ساتھ اس ننھی گیرلڈین کو بھی مار ڈالا کہ جس کے متعلق اس نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ اس کا خیال رکھے گا اور اس کی پرورش کرے گا ۔۔۔ لیکن جب ایونز نے پولیس کے سامنے کرسٹی کا نام لیا تو کوئی بھی اس کی بات سننے کو تیار نہیں تھا کیونکہ سب کی نظر میں وہ ایک ازل کا جھوٹا اور کہانی ساز تھا ۔۔۔۔ جبکہ کرسٹی سب کی نظر میں پہلی جنگ عظیم کا ہیرو ، ایک معزز انسان اور صاف ریکارڈ کا مالک شخص تھا ۔
اور جب حتمی تفتیش میں پولیس نے ایونز سے پوچھا کہ کیا وہ اپنی بیوی اور بچی کی موت کا ذمہ دار ہے تو سخت جذباتی شاک سے گزر رہے ایونز نے اعتراف کرلیا کیونکہ وہ واقعی اب خود کو اس سانحہ کا ذمہ دار سمجھ رہا تھا کرسٹی پے اعتبار کرکے۔
اس طرح ۔۔۔۔ ایونز ایک ایسے جرم کی پاداش میں موت کے گھاٹ اتر گیا کہ جو اس نے کبھی کیا نہ تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جان کرسٹی کو اس کے سنگین جرائم کے عوض 15 جولائی 1953 کو تختہ دار پہ لٹکا دیا گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
18 اکتوبر 1966 کو حکومت نے ٹموتھی ایونز کو باضابطہ طور پر بےگناہ قرار دیتے ہوئے باعزت بری کر دیا ۔۔۔ لیکن۔۔۔ اس کے لیے بہت دیر ہوچکی تھی !!
۔۔۔۔
یہ واقعہ ان کئی وجوہات میں شامل ہے کہ جس کے باعث برطانیہ میں سزائے موت کو ختم کردیا گیا ہے۔

شیئر کرنا مت بھولیے ۔۔۔۔

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz

Leave a Reply

%d bloggers like this: